فضل الرحمان خان ۔ سٹرکچرل انجینرنگ کا آئن سٹائن
آج کل کے غیر مسلم اور کچھ مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی میں پچھلے ایک ہزار سال سے مسلمانوں کا کوئی ہاتھ نہیں۔ وہ شاید فضل الرحمان خان جیسے مسلم سائنس دانوں سے واقف نہیں۔ یہ بلند و بالا عمارتیں جن پر آج دنیا ناز کرتی ہے اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں ہے، ان کا وجود فضل الرحمان خان کے تخلیق کردہ ڈیزائن کے بغیر نا ممکن تھا۔
سٹرکچرل انجینرنگ کا آئنسٹائن مانے جانے والے اس گمنام مسلم سائنس دان کے بارے میں آئیے کچھ مختصر طور پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ 3 اپریل 1929 ء کو ڈھاکہ ( موجودہ بنگلہ دیش کا دارالخلافہ ) میں پیدا ہوئے۔ موجودہ بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے سول انجینرنگ کرنے کے بعد آپ نے 1952 ء میں امریکہ کا اسکالر شپ پایا۔ وہاں سے سٹرکچرل انجینرنگ اور تھیوریٹیکل اپلائڈ میکینکس میں ماسٹرز کرنے کے بعد سٹرکچرل انجینرنگ ہی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
آپ نے اپنے پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز امریکہ کے آج تک مشہور زمانہ کمپنی ”سکڈمور، اوونگس اینڈ میرل“ سے 1955 ء میں کیا۔ آپ کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے جلد ہی 1966 ء میں آپ کو پارٹنر کی حیثیت دے دی گئی۔ ساٹھ کی دہائی میں آپ نے شکاگو کا سب سے پہلا اور اونچا سو منزلہ عمارت ”جان ہینکوک سینٹر“ کو ڈیزائن کیا۔ اور بہت جلد 1973 ء سے 1998 ء تک پچیس سال تک دنیا کے بلند ترین عمارت کا ٹائٹل لئے ”ویلس ٹاؤر“ کو ڈیزائن کیا جس نے آپ کے تخلیق کردہ سسٹم ”ٹیوب سٹرکچرل سسٹم“ کو پوری دنیا میں چار چاند لگا دیے۔
مسلم سائنس دان فضل الرحمان خان کے ایجاد کردہ اس خاص سٹرکچرل سسٹم کو دنیا کے تمام بلند ترین عمارتوں بشمول دنیا کے موجودہ بلند ترین عمارت ”برج خلیفہ“ کی بنیاد گردانا جاتا ہے، اس سسٹم کے بغیر ان عمودی بلند عمارتوں کا تصور بس ایک خواب رہ جاتا۔ آپ کے خدمات کو سراہتے ہوئے آپ کو ”سٹرکچرل انجینرنگ کا آئنسٹائن“ اور ”بیسویں صدی کا سب سے عظیم انجنیئر“ کے خطابات سے نوازا گیا۔ آپ کے نام پر بلند عمارتوں کی دنیا میں ”فضل الرحمان خان لائف ٹائم اچیومنٹ میڈل“ کے نام سے ایوارڈ بھی جاری کیا جا چکا ہے۔
بلند عمارتوں کے علاوہ آپ نے کئی اور قسم کے سٹرکچرز بھی ڈیزائن کیے جیسے حج ائرپورٹ ٹرمنل اور بہت سے اسٹیڈیم وغیرہ۔ آپ نے ایک انتہائی زبردست شمسی ٹیلی سکوپ بھی بنایا تھا۔ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، مگنفسنٹ مائل، اونٹیری سینٹر، حج ٹرمنل، جان ہینکوک سینٹر اور ویلس ٹاؤر آپ کے ڈیزائن کردہ شاہکار آج بھی آپ کی یاد دلاتی ہیں۔
آپ کو امریکہ کی شہریت سے بھی نوازا گیا تھا۔ آپ 27 مارچ 1982 ء کو 52 سال کی عمر میں جدہ ( سعودی عرب) میں انتقال کرنے کے بعد امریکہ کے شہر شکاگو میں مدفون ہیں۔
فضل الرحمان خان جیسے بہت سارے گمنام مسلم سائنس دان ہیں جنہوں نے جدید سائنس کی آبیاری میں کار ہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں، جن سے غیر مسلم سمیت مسلم بھی لاعلم ہیں۔




