قوم، ملک، سلطنت (کہانی)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیامت، قیامت کی چال چل چکی ہے!
فضا میں معلق زمین کے گولے سمیت کائنات کے تمام گولے آپس میں ٹکرا کر ایک بگ بینگ کے ساتھ پارہ پارہ ہوچکے ہیں!
حسب توقع روئی کے گالوں کی طرح بکھر چکا ہے جہاں!
اب حد نگاہ سے بھی آگے تک انسانی سروں کا لامتناہی سمندر ہے جو عالم نفسانفسی میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور جسم ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں!

کہتے ہیں کہ بہت آگے کہیں خدا بہ ذات خود ہر ایک سے سوال بھی کر رہا ہے اور فیصلے بھی لکھ رہا ہے!
لیکن ابھی خدا ہماری نگاہ سے اوجھل ہے اور انسانی قطاریں ہزار ہا برس جتنی طویل ہیں!
سورج سوا نیزے کے فاصلے سے سروں پر کھڑا ہے اور زمین کی تپش اتنی ہے کہ پیر اکھڑ اکھڑ جاتے ہیں!
میرے آگے کھڑا شخص زمین کی اس دہکتی تپش سے ننگے پیروں پر اچھل کر میری جانب گھوم جاتا ہے۔

کیا دیکھتا ہوں کہ یہ تو میرے ملک کا بادشاہ ہے!
بادشاہ تو ہے مگر قیامت کی اس گھڑی بالکل مجھ جیسا دکھ رہا ہے!
میری طرح ماتھا پسینے سے تر!
چہرہ دھول سے اٹا ہوا!
چہرے پر خوف و وحشت!
وہی میری طرح پیاس سے سوکھے ہونٹ اور چٹختی زبان!
نہ تاج! نہ ریشم! نہ اطلس و کمخواب! نہ لعل و جواہر اور نہ جاہ و جلال!
عجب! کہ ہے مگر میرے ملک کا بادشاہ!

آنکھیں چار ہوتے ہی میرا عادی جسم آپ ہی آپ، روبوٹ کی طرح جھک جھک کر بادشاہ کے حضور فرشی سلام پیش کرتا ہے!
تم مجھے جانتے ہو؟
بادشاہ بے یقینی سے پوچھتا ہے۔

ہاتھ جوڑ کر عرض کرتا ہوں کہ ”حضور
آپ مجھے نہیں جانتے پر میں آپ کی رعایا کا ایک ادنیٰ سا کیڑا مکوڑا ہوں۔
زہے نصیب کہ آج میں آپ کو اپنی گنہگار آنکھوں سے اتنا قریب سے دیکھ رہا ہوں!
میرے لائق کوئی خدمت ہو تو حکم کیجیے عالی جاہ!
میں بجاآوری کے لیے حاضر ہوں“

میں یہ کہتا ہی ہوں کہ اگلے ہی لمحے میرے ملک کا بادشاہ مجھ گدا کے سامنے سسک پڑتا ہے!
”پانی۔ ۔ ۔ پ۔ ۔ ۔ ا۔ ۔ ۔ ن۔ ۔ ۔ ی“
”دو گھونٹ پانی لا دو گے کہیں سے؟“
”اس زمین پر پانی کہیں نہیں ہے حضور!
کچھ اور کہیے۔ شاید پیش کر سکوں!“

بادشاہ سروں پر ٹھہرے آگ اگلتے سورج کو بے بسی سے دیکھتے ہوئے التجا بھرے انداز میں سسکتا ہے۔
”اچھا! ۔ تو پھر تھوڑی سی چھاؤں لا دو کہیں سے!“
”میرا بادشاہ مجھے حکم دے اور حیف مجھ پہ اگر میں بجا نہ لاؤں!
مگر اس زمین پر چھاؤں کہیں نہیں ہے حضور!“

اسی دوران انسانی قطاریں ذرا آگے کو اس طرف حرکت کرتی ہیں، جس طرف کہتے ہیں کہ خدا بہ ذات خود حساب لے رہا ہے اور فیصلے لکھ رہا ہے۔

بادشاہ میرا کھردرا ہاتھ اپنے نفیس ہاتھ میں یوں جکڑ لیتا ہے جیسے میلے میں کھویا ہوا بچہ!
”مجھے تنہا چھوڑ کر مت جانا پلیز“

”میری کیا مجال کہ میں آپ کو چھوڑ کر کہیں اور جاؤں حضور!
میرا تو کام ہی آپ کے قدموں سے لپٹے رہنا ہے“

قطاریں کچھ اور آگے ہوتی ہیں۔
دھکم پیل سے گھبرا کر بادشاہ پھر آنسوؤں کے ساتھ سسک پڑتا ہے اور بے یقینی سے پوچھتا ہے۔
”تم سچ مچ میری رعایا ہو نا؟“
”مجھے اپنا زرخرید غلام سمجھیے حضور!“
”میں اگر گر پڑوں تو مجھے اٹھا لو گے نا؟“
”میں آپ کو گرنے ہی نہیں دوں گا حضور! وہ غلام بھی بھلا غلام ہوا جو اپنے بادشاہ کے قدموں کو کھڑے رہنے کے لیے اپنا جسم پیش نہ کرے!
میری وفا پر یقین کیجیے حضور!“
بادشاہ کی آنکھوں میں میری وفا پر یقین اتر آتا ہے۔

یوں میں اور میرے ملک کا بادشاہ ٹھاٹھیں مارتے انسانی سمندر میں کچھ اور آگے دھکیلے جاتے ہیں۔
گو کہ خدا ابھی بہت بہت دور ہے اور ہزار ہا برس کا فاصلہ ابھی درمیاں ہے!
مگر اچانک راستے میں ایک چیک پوسٹ آجاتی ہے، بالکل ایسی جیسی ہمارے ملک میں جگہ جگہ بنی ہوتی تھیں۔
جہاں ہر گزرنے والے کو روک کر تلاشی لی جاتی تھی۔
مگر اس چوکی پر وردی والے نہیں، بلکہ سفید پروں والے دو عجب پراسرار چہرے بیٹھے ہیں۔
مجھے اور میرے ملک کے بادشاہ کو یہ کہہ کر روک لیا جاتا ہے کہ تلاشی لینی ہے۔

بادشاہ سہم کر میری طرف دیکھتا ہے۔
”انہیں بتاؤ کہ میں کون ہوں!“

میں ہاتھ جوڑ کر سفید پروں والے عجب چہروں کو کہتا ہوں کہ ”مائی باپ! یہ میرے ملک کے بادشاہ ہیں۔ ۔ ۔
یہ زمین پر خدا کے نائب تھے۔ ۔ ۔
زمانہ ان کے آگے سرنگوں رہا ہے اور ان کے جاہ و جلال کا گواہ ہے۔ ۔ ۔
کبھی کوئی گردن ان کے روبرو اٹھی نہیں۔ ۔ ۔
ایسے بادشاہوں کی تلاشی نہیں لی جاتی مائی باپ! ۔
اور میں ان کی رعایا کا ایک دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ ۔ ۔ ان کی جگہ آپ مجھ کمی کمین کی تلاشی لے سکتے ہیں“

دونوں عجب چہرے سپاٹ ہیں!
اپنے سفید پر پھڑپھڑاتے ہیں،
رجسٹر کھولتے ہیں اور سرد آواز میں کہتے ہیں کہ ”بادشاہوں کی ہی تلاشی لینے کا حکم ہے“
پھر وہ میرے بادشاہ کی تلاشی لینا شروع کردیتے ہیں۔

ایک ایک کر کے دل اور دماغ کے بخیے ادھیڑتے چلے جاتے ہیں!
حیراں ہوں کہ کیسے کیسے معاملات ہیں جو میرے بادشاہ کے دل و دماغ سے نکل نکل کر ان کے روبرو ڈھیر ہوئے جاتے ہیں!
ایک بھی معاملہ مجھ جیسے کم علم و کم فہم کی سمجھ کا نہیں!
کہاں شاہی معاملات اور کہاں میں!

اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ان لاتعداد معاملات کے ڈھیر پر ایک میں بھی رکھا ہوں!
پہلے تو میں خود کو پہچان ہی نہیں پاتا کہ یہ میں ہو سکتا ہوں!
وہ بھی ان شاہی معاملات میں پڑا ہوا!
جبکہ میرے بادشاہ کو تو یہ خبر ہی نہ تھی کہ مجھ جیسا کوئی بندہ گندا اس کی رعایا میں کہیں پڑا ہے!
دل چاہتا ہے کہ خود کو بادشاہ کے معاملات میں سے گندی مکھی کی طرح چٹکی میں پکڑ کر اٹھا لوں!

مگر اس سے پہلے ایک سفید پروں والا اپنی شفاف شیشے جیسی ہتھیلی پر میرا میلا کچیلا، انگوٹھے برابر کا وجود رکھ چکا ہے!

اب وہ دونوں بادشاہ سے مخاطب ہیں۔
”اسے جانتے ہو؟“
” ابھی ابھی اسی سے سنا ہے کہ یہ میری رعایا کا ایک معمولی شخص ہے“
”یہ بھوک سے بلبلاتا رہا ہے تمہاری سلطنت میں، تمہیں معلوم ہے؟“

میں دل ہی دل میں ہنس دیتا ہوں کہ بھلا یہ بھی کوئی سوال ہے جو کسی بادشاہ سے کیا جائے!
بادشاہ کا کام گشت کر کے بھوکوں کی خبر رکھنا تو نہیں!
بادشاہ بھی انکار میں سر ہلا دیتا ہے۔

وہ اگلا سوال کرتے ہیں۔
”ایک دن تمہاری شاہی سواری کی وجہ سے راستے بند ہو گئے تھے، اس شخص کی بیوی ہسپتال پہنچ نہ سکی اور سڑک پر بچہ پیدا کرتے ہوئے مر گئی۔ ۔ ۔
تمہیں معلوم ہے؟ ۔“
بادشاہ پھر انکار میں سر ہلا دیتا ہے۔

میں پھر دل ہی دل میں ہنس دیتا ہوں کہ یہ بھی کوئی سوال ہے!
بادشاہ کو کیسے پتہ چلے کہ سڑک کنارے پھنسے ہجوم میں میری بیوی مر جائے گی!
یہ تو خدا کا معاملہ ہے کہ جس نے عین اس وقت اجل کو حکم کیا کہ جاکر درد زہ میں مبتلا اس عورت کی روح قبض کر۔
ہم نصیب کی موت مرتے ہیں۔
شاہی سواری کا کیا قصور!

وہ دونوں پھر اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں اور اگلا سوال کرتے ہیں۔
مگر ایک بار پھر مجھ ناچیز ہی کے بارے میں!
”تمہاری سلطنت میں اس شخص کو تمہارے پہریداروں نے دستانے پہن کر قتل کیا۔ ۔ ۔
پھر ان دستانوں کو تمہاری کرسی کے نیچے دبا دیا گیا۔ ۔ ۔
تم جانتے تھے نا کہ تمہاری کرسی کے نیچے خون آلود دستانے دبے رکھے ہیں!“

وہ میرے خون کا الزام بھی میرے بادشاہ کے سر ڈال دیتے ہیں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک تنکا برابر آدمی دو طاقتوں کے بیچ پھنس چکا ہوں!

بادشاہ ایک سرسری نگاہ مجھ پر ڈالتا ہے،
”مجھے نہیں معلوم کہ وہ یہ شخص تھا!
مگر میں نے سنا تھا کہ وہ جو بھی تھا، میرے پہریداروں کو شک تھا کہ وہ غدار تھا۔ ۔ ۔
باغی تھا۔ ۔ ۔“

میری ہنسی میرے حلق میں پھنسی رہ جاتی ہے۔
میں!
میں غدار تھا!
میں باغی تھا!
مجھے تو پیٹ پوجا سے ہی فرصت نہ ہوئی کبھی۔
پیٹ کی پوجا تو بندے کو بزدل بنا دیتی ہے!
ہاں بھوکے کے منہ سے نوالہ چھینو تو بلبلا کر چار بول تو منہ سے اگلے گا ہی!
میرے بھی بھوک سے مروڑ کھاتے پیٹ نے چند نعرے اگلے تھے شاید!
میرے منہ میں خاک!
بس یہ کہا تھا کہ خاک ایسی سلطنت پر جو رعایا کا حق ادا نہ کرسکے!

دونوں سفید پروں والے اب بادشاہ پر بپھر چکے ہیں،
”صرف شک کی بنا پر تمہارے پہریداروں نے اسے مار دیا!
کیسے بادشاہ ہو تم کہ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ شک کی بنیاد پر تو ملزم کو معافی تک ہوجاتی ہے!
انسانی جان کی اہمیت سمجھتے ہو؟“

بادشاہ اب چپ ہے۔
میں بھی ساکت ہوں۔
وہ دو بول رہے ہیں۔
”ملک، سلطنت، ریاست، اقتدار، یہ سب فقط اس زمین پر رہنے والے انسانوں کی بقا کے لیے ہوتا ہے، یہ معلوم ہے تمہیں؟“
بادشاہ چپ اور میں حیران!

”اگر ملک، سلطنت، ریاست، اقتدار اپنے دائرے میں رہتی انسانی جانوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر ان سب کا وجود بے معنی ہے، یہ معلوم ہے تمہیں؟“
جواب میں ہم دونوں ساکت۔

”اگر ملک، سلطنت، ریاست، اقتدار رعایا کو ان کے حق برابر نوالہ دینے کے بجائے اس نوالے سے اپنے مفادات کی خرید و فروخت کرتے ہوں تو بھوکے کا بلبلانا غداری نہیں کہلاتا۔ ۔ ۔
بلکہ بھوکی رعایا کی بلبلاہٹ کو کچلنا غداری ہے۔ ۔ ۔ یہ جانتے ہو؟“

بادشاہ ساکت۔
”ملک، سلطنت، ریاست، اقتدار، ان انسانوں کے دم سے قائم رہنا چاہیے جو ان کے زیر تسلط زمین پر بستے ہیں۔ ۔ ۔
نہ کہ طاقت کا کھیل کھیلنے کے لیے۔ ۔ ۔
یہ جانتے ہو؟“
میں بھی چپ اور بادشاہ بھی چپ۔

اچانک ایک سفید پروں والا بلند آواز سے کسی کو پکارتا ہے، جیسے فوجی افسر اپنے ماتحتوں کو آواز دیتا ہے۔
پلک جھپکتے میں ان ہی جیسے سفید پروں والے ماتحت آ جاتے ہیں۔
انہیں افسرانہ انداز میں حکم دیا جاتا ہے۔
”یہ اپنے ملک کا بادشاہ تھا۔ ۔ ۔ اسے اس کی سائز کے مطابق زنجیریں ڈالو“
آن کی آن میں زنجیریں اتر آتی ہیں۔

مگر بادشاہ کا سائز!
ان زنجیروں کا تو پھیلاؤ ہی اتنا ہے کہ اس میں میرے ملک کی پوری زمین اپنے ایک ایک شہری سمیت آ جائے!
گونج اتنی ہے کہ جیسے قیامت میں ایک اور قیامت برپا ہونے کو ہو!
دیکھتے ہی دیکھتے بادشاہ کو زنجیریں جکڑ لیتی ہیں۔
ہتھکڑیاں اور بیڑیاں بن جاتی ہیں۔
اور وہ اسے میری آنکھوں کے سامنے سے کھینچتے ہوئے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
جیسے کبھی بادشاہ تھا ہی نہیں!

اب صرف میں کھڑا ہوں۔
پوچھتا ہوں کہ ”میرے لیے کیا حکم ہے مائی باپ؟“
کہتے ہیں کہ ”وہیں انسانوں کی قطار میں پھر سے جاکر کھڑے ہو جاؤ“
تب سے اب تک
میں انسانوں کی طویل قطار میں کھڑا ہوں۔
قیامت ابھی تک برپا ہے۔
اور میں منتظر ہوں کہ میری خدا سے کب ملاقات ہوتی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 96 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *