امریکہ اور یورپی ممالک میں نسلی اور مذہبی امتیاز کے بڑھتے ہوئے واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ ابھی کووڈ۔ 19 یعنی کورونا وائرس جیسی وبا سے نبردآزما تھا اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ 29 مئی 2020 تک امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1.77 ملین تھی اور مرنے والوں کی تعداد 103602 تک پہنچ چکی تھی۔ صرف نیویارک میں اس خطرناک وبا سے 29653 اموات ہو چکی ہیں۔ ابھی امریکی حکومت اور انتظامیہ کووڈ۔ 19 سے ہونے والے جانی اور معاشی نقصانات سے باہر نہیں نکل پائی تھی کہ امریکی ریاست مینی سوٹا کے شہر منیاپولس میں نسلی فسادات پھوٹ پڑے۔ یہ فسادات 25 مئی 2020

کو ایک سیاہ فام شخص پر ایک سفید فام پولیس افسر کے تشدد سے موت کی وجہ سے شروع ہوئے۔ سیاہ فام شخص پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ایک 20 ڈالر کا جعلی نوٹ یا چیک کیش کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔

پولیس اہلکار نے اس شخص جس کا نام جارج فلائیڈ بتایا جاتا ہے گرفتار کر کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں اور پولیس کار میں بٹھانے کے بجائے سڑک پر گرا کر اپنا گھٹنا اس سیاہ فام شخص کی گردن پر رکھ دیا اور اس وقت تک نہیں ہٹایا جب تک اس کی موت واقع نہیں ہو گئی۔

یہ ویڈیو پورے امریکہ میں وائرل ہو گئی اور منیاپولس شہر میں فسادات پھوٹ پڑے۔

سیاہ فام ہجوم نے شہر کے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی۔ دکانیں، شاپنگ مال، اور دیگر املاک لوٹ لی گئی، گاڑیاں جلا دیں گئیں۔ آخری خبروں کے مطابق امریکہ کی 30 سے زیادہ ریاستوں اور شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور لوٹ مار کے واقعات ہوئے ہیں۔ جن میں نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو، اٹلانٹا، اور واشنگٹن ڈی سی شامل ہیں۔ مظاہرین نے وائیٹ ہاؤس کے سامنے بھی نسلی تشدد ے خلاف مظاہرے کیے جس میں سیاہ فام افراد کے علاوہ گوری اقوام کے پر امن لوگ بھی شامل تھے۔

امریکہ کے سب سے زیادہ ناپسندیدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا۔ جس میں کہا گیا کہ وہ ان مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مار دیں جو تشدد، لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہیں۔

پولیس افسر ڈیرک شاون جو اس قتل میں براہ راست ملوث تھا اور دوسرے چار پولیس اہلکار جن کے سامنے یہ حادثہ پیش آیا سب کو گرفتار کر لیا گیا۔ مقتول کے اہل خانہ اور سیاہ فام مظاہرین کے دباؤ پر پولیس افسر ڈریک شاون پر تھرڈ ڈگری قتل، اور غیر ارادی قتل کے لئے سیکنڈ ڈگری کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ یہ اصطلاحات امریکی قانون میں استعمال کی جاتی ہیں۔

مقتول کے اہل خانہ سابقہ پولیس افسر پر لگائے جانے والے چارجز سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملزم پولیس افسر پر فرسٹ ڈگری قتل یعنی جان بوجھ کر قتل کرنے کا چارج لگایا جائے۔ سیاہ فام شخص کے قتل کا یہ مقدمہ اب امریکی عدالت میں چلے گا۔ عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ ملزم پولیس افسر پر قتل کی کون سی دفعہ لگائی جائے۔ شہر منیاپولس کا یہ پر تشدد واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف پولیس کے تشدد کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ جس میں قانون کی کسی نہ کسی دفعہ کے تحت اکثر پولیس افسران کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ ان کو نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے اور حالات نارمل ہو جاتیں ہیں۔

سیاہ فام افراد پر ظلم و ستم کی یہ کہانی گزشتہ 400 برس سے چلی آ رہی ہے جب گوری اقوام افریقہ کے مختلف ممالک سے سیاہ فام افراد کو خرید کر، انہیں اغوا کر کے، یا طاقت کے زور پر یورپ، امریکہ اور جزائر کیریبین لے جائے جاتے تھے۔ تاریخ میں غلامی کا یہ طویل ترین باب تھا جس کا احاطہ کرنا اس مختصر سے مضمون میں ممکن نہیں ہے۔

سولہویں صدی کے آغاز میں افریقی غلاموں کی تجارت ایک بین الاقوامی کاروبار بن گیا تھا۔ جس کو ٹرانس اٹلانٹک غلامی کی تجارت کا نام دیا گیا تھا۔ یہ ٹرانس اٹلانٹک ٹریڈ 1525 سے لے کر 1866 تک جاری رہا اور تقریباً ایک کروڈ بیس لاکھ افریقیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کر کے امریکہ بھیجا گیا۔ افریقی غلاموں کی یہ تجارت زیادہ تر کالونیل دور میں ہوئی جب یہ افریقی غلام امریکی ریاستوں میں کپاس کے کھیتوں اور کان کنی میں بطور مزدور کام کرتے تھے۔

امریکہ کی جنوبی ریاستیں جن میں جنوبی کیرولینا، جارجیا، الباما، لوزیانا، مسی سپی، اور ورجینیا شامل ہیں افریقی غلاموں پر ظلم و تشدد میں سب سے آگے تھیں۔

ان علاقوں میں روئی کی کاشت ہوتی تھی جو اس زمانے میں امریکہ کی سب سے زیادہ نقد آور فصل تھی۔ کھیتوں میں کام کرنے کے لئے لیبر فورس چاہیے ہوتی تھی جو افریقہ سے اسمگل کیے گئے غلاموں سے پوری کی جاتی تھی۔ 1808 سے پہلے ان ریاستوں میں غلاموں کی اسمگلنگ اور تجارت قانوناً جائز تھی۔ 1808 میں امریکی حکومت نے ایک ایکٹ کے تحت غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کر دی۔

لیکن اس کے باوجود افریقی غلاموں کی امریکہ میں غیر قانونی درآمد جاری رہی۔ 2 مارچ 1807 کو امریکی کانگریس نے قانون سازی کر کے ایک بل پاس کیا جس کے تحت امریکہ کی کسی بھی بندرگاہ پر افریقی غلاموں کے جہازوں کی آمد کو ممنوع قرار دے دیا۔ یہ بل جنوری 1808 کو نافذ العمل ہوا لیکن غلاموں کی تجارت کے اسمگلر اتنے با اثر تھے کہ انہوں نے امریکی قانون کی بھی پرواہ نہیں کی اور غلاموں کی تجارت غیر قانونی طریقوں سے جاری رہی۔

یہ صورت حال دیکھتے ہوئے امریکی حکومت نے 1820 میں ایک اور قانون پاس کیا جس کے تحت افریقی غلاموں کی تجارت کو بحری قزاقی کی سزا اور جرم قرار دے دیا جس کی سزا موت مقرر کی گئی۔ ان تمام قانون سازی کے باوجود افریقہ سے 110 غلاموں کو لے کر کلوٹل ڈا نامی آخری جہاز 1860 میں امریکی ریاست الباما کے نزدیک موبائل بے پر لنگر انداز ہوا۔ بعد میں اس جہاز کو ثبوت مٹانے کی خاطر جلا دیا گیا اور افریقی غلاموں کے جہازوں کی آمد ختم ہو گئی۔

1861 میں امریکہ کی مختلف ریاستوں کے درمیان غلامی کے خاتمے کے لئے خانہ جنگی شروع ہو گئی جسے سول وار کا نام دیا گیا۔ یہ سول وار 1865 تک جاری رہی۔ یہ لڑائی نسل پرست جنوبی ریاستوں اور فیڈرل یونین کے درمیان تھی جس میں کنفیڈریشن والوں کو شکست ہوئی۔

امریکہ سے غلامی کو ختم کرنے کی کوشش میں امریکی صدر ابراہام لنکن کی جان چلی گئی۔

گو کہ قانونی اور عملی طور پر امریکہ سے سیاہ فام لوگوں کی غلامی کا خاتمہ ہو گیا لیکن سفید فام اقوام کی نفرت، دلوں میں چھپا ہوا بغض اور پولیس تشدد کے مظاہر نسلی امتیاز کی شکل میں اکثر و بیشتر نظر آتے ہیں۔

نسلی اور مذہبی جنونیت میں دنیا بھر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نسلی امتیاز کا یہ خطرناک رخ کسی وقت بھی ایشیائی تارکین وطن کی طرف مڑ سکتا ہے جس کے آثار کورونا وائرس کی شکل میں یہاں کے قدیم چینی باشندوں پر پڑتے نظر آ رہے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *