شہباز شریف سے متعلقہ کس خفیہ ٹیپ نے ”کپتان“ کا دماغ گھما دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم نے چند روز قبل ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں شہباز شریف کی زیر صدارت ”نون“ لیگ کے اجلاس میں جب اپنے بارے نازیبا الفاظ سنے تو ان کا موڈ سخت خراب ہو گیا اور پھر اسی روز چیئرمین نیب نے ”نون“ لیگ کے صدر کے وارنٹ گرفتاری پر دستخط کر دیے۔ تاہم اپوزیشن لیڈر، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے حتمی فیصلے پر عمل درآمد محض ایک فون کال سے سبوتاژ ہو کر رہ گیا جبکہ بتایا جاتا ہے کہ درحقیقت نیب کی طرف سے ”نون“ لیگ کے صدر کی گرفتاری کے لئے چھاپہ اور پھر اس میں لیگی کارکنوں کی مزاحمت کا ڈرامہ محض شہبازشریف کا شو بنانے کے لئے رچایا گیا تا کہ یہ تاثر پیدا کیا جاسکے کہ جہاں مسلم لیگ (ن) کا قائد نواز شریف لندن میں تفریح کرتا پھر رہا ہے وہیں ملک میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی تو شہبازشریف لڑ رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے ”جو لوگ ان کے بند کمرے کی میٹنگ کی کارروائی وزیراعظم تک پہنچا سکتے ہیں، ان کے لئے شہباز شریف کے ٹھکانے کا پتہ لگانا مشکل ہے؟“ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ شہباز شریف 96۔ H ماڈل ٹاؤن والی اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تو ان کے اپنی اہلیہ تہمینہ درانی کے گھر پر ہونے کا تو امکان تھا البتہ جاتی عمرہ ہونے کا تو سرے سے کوئی امکان ہی نہیں تھا جہاں ان کی تلاش میں نیب ٹیم کے جانے کا ڈھونگ رچایا گیا، اس لئے کہ وہاں قیام پذیر ان کی بھتیجی اور بد ترین سیاسی حریف نہ تو ابھی تک چچا سے ملنے 96 ایچ ماڈل ٹاؤن آئی ہیں اور نہ شہبازشریف جب سے لندن سے وطن واپس آئے، ان سے ملنے جاتی عمرہ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چار پانچ روز قبل ماڈل ٹاؤن لاہور میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کے گھر پر پارٹی رہنماؤں کا ایک اجلاس بند کمرے میں شہباز شریف کی صدارت میں ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایک رہنما نے یہاں تک کہہ دیا ”اس ۔۔۔ ۔۔۔ کا اب کچھ کرنا ہی پڑے گا، اس پر بند کمرے کے اس اجلاس میں شریک بعض دیگر پارٹی رہنماؤں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا“ ہمیں جذبات میں اس حد تک نہیں جانا چاہیے اور ان کے بارے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں، آفٹر آل وہ وزیراعظم ہیں اور ہم قومی اسمبلی کے ممبر ہیں، اس لئے پارلیمانی زبان میں بات کرنا ہی مناسب ہے ”

” نون“ لیگ کے مرکزی رہنماؤں کے بند کمرے کے اس اجلاس کی ساری کارروائی کی ریکارڈنگ ”گفیہ والوں“ تک پہنچ چکی تھی جو اسی روز وزیراعظم عمران خان کو سنوا دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جب وزیراعظم نے اس خفیہ ٹیپ میں اپنے متعلق ایک لیگی رہنما کے توہین آمیز الفاظ سنے تو ان کے چہرے پر شدید ناگواری اور غصے کے تاثرات ابھرے۔ اور پھر ”اتفاق“ سے اسی روز چیئرمین NAB کی جانب سے شہبازشریف کے arrest وارنٹ پر دستخط کر دیے گئے۔

شہبازشریف کو دوبارہ گرفتار کر لینے کے حتمی فیصلے کی نیب میں اعلیٰ سطح پر منظوری دی جا چکی تھی کہ اتوار کو ایک خفیہ فون کال نے کسی رکاوٹ یا مزاحمت کے بغیر اپوزیشن لیڈر کو تحویل میں لے لیے جانے کی بابت نیب کا منصوبہ ناکام بنا دیا، اور نتیجتاً منگل کے روز شہبازشریف کو ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لینے کی کوشش بھی بنیادی طور پر اسی فون کال کی وجہ سے ناکام ہوئی کیونکہ بروقت خبر ہو جانے کی بنا پر ہی وہاں لیگی کارکنوں کی بڑی مزاحمت بھی ”ارینج“ کر لی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر، قائد حزب اختلاف شہبازشریف کے وارنٹ گرفتاری پر چیئرمین نیب کے دستخط سمیت تمام رسمی کارروائی سنیچر تک مکمل کر لی گئی تھی، نیب حوالات میں ان کے لئے کمرہ بھی تیار کیا جاچکا تھا اور ایمرجنسی کی صورت میں انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کی غرض سے ڈاکٹرز کی دستیابی بھی یقینی بنا لی گئی تھی لیکن اتوار کو نیب کے اسلام آباد آفس سے سابق وزیر اعلیٰ کے کسی ”خیر خواہ“ اعلیٰ افسر نے ہنگامی فون کال پر رابطہ کر کے شہبازشریف کو تمام صورتحال اور نیب پلان سے آگاہ کر دیا اور کہا کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لئے کچھ کر لیں، جس پر شہباز شریف نے اپنے وکلاء کو فوری طور پر ضمانت قبل از گرفتاری ڈرافٹ کرنے اور اگلی صبح لاہور ہائی کورٹ میں دائر کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔

تاہم سوموار کو درخواست دائر ہو جانے کے باوجود وہ معمول کے مطابق اگلی صبح سماعت کے لئے فکس نہ ہو سکی، لاہور ہائی کورٹ کے ذرائع نے بتایا کہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری کی فائل پیر کو اگرچہ معمول کے مطابق چیف جسٹس کے پاس رسمی مارکنگ کے لئے بھیج دی گئی تھی حالانکہ نیب سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لئے ایک دو رکنی بنچ معین ہے تاہم فائل رسمی طور پر بنچ کو مارک نہیں کی جاسکی اور فائل چیف جسٹس قاسم خان کے چیمبر ہی میں پڑی رہی، جسے منگل کو مارک کیا گیا اور یہ درخواست بدھ 3 جون کی ارجنٹ کاز لسٹ میں دوسرے نمبر پر سماعت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔

اگرچہ اس ”اتفاقی“ مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیب حکام نے آج منگل کو ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں ”اتفاق“ ہی سے بڑی تعداد میں ”بر وقت“ پہنچ جانے سے والے لیگی کارکنوں کے ساتھ گھنٹہ بھر کی دھکم پیل کے بعد نیب ٹیم ملزم کو ڈھونڈنے مبینہ طور پر جاتی عمرہ روانہ ہو گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *