کورونا اور جذبہ جنوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا اور حکومتی پالیسی پر ایک لطیفہ سنیے۔ کسی چوک میں ٹریفک سگنل خراب تھا۔ ٹریفک پولیس والا اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا کہ اسے کسی ضروری کام سے کہیں جانا پڑ گیا۔ اس نے کچھ دیر کے لیے یہ ذمہ داری وہاں بھیک مانگنے والے ایک بہروپیے خواجہ سرا کے ناتواں کندھوں پر ڈال دی۔ وہ صاحب یا صاحبہ کچھ ہی دیر میں ہاتھ ہلا ہلا کر اور لوگوں کے جملے سن سن کر ہانپ گئے تو ایک زور کا ٹھمکا لگایا اور چاروں طرف کی ٹریفک کو چلنے کا اشارہ دے دیا۔ جب چاروں طرف سے گاڑیاں، رکشے اور موٹر سائیکل ان کے ارد گرد اکٹھے ہو کر زور زور سے ہارن بجانے لگے تو موصوف نے اپنے مخصوص انداز میں تالی بجائی اور بددعائیں دیتے ہوئے ایک طرف کو چل دیے کہ تمھارا یہی علاج ہے، اب بھگتو۔ کورونا کے حوالے سے اس حکومت نے عوام کے ساتھ یہی کیا ہے۔

کبھی کبھار وزیراعظم پر رشک آتا ہے کہ ان کے چاہنے والے ان کی محبت میں اس حد تک ڈوبے ہوئے اور ریاستی پروپیگنڈے کا شکار ہیں کہ اب گالیاں عوام کو دے رہے ہیں یعنی خود کو ۔ اس سادگی اور دیوانگی پہ تو کورونا بھی واری صدقے جاتا ہو گا۔ عجب تبدیلی آئی ہے۔ پہلے ادوار میں حکمران غلط ہوتے تھے یہ پہلی حکومت ہے جس میں عوام غلط ہیں۔ پہلے حکومت کی ناکامی پر لوگ حکومت کو گالیاں دیتے تھے، صدقے جاؤں خان کی حکومت کے، اب گالیاں بھی عوام کو پڑ رہی ہیں۔ کہتے ہیں عوام میں عقل ہی نہیں ہے، انھیں احساس ہی نہیں، حکومت تو کہہ رہی ہے احتیاط کرو، اب عوام احتیاط نہیں کرتے تو حکومت کا کیا قصور؟

خدا جانے یہ معجزہ کیسے برپا ہوا کہ پہلے جو مسئلہ اوپر تھا بڑی سہولت سے نیچے کی طرف منتقل ہو گیا۔ اوپر نیچے کا مسئلہ اور ’یہ‘ غلط اور ’وہ‘ ٹھیک کا الٹ پھیر مضحکہ خیز بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ گویا حکومت نے ٹریفک سگنل بند کر کے عوام کو احتیاط کا دامن تھامنے کا کہہ کر فرض ادا کر دیا ہے اور عوام کی جہالت اور غیر ذمہ داری سے تہذیب اور ذمہ داری کی امید قائم کر لی ہے۔ حیرت ہے اس حکومت کو اور اس کے چاہنے والوں کو یہ سادہ سی بات سمجھ نہیں آ رہی کہ انسان خطا کا پتلا ہے، انسانوں نے تہذیب یافتہ ہونے کے بعد لاکھوں قوانین اسی لیے بنائے تھے کہ انسان خود احتیاط نہیں کرتا۔

انسان بار بار غلطی دہراتا ہے۔ اگر عوام ہی نے سب کچھ کرنا ہے تو غریب پرور حکومت نے سیٹ بیلٹ نہ باندھنے سمیت دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانہ کئی گنا بڑھا کیوں دیا ہے؟ کیا سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کے نقصان کا ڈرائیور کو اندازہ نہیں ہوتا؟ اس کا نقصان تو سراسر گاڑی چلانے والے کو ہی ہوتا ہے۔ پھر قانون کا اور جرمانے کا تکلف کیوں؟ کیا گاڑی چلانے والا نہیں جانتا کہ حادثے کی صورت میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کا کیا نقصان ہے؟

تو بھائی اس قانون کو ختم کر دینا چاہیے اور جگہ جگہ مقررہ رفتار کے اندر سفر کرنے اور سیٹ بیلٹ باندھنے کی گزارشات سے مزین بینر آویزاں کر دینے چاہییں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ ٹریفک پولیس کا محکمہ ختم ہو جائے گا جس سے حکومت کو اچھی خاصی بچت ہو گی اور دوسرا یہ کہ عوام جگہ جگہ ٹریفک جام میں پھنس کر ایک دوسرے کو جی بھر کے گالیاں دیں گے، یوں انھیں تفریح طبع کا سامان بھی میسر ہو گا۔ بلکہ اس کار خیر کو رفتہ رفتہ بڑھاتے ہوئے ملک میں ہر طرح کا قانون معطل کر کے تمام پابندیاں ہٹا کر عوام کو اچھا شہری بننے کی تربیت دینی چاہیے اور اس بات پر زور دینا چاہیے کہ وہ خود احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی عادی ڈالیں۔

حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ جن مہذب ترین ملکوں کی آپ تعریف کرتے نہیں تھکتے ان میں قوانین سخت اور ان پر عمل درآمد سخت ترین ہوتا ہے، اسی لیے وہ اقوام ہم سے زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب ہیں۔ دوسرے ممالک میں لاک ڈاؤن نرم کرنے کی خبریں بھی یہ حکومت اپنے حق میں دلائل کے طور پر پیش کر رہی ہے، بھائی ان ممالک میں کورونا وبا کا عروج گزر چکا ہے، یہاں تو ابھی بہت کم ٹیسٹ ہو رہے ہیں اس کے باوجود متاثرین میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اور ویسے یہاں پہلے لاک ڈاؤن پر اس طرح عمل درآمد نہیں ایک ہفتہ بھی نہیں کرایا گیا، بلکہ صوبوں کے ساتھ وفاق کی رسہ کشی میں اچھا خاصا وقت برباد ہوا۔

اب تو پنجاب حکومت کی خفیہ کورونا سروے رپورٹ بھی لیک ہو گئی اور اس کے نتائج ہوشربا ہیں۔ اس کے مطابق آج سے تین ہفتے قبل صرف لاہور میں سات لاکھ کے قریب لوگ اس وائرس سے متاثر ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ہونے والے کل ٹیسٹوں میں سے مثبت آنے والوں کا تناسب بیس فی صد سے زیادہ ہے، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ لیکن حکومت ایسے مطمئن ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ایک ایم این اے اور دو صوبائی اسمبلی کے ممبران کی کورونا سے موت ہو چکی ہے۔

یہ طبقہ سب سے زیادہ محتاط ہوتا ہے اور اسے صحت کی بہترین سہولتیں بھی دستیاب ہوتی ہیں، عوام کا خدا جانے کیا حال ہو گا۔ دور دراز دیہات میں لوگ کینسر تک کا علاج دیسی ٹوٹکوں اور دم درود سے کراتے ہیں وہاں کورونا کو کون پوچھتا ہے۔ خدا جانے کتنے ہی جاں سے گزر چکے ہوں گے۔ ڈاکٹر بھی پیٹ رہے ہیں کہ وینٹی لیٹرز کم پڑ رہے ہیں۔ ذاتی دوستوں اور جاننے والوں میں چند دن سے طبیعت کی شدید خرابی اور اموات کی خبریں بڑھ گئی ہیں۔ معاملہ کافی خراب ہو چکا ہے۔ ان لوگوں سے تو بات کرنا ہی فضول ہے جو ابھی بھی اسے سازش سمجھ رہے اور کہہ رہے کہ کورونا ہے ہی نہیں۔ یہ لوگ صرف ذہنی اذیت دینا جانتے ہیں۔ حکومت سمیت ان سب سے بچیں اور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔ اپنا خیال رکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *