انڈیا چائنا تنازع اور امریکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا اور چائنا کے درمیان 3488 کلومیٹر کی مشترک سرحد ہے جو کہ ایل اے سی کے نام سے جانی جاتی ہے، یہ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، سکم، اترکھنڈ اور اروناچل پردیش سے گزرتا ہوا برما تک پہنچتی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا غیر تعین شدہ بارڈر اور سب سے اونچے بارڈرز میں سے ایک ہے جس کو دنیا کی چھت کہا جاتا ہے۔

1975 سے لے کر اب تک دونوں ممالک کے درمیان ایک گولی بھی نہیں چلی، چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہے ہیں لیکن اسلحہ استعمال نہیں ہوا ہے۔ حالیہ تنازع میں بھی دونوں فریقوں نے پتھروں، سلاخوں اور ڈنڈوں سے ایک دوسری کی خاطر داری کی ہے۔

اب آتے اصل قضیے کی طرف، معاملہ 5 مئی کو شروع ہوا جب دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آ گئی۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان جن مقامات پر ٹینشن چل رہی ہے، ان میں وادی گلوان، پنگ گانگ سو جھیل، ڈیمچک اور لداخ میں نوکولا کے مقام پر، جہاں بھارت کی طرف سے سکم لگتا ہے اور چائنا کی طرف سے تبت لگتا ہے۔ چائنا نے 1962 کی جنگ میں اکسائی چن اور اور اروناچل پردیش کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہوا ہے۔ چائنا کا دعویٰ ہے کہ بھارت نے اس کے 90000 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

حالیہ تنازع کی بنیادی دو وجوہ ہیں :
پہلی وجہ: بھارت کی جانب سے ایل اے سی کی اپنی جانب نئی تعمیرات ہیں۔ چائنا کو اس پہ تشویش ہے، اس کے مطابق جب تک سرحد کا تنازع حل نہیں ہوتا کوئی یہاں انفراسٹرکچر پہ کام نہیں کر سکتا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ، مودی نے آتے ساتھ ہی چائنا بارڈر کے ساتھ 66 بڑے روڈز بنانے عندیہ دیا تھا۔ ان میں سب سے اہم روڈ گلوان وادی کے قریب ہے جو دولت بیگ اولڈی ایئر بیس تک جاتا ہے۔ پچھلے اکتوبر کو اس کا افتتاح ہو چکا ہے، بھارت کے لیے یہ بہت اہم روڈ ہے کیونکہ یہ بارڈر کے لئے تمام سپلائی لائنیں ملاتا ہے۔

چائنا کے مطابق یہ کنسٹرکشن کسی آبادی کے لیے نہیں کی جا رہی بلکہ فوجی ساز و سامان کی منتقلی کے لیے یہ کام ہو رہا ہے۔ خطے کے اس صورتحال پر اپنے رد عمل میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر انڈیا نے متنازِع علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا تو پھر خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف بھارت کا کہنا ہے کہ چین پنگ گاگ جھیل سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہا ہے، اسی طرح اس کے مطابق چینی فوج نے وادی گلوان میں لگائے ہیں جس کے بعد انڈیا نے بھی وہاں فوج کی تعیناتی میں اضافہ کیا۔

اس وقت بھارت زیادہ مشکلات میں گھرا ہوا نظر آ رہا ہے، کیونکہ دوسری جانب اس کے نیپال کے ساتھ بھی سرحدی کشیدگی چل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 1800 کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ نیپال کا دعویٰ ہے کی انڈیا نے اس کے سرزمین پر روڈ تعمیر کی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 8 مئی کو لپو لیکھ کے قریب 80 کلومیٹر لمبے روڈ روڈ کا افتتاح کیا تھا، لپو لیکھ وہ علاقہ ہے جہاں چین، نیپال اور انڈیا کی سرحدیں ملتی ہیں۔

نیپال انڈیا کے اس قدم پر سخت ناراض ہے۔ وزیر اعظم کے پی شرما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”نیپال اپنی زمین کا ایک انچ حصہ بھی نہیں چھوڑے گا۔ مزید صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب نیپال نے ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کیا، جس میں تمام متنازع علاقوں کو نیپال کے اندر دکھایا گیا ہے جس پر انڈیا میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔

اس تمام تر سچوایشن میں چائنا زیادہ جارحانہ موڈ میں نظر آ رہا ہے کیونکہ اس کے مطابق انڈیا یہاں امریکہ کو بٹھانا چاہتا ہے۔ یہ امریکہ کا ایک پرانا خواب ہے کیونکہ یہاں سے یہ جنوبی و وسطی ایشیا پہ اچھے طریقے سے نظر رکھ سکتا ہے، اور چائنا کو یہاں سے با آسانی محدود کیا جا سکے گا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹینشن رہے، کیونکہ اسی صورت میں امریکی کی انڈو پیسیفک اسٹریٹیجی کامیاب ہو سکتی ہے۔ یہاں پر اہم بات یہ ہے کہ امریکی نمایندہ برائے ساؤتھ و سینٹرل ایشیا ایلس جی ویلس نے چین کو اس سارے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا ہے، حالانکہ ایک گولی بھی نہیں چلی ہے۔

حالانکہ لائن آف کنٹرول پر اور کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر بھارت کی طرف سے دراندازی ہوتی ہے اور مالی جانی نقصان ہوتا ہے اس پہ کچھ بولنے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔ امریکہ کو اصل مسئلہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے خاص کر اس میگا پروجیکٹ کے چھٹے اور سب سے اہم منصوبہ سی پیک سے، یہ انڈیا اور امریکہ دونوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اور کسی بھی قیمت پر اس کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، اس کار خیر میں ہمارے کچھ بردار اسلامی ممالک بھی شامل ہیں۔

دوسری وجہ: بھارت کی جانب سے کشمیر اور لداخ کی حیثیت تبدیل کرنا ہے۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کو ان علاقوں کو یونین علاقہ جات کا درجہ دیا جو کہ پاکستان اور چائنا دونوں کے قابل قبول نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پچھلے ایک سال سے سفارتی محاذ پر سخت ٹینشن چل رہی ہے۔

اب دیکھنا یہ کہ صورت احوال اگر مزید بگڑتی ہے تو امریکہ کس طرح ردعمل دے گا؟ اگرچہ ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ امریکہ اور چائنا کے درمیان پہلے سے کورونا وائرس اور بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے بڑی سرد جنگ چل رہی ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ چائنا نے قصداً وائرس پھیلایا ہے اور عالمی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سمیع اللہ مدثر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *