شیطان اور کراماتی میڈیا کے خوفناک کھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آنکھوں کے آگے اس معصوم بچے کا چہرہ ابھرتا ہے جس سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر خوفناک شیر اچانک جنگل سے نکل کر تمہارے سامنے آ گیا تو کیا کرو۔ اور بچے نے معصومیت سے جواب دیا تھا کہ میری ہستی ہی کیا۔ جو کچھ کرے گا وہ شیر کرے گا۔ سن دو ہزار بیس تک آتے آتے دنیا ایک ایسے نظام کا حصہ بن گئی ہے جہاں سائنس اور ترقی کی ریس ہے، دہشت ہے، خوف ہے، ایڈز ہے، کینسر ہے اور گلیشیر ٹوٹ رہے ہیں۔ انسانی آبادی مسلسل ہلاکت کا شکار ہو رہی ہے اور میڈیا کے ہاتھ میں نیرو کی بانسری ہے، جلتا ہوا روم ہے اور شہنشاہوں کے قہقہے ہیں۔

اور جس دنیا کے بارے میں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ تہذیب یافتہ دنیا کا تصور نا ممکن ہے۔ لیکن اسی کا دوسرا پہلو ہے کہ اس دنیا میں خوفناک جنگیں ہیں۔ہوائی حملے ہیں۔ تیسری اور چوتھی دنیا کے ممالک کا جائزہ لیں تو چھوٹی اور بڑی مچھلیوں کے خوفناک کھیل ہیں۔ معاشرے میں آئی ہوئی تبدیلیوں کا ذکر کریں تو مشہور ناول نگار ہرمن ہیسے کے ناول ڈیمیان کی یاد آتی ہے۔ ہرمن نے لکھا کہ پرانی دنیا کو زوال آ چکا ہے۔

ایک نئی دنیا سامنے ہے۔ اور اس نئی دنیا میں اخلاقیات کو کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ دنیا ایک خوفناک سرنگ میں داخل ہو چکی ہے۔ سائبر ورلڈ، نئی ٹکنالوجی، بدلتا ہوا نظام، گلیشیئر کے پگھلنے اور سائبیریا میں گھاس اگنے تک کے واقعات نے نئے نظام اور بدلے ہوئے موسم کی گواہی دے دی ہے۔ اس لیے الیکٹرانک میڈیا کا معاشرے کی تبدیلی میں کیا رول ہے، اس سے قبل اس نئی تہذیب اور معاشرے کی جھلک دیکھنا بھی ضروری ہے۔ ہم جس دنیا میں ہیں وہاں ہر روزگ گینگ ریپ کی کہانی دہرائی جاتی ہے۔

ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت اس حد تک گر چکی ہے کہ انڈین اکانومی گریٹ ڈپریشن کی شکار ہے۔ میڈیا چینل اپنے ہاٹ شو میں اب ننھے ننھے بچوں کو اتار رہے ہیں۔ ڈانس شو، ٹیلنٹ بلٹ جیسے پروگرام میں اب یہ ننھے معصوم بچے اشتعال انگیز اور پرونٹیڈ معاشرے کا ذائقہ بن رہے ہیں۔ یہ وہی دنیا ہے، جہاں ماحولیات پر ناکام بحثیں ہوتی ہیں، جہاں فرقہ وارانہ فسادات عام ہیں جہاں قاتلوں کی تاجپوشی ہوتی ہے جہاں سوائن فلو، سارس اور ڈینگو جیسی بیماریوں کے پس پشت بھی ایک ظالم و جابر سماج اور معاشرے کے عکس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں بین الاقوامی معاہدے، سمجھوتے، قوانین سب طاق پر رکھے ہوئے ہیں۔ اور میڈیا دولت کے نشے میں پیڈ چینل بن چکا ہے۔ یہاں کورونا سے خوف زدہ کیا جاتا ہے اور علاج کے نام پر فتوے دیے جاتے ہیں۔ یہاں مزدور ہجرتوں میں مارا جاتا ہے۔

ہندستان سے بین الاقوامی اور مغربی معاشرے تک سچ نہیں جھوٹ بکتا ہے۔ اچھی باتیں نیوز نہیں بنتیں، خوفناک اور ڈراؤنی خبریں خبر بن جاتی ہیں۔ میڈیا جانتا ہے، کیا فروخت کرتا ہے اور کیا فروخت کرنے سے ٹی آر پی بڑھتی ہے اور میڈیا کبھی جنس کا کاروبار کرتا ہے، کبھی دہشت اور وحشت کا کبھی سادھو سنت، آسارام باپو سے لے کر ہیڈیلی بابا تک کے افسانے دن رات چلتے رہتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ معصوم گڑیا سے لے کر نربھیا اور جیوتی کے گینگ ریپ کی کہانی بھی ناظرین دلچسپی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا نے گھر بیٹھے آپ کے اندر کی خوفناک بھوک کو جگا دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ بھوک پہلے نہیں تھی۔ یہ بھوک ہمیشہ سے تھی، یہ بھوک غلط راستوں کی طرف لے جاتی تھی۔ لیکن اس بھوک میں تشدد کی حد تک وہ وائرس نہیں آیا تھا، جس نے معصوم اور سبق آموز کہانیوں کی جگہ بارہ سے بیس برس کے بچوں میں بھی سیکس کے انجکشن لگا دیئے اور گھر کے عام آدمی کو بھی اسی راستے پر ڈال دیا۔ ایک عام سروے میں یہ بات کہی گئی کہ سب سے زیادہ پورن چینل، ہاٹ شو اور سیکس چیٹ کرنے والے ہندستان اور پاکستان کے لوگ ہیں۔

اور دیکھا جائے تو انہیں فروخت کرنے اور خبروں میں ذائقہ پیدا کرنے کام یہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا کر رہا ہے۔ میڈیا نے ہمیں اس نظام یا معاشرے کا حصہ بنادیا ہے جہاں Disorder ہیں۔ مینٹل ڈس آرڈر۔ ہم ایک آئیڈینٹیٹی ڈس آرڈر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مہذیب ترین دنیا میں جہاں بم پھٹ رہے ہیں۔ جنگیں ہو رہی ہیں۔ آدھے ادھورے بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے۔ جہاں راکٹ لانچر، میزائل اور اٹیک نے انسانوں سے تحفظ چھین لیا ہے۔ اور اس نظام سے تھکے ہوئے لوگ ایک دن مرسی ڈیتھ کی اپیل بھی کرنے لگتے ہیں۔

انسان کی سرشت میں جس محبت اور آزادی کو دخل ہے، میڈیا نے اس محبت اور آزادی پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان کا سب سے زیادہ شکار نوخیز اور نئی نسل کے بچے ہو رہے ہیں۔ ادب سے ثقافت اور زندگی کے ہر مورچے تک ہم ایک گہرے پالوشن اور دھند میں گھر گئے ہیں۔ ایڈورڈ سعید نے اورینٹلزم میں مشرقی اقوام و تمدن کی بحث چھیڑی تو مغرب کے دانشور بھی چونک گئے۔ اور حقیقت ہے کہ دنیا جس اندھی سرنگ میں اتر گئی ہے وہاں آج مشرق ومغرب کا فرق بھی مٹ چکا ہے۔ نئی ترقی کی ریس میں ایک یوٹوپیائی پیرسترئیکا ہے۔ ایک خیالی آزادی کا سفر۔ میڈیا نے اندھی اڑان میں نئی نسل کے ساتھ دنیا کی ایک بڑی آبادی کو دھکیل دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے وسیع دائرے کے باوجود، سپر کمپیوٹر کے عہد میں تباہی و بربادی کا ہر راستہ کھل گیا ہے۔

ہم ایک بہت بڑے بازار میں الجھ کر بونے بن گئے ہیں۔ ایک بہت بڑا بازار جو ہماری سنسکرتی، ہماری جڑوں سے الگ ہے۔ ہم اس بازار کا حصہ بننا چاہتے ہیں مگر پری ہسٹارک ڈائنا سور بن کر۔ پانچ کروڑ سال پیچھے جا کر ہم اس بازار میں اپنی گھس پیٹھ جمانا چاہتے ہیں۔

متھ ٹوٹ رہے ہیں۔ نئے اصول بن رہے ہیں۔ اور ہیلپ لائنوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔  ہمارے بچے میل اسٹریپر بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یعنی نیا ایڈونچر۔ یہ دور دراصل ہمارے لئے نہیں سگمنڈفرائیڈ کے لئے تھا۔ وہ دیکھتا کہ 40 پار، کے ایک باپ کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ ایک باپ جو اپنے بچو ں کے آئینے میں خود کو، ان کی اپنی آزادی کے ساتھ اتار تو لیتا ہے۔ مگر اس کا پچھڑا پن برقرار رہتا ہے۔ اور وہ وہی رہتا ہے اندر سے۔ پری ہسٹارک ڈائنا سور۔

شاید اسی لئے ہیلپ لائن کلچر ہمارے یہاں شروع ہوا۔ آپ لیسبیئن ہیں۔ گے ہیں ہیلپ لائن۔ طلاق چاہتے ہیں۔ ہیلپ لائن۔ میوزک پسند ہے۔ ہیلپ لائن۔ اکتا چکے ہیں۔ ہیلپ لائن۔ ہیلتھ سے زندگی کے ہر نئے موڑ پر ہیلپ لائن آپ کا سواگت کرتا ہے۔

بدن کے ہارمون نے تیزی سے بدلنا شروع کر دیا ہے۔ یہ کسی کا قصور نہیں ہے۔ بچہ ماں کی کوکھ میں پل رہا ہوتا ہے اور ہارمون اسے ایک نئے نظام میں پھیکنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

نیا نظام۔ ۔ ۔ کون سا؟
نئی سیاست۔ کون سی؟
نیا بازار۔ کون سا؟

صدیوں کا سفر ہم منٹوں میں طے کر رہے ہیں۔ ہم حیرت، میرا کل، چمتکار جیسے شبدوں سے آگے نکل آئے ہیں۔ بندر، انسان کا بچہ پیدا کر دے یا انسان بندر کا بچہ۔ کتا بولنے لگے۔ بلی دونوں پیروں پر کھڑی ہو کر چلنی لگے۔ چمگادڑ گیت گانے لگیں۔ خرگوش تیزی سے بھاگنے لگیں۔ چیتے شیر، معصوم بن جائیں۔ میمنا دہاڑنے لگے۔ کچھ بھی عجیب نہیں لگے گا۔ یعنی ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا۔ بدلتا ہوا ہارمون۔
انسان کا ارتقا بھی شاید اسی طرح ہوا تھا۔

پہلے پورا ’جمبو جیٹ‘ یعنی بندر۔ جھکا ہوا۔ چار پاؤں سے چلتا ہوا۔ پھر رفتہ رفتہ چار پاؤں کی جگہ دو پاؤں رہ گئے۔ ۔ ۔ شکل بدل گئی۔ چہرہ بدل گیا اور بندر سے انسان بننے تک اس نے اپنے آپ کو ایک خطرناک لیبارٹری میں ڈال دیا۔

اس اندھی، کانی اور بہری ریس میں گھپلے ہوں گے۔ گھپلوں کی پروا مت کیجیے۔ چھوٹے شہر، چھوٹے لوگ، چھوٹی دنیائیں پسیں گی اور پسپا ہوں گی۔ پروا مت کیجیے۔ ایک بگ پاور ہو گا۔ جس کی حکومت بڑھتی جائے گی اور جیسا کہ ارندھتی رائے نے اپنے ایک مضمون میں کہا۔ ہندستان، پاکستان زمینوں پر امریکی فوج گھوم رہی ہو گی۔ تو گڑیا اور مودی اور اٹل، مشرف جیسے لوگ صدام کی طرح بڑھی ہوئی داڑھی میں، نظر بند ہوں گے۔ یہ سب ہوں گے، کیونکہ زندہ رہنے اور فتح کے لئے کوئی دلیل نہیں ہو گی۔ ترقی اور اڑان کے لئے کوئی جرح، کوئی سوال نہیں ہوں گے۔ تیزی سے بڑھتی دنیا میں ہم لغات سے نو اور امباسبل کو خارج کر دیں گے۔ رہ جائے گا۔ صرف یس۔ ہاں۔

بندر انسان پیدا کرے گا۔ ۔ ۔ ہاں!
ہوائی جہاز کی جگہ انسان اڑے گا۔ ۔ ۔ ہاں!

ہارمون ڈس بیلنس نے دنیا کے، چھوٹی عمر کے کتنے ہی بچوں کو ایک بڑا بالغ بنادیا ہے۔ بڑا بالغ۔ چونکیے مت۔ وہ بڑے بالغ ہیں۔ ہمارے آپ سے زیادہ آگے دیکھنے والے۔ جاننے والے۔ اڑنے والے۔ یہ بڑے بالغ ہائپرٹینشن اور بلڈ پریشر کے مریض بھی ہو سکتے ہیں۔ انہیں شوگر اور ڈائبیٹیز کا مرض بھی ہو رہا ہے۔ اور یہ دل کی بیماریوں میں بھی گرفتار ہیں۔ اس گلوبل ویلیج میں، انتہائی چھوٹی عمر میں انہوں نے اپنے لئے دلیلیں گڑھ لی ہیں۔

وہ ہیں۔ اس لئے کر رہے ہیں۔
وہ ہیں۔ اس لئے کریں گے۔
وہ ہیں۔ اس لئے جو کچھ کریں گے، وہ یہی بتائے گا کہ وہ انسان ہیں۔ اور انسان تو یہ سب کرتا ہی رہتا ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے تعریفیں بدل گئیں۔ سچ کی۔ جھوٹ کی۔ غلط کی۔ جائز کی ناجائز کی۔ ۔ ۔ تعریفیں بدل گئیں۔ تفریحوں کے سامان بدل گئے۔ ۔ ۔ چھوٹے کھلونے چلے گئے۔ ہتھیار آ گئے۔ بچوں نے میزائلس، راکٹ لانچرس اور بندوق پسند کرلئے۔ ۔ ۔ بچوں کو w۔ w۔ f پسند آنے لگا۔ ۔ ۔ بچے ایسی فائٹ دیکھنے لگے۔ جس میں اذیت تھی۔ ۔ ۔ ایڈونچر تھا۔ ۔ ۔ ایک خوبصورت موت تھی۔ بچوں کو ویپن چاہیے۔ ۔ ۔ ویپن۔ بچوں کو وار چاہیے۔  جنگ اور کھلونے۔ کیا آپ نے کبھی بچوں کے ویڈیو گیمس دیکھے ہیں۔ ۔ ۔ زیادہ تر بچے کیا دیکھتے ہیں۔ ویپن اور وار۔

داڑھی لگائے اسامہ پر امریکی گولہ باری ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ بچے تالیاں بجا رہے ہیں۔ ۔ ۔ ہیرو کو ولن اور ولن کو ہیرو بنایا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ نئی سنسکرتی کچھ بھی کر سکتی ہے۔ نئی سنسکرتی نے بچوں کی آنکھوں سے میرا کل، چمتکار اور حیرت کی چمک چھین لی۔ ہتھیار دے دیے اور ایک نیا کھلونا۔

بچے ’کولا‘ پیتے ہیں۔ جنک فوڈ کھاتے ہیں۔ بار بری ڈالس پر لٹو ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ اور پوکے مان دیکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ہمیں ایسے بچے تحفہ میں ملے ہیں جن کے پاس اپنا کچھ نہیں۔ ۔ ۔

دراصل ہم ایک مشکل ترین دنیا پر داخل ہوگئے ہیں۔ ۔ ۔ جہاں فیصلے آسان نہیں ہوں گے۔ ۔ ۔ قانون کو اپنے اب تک بنے بنائے اصولوں اور ضابطوں کو توڑنے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ۔ ۔ آپ اب 2 + 2 = 4 پر بھروسا نہیں کرسکتے۔ ۔ ۔ الجبراکے فارمولوں سے لے کر بدن کا الجبرا اور دماغ کا جغرافیہ سب کچھ بدلنے لگا ہے۔ ۔ ۔ جسم کی ہسٹری اور تیزی سے اندر پیدا ہوتی بھوک کی بائیالوجی کسی بھی طرح کے Test یا D۔ N۔ A سے بالاتر ہے۔

ایک طرف بھیانک Reality ہے، دوسری طرف فنٹاسی۔ ریئلٹی سے فنٹاسی کی طرف جانے والا یہ راستہ بھی ایک حد تک الیکٹرانک میڈیا نے کھولا ہے۔ یہاں سیکس ٹورزم ہے۔ آؤٹ لک اور انڈیا ٹوڈے جیسے رسائل ہر سال سیکس پر نئے سروے کرارہے ہیں۔ اور اس سروے میں نئی دنیا نئی تہذیب سے نئے نئے کھلونے والے کنڈوم میں بھی گفتگو ہو رہی ہے۔ اسکول اورکالج کے بچے برانڈڈ انڈرویئر لیتے ہیں۔ گودنے گدوانے ہو۔ الٹی بیس بال ٹوپی پہنتے ہیں۔ کمر شیل ٹی وی شوز کا سیکس آزادی کا پیغام لے کر آ رہے ہیں۔

اسسلٹ ویلا، روڈینرشپ جیسے پروگرام سیکس کی بھوک بلا رہے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اور آپ کی یہ تہذیب بلاسٹ کر چکی ہے۔ تو اب سوال ا ٹھتا ہے کہ کیا اس نئی تہذیب میں صرف اندھیرا باقی ہے۔ امید کی ہر کرن دم توڑ گئی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا جس سے صحت مند معاشرے کے فروغ از سر نو غور کیا جا سکے؟ ہم خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو میڈیا یہ بھی کر رہا ہے۔ میڈیا لڑکیوں کی عصمت دری، کرپشن، دہشت گردی جیسے معاملات پر حق کی آواز بھی بلند کر رہا ہے۔ مگر یہ بھول ہے آپ کی میڈیا صرف فروخت کر رہا ہے اور آپ لاشعوری اور نفسیاتی طور پر میڈیا کی یلغار کا شکار ہو چکے ہیں۔ اور اسی الیکٹرانک میڈیا نے آج آپ کو ایک بار پھر ہندو اور مسلم خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ معیشت کنگال، مزدور مرتے ہوئے، مسلمان حاشیے پر، سیاست زہریلی اور چابک میڈیا کے ہاتھ میں۔ میڈیا کی خوفناک آزادی کو روکنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *