بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اپنی ذہانت کس طرح بچائیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت کے ساتھ ہماری عمر ہماری عمر ضرور بڑھتی ہے۔ کچھ دیر تو ہم اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں لیکن آخر کب تک؟ چہرے کی جھریاں بھی ظاہر ہو کر رہتی ہیں اور اگر سر پر بال باقی رہ جائیں تو کم از کم دیکھ کر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ خضاب لگایا ہوا ہے۔ یہ سب کچھ تو شاید برداشت ہو جائے لیکن کل کے لڑکے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم سٹھیا رہے ہیں۔ چلیں! شاید اتنا سخت گمان نہ کرتے ہوں لیکن یہ ضرور سوچتے اور کہتے ہیں کہ عمر بڑھنے کی وجہ سے اب ان صاحب کا ذہن اتنا تیز نہیں رہا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔ اور آپ کے ہم پیشہ کہتے ہیں کہ اچھے آدمی تھے، بس وقت سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ جب یہ باتیں شروع ہو جائیں تو سمجھ لیں اب ہم بازی ہار گئے۔ ”کل کے بچوں“ سے یہ کون سنے؟

آرتھر ہیلے اپنے ناولوں میں کسی ایک پیشے کو موضوع بناتے ہیں۔ ان کا مشہور ناول ”آخری تشخیص“ [Final Diagnosis] ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی زندگی کے بارے میں ہے۔ ایک بڑے ہسپتال کا ماحول دکھایا ہوا ہے۔ اس ہسپتال میں پیئر سن نام کے ایک بڑے میاں پیتھالوجسٹ ہیں یعنی یہ ڈاکٹر صاحب لیبارٹری کے انچارج ہیں۔ تیس سال سے اس شعبے کے سربراہ ہیں۔ مزاج کے تلخ۔ جب موقع ملا دوسرے ڈاکٹر کی غلطی پکڑی اور اس غریب کی ٹانگ کھینچ دی۔

رعب اتنا کہ ناک پر مکھی بیٹھنے نہیں دیتے۔ گو کہ انہیں خود احساس نہیں ہو رہا لیکن سب کو پتہ چلا رہا ہے کہ صاحب اب وقت سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ یعنی وہ نئی تحقیقات سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وجہ سے ایک دن ہسپتال کی انتظامیہ ان کو اطلاع دیے بغیر ایک جوان پیتھالوجسٹ کو ان کے ماتحت ملازم رکھ لیتی ہے۔ اس جوان پیتھالوجسٹ کا نام کولمین ہے۔ جوان کولمین بوڑھے پیئر سن سے بالکل الٹ ہیں۔ نئی تحقیقات انہیں ازبر ہیں اور ان کو استعمال کرنے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں۔

بڑے میاں ان سے بھی سینگ اڑا لیتے ہیں لیکن قسمت خراب تھی۔ تھوڑے ہی عرصہ میں بڑے میاں پرانی روش پر اڑے رہنے کی وجہ سے ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ ایک مریض کی موت ہو جاتی ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ فیصلہ کرتی ہے کہ ان صاحب کو ریٹائر کر کے اپنی جان چھڑائی جائے۔ اور ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ کچھ ماہ بعد آپ کو ریٹائر ہو کر دیا جائے گا اور جوان کولمین کو اطلاع دے دی جاتی ہے کہ دو ماہ بعد ان صاحب کی کرسی آپ کو مل جائے گی۔

اسی دوران ہسپتال میں ٹائیفائڈ کی وبا پھاٹ پڑتی ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ کولمین کو قریب رہ کر احساس ہوتا ہے کہ بڑے میاں اتنے برے ڈاکٹر نہیں تھے بس وقت سے پیچھے رہنے کی غلطی کر بیٹھے۔ اسی دوران ایک اور مریض کی تشخیص کرتے ہوئے بڑے میاں صحیح نکلتے ہیں اور جوان کولمین غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اور دونوں کی دوستی بھی ہو جاتی ہے۔ بہر حال وہ دن آتا ہے جب بوڑھے پیئرسن ریٹائر ہو رہے ہیں۔ وہ اپنی چیزیں سمیٹتے ہوئے جوان کولمین سے کہتے ہیں کہ اب تم میری کرسی پر بیٹھو گے۔ کبھی ایک فون آئے گا اور کبھی دوسرا فون آئے گا۔ ایک کے بعد دوسرا ڈاکٹر تمہیں ملنے آئے گا۔ تم سارا دن کام کرو گے۔ اور رات کو تھک کر سو جاؤ گے۔ اسی طرح ایک مہینہ گزرے گا، پھر ایک سال گزرے گا۔ اور تم کوئی نئی چیز نہیں سیکھو گے۔ تم مصروف ہو گے تم دوسروں کو نئی تحقیقات سیکھنے کے لئے کانفرنسوں پر بھیجو گے اور خود نہیں جاؤ گے۔ تم مصروف ہو گے اور خود تحقیق کرنا ترک کردو گے۔ تم کوئی نئی ریسرچ نہیں پڑھو گے۔ پھر کئی سالوں بعد ایک دن تمہیں پتہ چلے گا کہ جو کچھ تم جانتے ہو بیکار اور پرانا ہو چکا ہے۔ لیکن اب اس غلطی کو درست کرنا تمہارے بس میں نہیں ہو گا۔

اس بوڑھے کا مشورہ مانو جو ان حالات سے گزر چکا ہے۔ روز کی مصروفیات بھاگ کر وقت نکالو خواہ تمہیں اس کے لئے اپنے آپ کو الماری میں بند کرنا پڑے۔ پڑھو، سوچو اور نئی تحقیقات سے واقف رہو اور خود تحقیق کرتے رہو۔ پھر تمہیں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ یہ تو فارغ ہو گیا ہے۔ یہ کل کا آدمی ہے۔ کیونکہ تمہیں دوسروں جتنا ہی علم ہو گا اور ایک زاید چیز تمہارے پاس ہو گی اور وہ تمہارا وسیع تجربہ ہو گا۔ پھر تمہیں کوئی تمہارے مقام سے ہلا نہیں سکے گا۔

لیکن کہا جاتا ہے کہ عمر کے ساتھ دماغ کے خلیے یعنی Cells جنہیں نیورون کہا جاتا ہے کم ہو رہے ہوتے ہیں۔ اور دماغ میں نئے نیورون نہیں بن رہے ہوتے۔ اب دماغ ہی سکڑ رہا ہو تو اس مسئلے کا کیا حل نکالیں؟ فکر نہ کریں یہ تحقیق پرانی ہو گئی ہے۔ تازہ تحقیق یہ ہے کہ آپ کا دماغ نئے نیورون بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن اس عمل کو تیز کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اور اس تحقیق کے مطابق وہ طریقہ ہے روزانہ ہلکی سی ورزش۔ اس ورزش سے نہ صرف جسم اور دل کی حالت بہتر ہوگی بلکہ آپ کا دماغ بھی سکڑنے سے بچا رہے گا۔

سائنسدانوں نے پہلے میرے جیسے بوڑھے چوہوں کو باقاعدگی سے کچھ دوڑ کرا کے تجربہ کیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ان چوہوں کے دماغ کے ایک حصہ hippocampus میں نئے خلیے یعنی نیورون بننے شروع گئے اور پرانے نیورون کی موت کا عمل بھی آہستہ ہو گیا۔ اور ان کی یاداشت بہتر ہو گئی۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ اس تجربے کو انسانوں پر دہرا کر دیکھیں۔ چنانچہ ایک سال انسانوں کو ورزش کرا کے دیکھا۔ اس سے ان کے دماغ کے کئی حصوں کا نہ صرف حجم بہتر ہوا بلکہ ان حصوں کے آپس میں روابط بھی بہتر ہونا شروع ہوگئے۔ اور ان کے دماغ کے hippocmapus کا سائز بڑا ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں ان کی یادداشت بہتر ہو گئی۔

اس کا ایک اثر یہ بھی ظاہر ہوا کہ دماغ کے ایک اور حصہ Prefrontal Cortex نے بڑھنا شروع کر دیا۔ دماغ کا یہ حصہ آپ کے ماتھے کے نیچے ہے اور اس کا تعلق شعور، فیصلہ اور منصوبہ بندی کی صلاحیتوں کے علاوہ یادداشت سے بھی ہے۔

اگر آپ اس طریق پر ورزش کریں گے کہ ورزش کے ساتھ آپ کا دماغ بھی مصروف ہو تو زیادہ اچھا اثر ہو گا۔ مثال کے طور پر جب آپ ورزش کی سائیکل پر ورزش کر رہے ہوں تو آپ کا دماغ زیادہ سرگرم نہیں ہوتا۔ لیکن جب آپ کسی جنگل میں چل رہے ہوں تو آپ کے دماغ کو توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ آپ کو راستہ دیکھنا پڑتا ہے۔ اپنے پاؤں کو بچانا پڑتا ہے۔ یہ چیزیں ورزش کو زیادہ فائدہ مند بناتی ہیں۔ جب کچھ ایسے لوگوں کو جن کی ذہنی صلاحیتیں عمر کے ساتھ کم ہو رہی تھیں ورزش کے ساتھ ایک ایسی ویڈیو گیم بھی دے دی گئی جس میں عقل استعمال کرنی پڑتی تھی تو ان کو زیادہ فائدہ ہوا۔

اپنے ذہن کو نئی چیزیں سیکھنے میں مصروف رکھیں۔ اس سے آپ کے دماغ میں بننے والے نئے خلیے ضائع ہونے کی بجائے آپ کے دماغ کے نظام کا حصہ بن جائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ہلکی سی ورزش اور نئی چیزوں کا سیکھتے رہنا آپ کو اس قابل بنا دے گا کہ آپ ”کل کے بچوں“ سے مقابلہ کر سکیں۔ [تاہم کوئی غیر معمولی تجربہ کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔ ]

تفصیلات کے لئے دیکھیں Scientific Americanجنوری 2020۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *