میں عمران خان کی طرح نڈر نہیں ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے آس پاس بیٹھیں یا دائیں بائیں، آگے پیچھے ساتھ ساتھ چلتیں شخصیات سبھی ماسک باندھے ہوتی ہیں مگر خطرے کی زد میں عمر کے حامل ہمارے ان سابق کھلاڑی سیاستدان نے اگر ماسک استعمال کیا تو شاید ایک دو بار ورنہ ماسک کے بغیر اور مطمئن ہی دکھائی دیے، جب کہ ماسک باندھے لوگوں کی آنکھوں میں اضطراب اور بے یقینی جھلکتی دیکھی جا سکتی ہے۔ عمران خان اگر خدانخواستہ کورونا وائرس پھیلانے والے یعنی Carrier ہوتے تو انہیں ماسک باندھنے پر ضرور قائل کیا جاتا کیونکہ اور نہیں تو جنرل قمر باجوہ کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش سے اجتناب بہر طور کیا ہی جانا تھا۔ ہاں البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم کو معمولی نزلہ زکام ہوا ہو، جیسا انہوں نے کورونا سے متعلق اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا اور ٹھیک ہو گئے ہوں۔ ہسپتال تو ویسے بھی اپنا ہے، انٹی باڈی ٹیسٹ کرانے سے ثابت ہو گیا ہو کہ وہ ساتھیوں کے لیے بے ضرر ہیں اور خود محفوظ۔

مضطرب تو صحت سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا بھی ہوا کرتے تھے لیکن اب ان میں تکبر آ گیا ہے۔ انہیں شاہ زیب خان زادہ بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں مرض کے پھیلاؤ کی شرح 8 فیصد ہے اور ہمارے ہاں 24 فیصد تو کرسی گھماتے ہوئے جھنجھلاہٹ چھپائے بغیر کہتے ہیں کہ مجھے تو بھارت میں ٹیسٹوں کے طریق عمل کا معلوم نہیں البتہ ہمارے ہاں ٹیسٹ زیادہ کیے جائیں گے تو مریض بھی زیادہ ظاہر ہوں گے اور اموات بھی زیادہ ہوں گی ، یہ تو ہمیں معلوم تھا۔

کسی روز ہماری توقع سے زیادہ اموات ہونے لگی ہیں تو کسی روز کم بھی ہو جاتی ہیں۔ ویسے یہ بات جو معاون خصوصی برائے صحت اور بلاشبہ وزیر صحت کو پہلے سے معلوم تھی وہ تو کورونا کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کو معلوم تھی۔ پوچھا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر دس لاکھ افراد میں 8 اموات ہیں اور ہمسایہ ملک میں 4 تو اس پر بے نیازی سے کہتے ہیں کہ ہاں بدقسمتی سے معاملہ ایسا ہی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وحشی بھیڑیے کی طرح لوگوں کو شکار کرتا پھر رہا ہے۔ زیادہ مریض ہونے والوں اور مرنے والوں میں سے بیشتر اچھے اور صاف ستھرے ماحول میں رہنے اور بہتر غذا لینے والے لوگ ہیں جیسے سینیر ڈاکٹرز، اراکین اسمبلی، کسی کالج کے پرنسپل، کسی ڈاکٹر کی بیوی۔ حقیقت یہ ہے کہ بہتر ماحول میں جراثیموں سے محفوظ زندگی بسر کرنے والوں میں ایسے جراثیموں اور وائرسوں کے خلاف قوت مدافعت کم پڑ چکی ہوتی ہے جن سے ان کا عام طور پر پالا نہیں پڑتا۔ یورپ کے ملکوں اور امریکہ میں بھی اسی وجہ سے بہت زیادہ لوگ کورونا وائرس میں مبتلا بھی ہوئے اور اس کے شکار بھی۔

میں گزشتہ انتیس برس سے روس میں رہتا رہا ہوں۔ بہتر طبی سہولیات، صاف ماحول اور مناسب غذا کے سبب میں بھی ایسے کئی خوردبینی دشمنوں کے مقابلے میں کمزور پڑ چکا ہوں۔ میرے مضامین پڑھنے والے جانتے ہوں گے کہ میں دو ماہ سے ایک اور وائرس سے ہوئی مرض کے درد اور اضطراب کی اذیت سہہ رہا ہوں۔ چنانچہ گھبراتا ہوں اس لیے احتیاط برتنے کی سعی کرتا ہوں۔

ابھی میرے ہم جماعت ڈاکٹر کا فون آیا تھا جس نے بتایا کہ کورونا بے قابو ہو چکا ہے۔ موصوف آنکھوں کی امراض کے ماہر ہیں اور حد درجہ احتیاط برتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے بڑے بھائی، جنہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کی عمر 86 برس ہے۔ انہوں نے سارے روزے رکھے اور جسمانی طور پر مسلسل مستعد و مصروف بھی رہے جیسے درختوں پودوں کی تراش خراش، پانی دینا وغیرہ میں۔ انہیں تین روز سے ہلکا بخار ہے۔ شدید کھانسی ہے اور بے حد نقاہت۔

ڈاکٹر موصوف نے کہا کہ جس شخص کو بھی تین روز تک ہلکا بخار ہو، خشک کھانسی اور بے حد تھکاوٹ ہو سمجھو وہ کورونا میں مبتلا ہے۔ اگر بخار زیادہ ہو جائے تو بدبختی ہے۔ میں چونکہ ایک وائرس کا نشانہ بن چکا ہوں، اس لیے گھر والوں سے کہا کہ بھائی کا کورونا ٹیسٹ کروایا جائے۔ کہنے لگے اول تو یہاں ٹیسٹ ہوتا ہی نہیں۔ اگر متعلقہ حکام سے درخواست کی جائے تو وہ مریض کو جا کے ہسپتال میں ڈال دیتے ہیں۔ انہیں کپکپی ہے، اس لیے ڈاکٹر نے ملیریا تشخیص کیا ہے۔ ایکس رے میں کوئی ایسی بات نہیں۔ مقامی ڈاکٹر علاج کر رہا ہے۔

سوچا میں نے بھی کہ وہ بھی گزشتہ تین ماہ سے گھر میں ہی بند ہیں، کورونا کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر بھی میں نے کہا کہ باقی لوگ احتیاط کریں تو مجھے کہا گیا کہ تم ڈرتے بہت ہو۔ اگر سب نے مرنا ہے تو مرنا ہے۔ میں بھلا کیا کہتا۔ اتنا ضرور کہا کہ بھئی مجھ میں تو قوت مدافعت کم ہے اس لیے ڈرتا ہوں، مجھے کوئی بھی متعدی بیکٹیریا یا وائرس آپ لوگوں کی نسبتتا جلد متاثر کر سکتا ہے۔

گھر کے باقی کمرے ایک کمرے کی نسبت گرم ہیں۔ اس کمرے میں مریض بھائی کے ساتھ ان سے پانچ اور چھ سال چھوٹی دونوں بہنیں بھی دوپہر میں سوتی رہیں۔ یہ کل کی بات ہے۔ رات کو اسی کمرے میں نصب اے سی چلا کے میں سوتا ہوں۔ ایک بہن اور ایک بھتیجی بھی سونے پہنچ جاتی ہیں۔ بھتیجی تو والد کا دھیان رکھنے کو صحن میں سونے والی تھی۔ بہن آئیں تو میں نے کہا کہ تم نیبولائز کرواتی رہی ہو۔ مریض ہو اس لیے آج ٹھنڈے کمرے میں نہ سونا۔ وہ بھی صحن میں جا سوئیں۔

میں سوچتا رہ گیا کہ اگر خدانخواستہ بھائی کو کورونا ہوا تو کمرے میں موجود وائرس جو تینوں میں بٹنے تھے، اکیلے مجھے سونگھنے ہوں گے ۔ اس وہم سے بہت دیر نیند نہ آئی۔ پھر بھی میں آج دوپہر سونے کے لیے اس ٹھنڈے کمرے میں نہیں گیا جہاں وہ لوگ موجود ہیں۔ ڈرتا تو ہوں ہی اس لیے محتاط بھی ہوں۔ عمران خان کی طرح نڈر اور بے احتیاط نہیں ہو سکتا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *