کورونا جرثومہ، ترکی اور اسلامی اقدار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں کورونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے جس سے بچنے کی خاطر لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ یوں تو گھر میں وقت گزارنے کی خاطر مختلف مصروفیات ہیں لیکن راقم کو اس دوران ترک ٹیلی وژن کی تیار کردہ تاریخی ڈرامہ سیریل ارطغرل اپنے گھر والوں کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ طویل ٹی وی ڈرامہ سیریل اس قدر سحر انگیز ہے کہ ہر دیکھنے والا عش عش کرتا ہے۔ فی الوقت یہ ڈرامہ اتنا مقبول ہوا ہے کہ 60 ممالک میں سب ٹائٹل کے ساتھ یا مقامی زبانوں میں ڈب کر کے پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ترکی زبان میں تیار کیا گیا۔

ارطغرل ترکی کے خانہ بدوش قبیلے ”قائی“ کی کہانی ہے۔ قائی قبیلہ ایک جنگجو قبیلہ ہے جس کے شہ سوار بے رحم موسم، سفاک اور جلاد منگول اور صلیبیوں کا جرات سے مقابلہ کرتے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے یروشلم فتح کرنے کے بعد صلیبی سلسلہ یروشلم کو دوبارہ فتح کرنے کے لیے کوشاں تھے اور مسلمانوں کو شکست دینا چاہتے تھے۔ قسطنطنیہ پہ رومیوں کا قبضہ تھا جبکہ ترک قبائل آپس میں بھی لڑتے تھے۔ ان نامساعد حالات میں ارطغرل اور اس کے بیٹے عثمان نے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو سلطنت عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی اور 800 برس تک قائم رہی۔ چرواہوں اور خانہ بدوشوں پہ مشتمل قائی قبیلے نے اوغز ترک قبائل کو اپنی جرات اور جوانمردی سے ایک لڑی میں پرو دیا جس کے باعث مسلمان ایک سوپر پاور یعنی عالمی طاقت بن کر ابھر ے۔ ارطغرل کے اللہ پہ ایمان اور عدل و انصاف پہ مبنی نظام نے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔

یہ ڈرامہ فنی اعتبار سے تو شاہکار ہے لیکن اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ مسلمانوں پہ مسلط کردہ احساس کمتری کے طلسم توڑ کر پھینک دیتا ہے جسے اسلام دشمن عناصر نے مسلم سماج میں پھیلا رکھا ہے۔ اس ڈرامہ سیر ل کو دیکھ کر نہ صرف ہر ترک بلکہ ہر مسلمان کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔

مغرب میں اس ڈرامہ سیریل کا بہت چرچا ہے۔ اسے ترکی کا ”سافٹ ایٹم بم“ ہونے کا طعنہ دیا جار ہا ہے۔ امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ“ ارطغرل ڈرامہ سے پتہ چلتا ہے کہ ترکی کے کیا عزائم ہیں اور وہ خود کو ایک بڑی سلطنت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

یعنی دونوں مل کر مسلمانوں کی عظیم سلطنت کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان سے ”ارطغرل“ کے خلاف ہونے والے اس پراپیگنڈے کے جواب میں صرف ایک فقرہ کہا ہے کہ ”جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے۔ یوں تو ڈرامے میں دکھلائی گئی اسلام کی سنہری قدریں، ان پہ عمل اور ان کی وجہ سے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ فتح و نصرت ہم مسلمانوں کو جوش دلانے کے لئے کافی ہے لیکن کو رونا جرثومہ کے وبا کی قدرت کی جانب سے آزمائش کے دوران ترک حکومت اور رجب طیب اردگان کی جانب سے اپنائے گئے اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی اقدار کوئی دیومالائی کہانیاں نہیں۔

قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کی تعلیمات پہ ثابت قدمی سے عمل ہی ہمیں ان آزمائشوں پہ پورا اترنے میں مدد ملے گی جو کورونا جرثومہ کے باعث عالم انسانیت پہ بپا ہوئی ہیں۔ ترک جمہوریت نے کورونا کی وبا کے دوران جرثومہ سے بچنے کی خاطر ناک اور منہ ڈھانپنے والے ماسک کی فروخت کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس کے بجائے یہ ماسک مفت تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ہر خاندان ہفتے میں پانچ ماسک مفت آن لائن منگوا سکتا ہے۔

ترک حکومت نے اپنی فوج کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ کورونا وبا کی وجہ سے محصور عمر رسیدہ ترک باشندوں کو مفت خوراک اور ضروریات زندگی فراہم کریں۔ فوج کی ہی ایک یونٹ کی ذمہ داری ہے کہ گلیوں میں پھرنے والے لاوارث جانور مثلاً کتے اور بلیوں کو ٹیگ لگائیں اور ان کے لئے بھی خوراک کا بندوبست کریں۔ جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے، پورے ترکی کے بچوں کو ٹی وی کے ذریعہ مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔ مغرب ممالک کے مناظر ٹی وی پہ دکھائے جاتے ہیں کہ محصور عوام اپنے گھروں کی بالکونی پہ کھڑے ہو کر تالی بجاتے ہیں بآواز بلند گیت گاتے ہیں۔

اس کے برعکس ترکی کی تمام مساجد میں عشاء کی اذان کے بعد لوگوں کی ہمت بندھانے کی خاطر ایک خطبہ دیا جاتا ہے اور خصوصی دعا کرائی جاتی ہے۔ مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے لیکن باجماعت نماز کی اجازت نہیں۔ ہر مسجد میں جوتے رکھنے کے لئے جو شیلف تھے ان کی صفائی کر کے وہاں اشیائے خورد و نوش حکومت کی جانب سے رکھ دی جاتی ہیں کہ جو ضرورت مند ہیں وہ خاموشی سے مفت یہ اشیاء گھر لے جائیں۔ مساجد کی اسلام میں بطور معاشرتی گہوارہ بڑی اہمیت ہے اور یہ اہمیت قائم رکھی گئی ہے۔ مدرسے بھی آن لائن تعلیم دے رہے ہیں۔ رجب طیب اردگان غرباء اور عمررسیدہ لوگوں کی دعا تو لے رہے ہیں لیکن وہ معاشی ادارے جو ربا پہ منحصر قرض پہ رقم دیتے ہیں، ان سے دور رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سات ماہ کی تنخواہ غرباء کی مدد کے لئے پیش کر دی جس سے متاثر ہو کر عوام بھی بھرپور انداز میں فلاحی و بہبود کی خاطر چندہ جمع کر ارہے ہیں جس کی عصر جدید میں مثال کم ملتی ہے۔

قصہ مختصر کہ فلاحی ریاست کا تصور جو اسلام نے دیا ہے اس کی تعبیر ترکی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ کرونا جرثومہ کی باعث پھیلنے والی وبا جس نے تمام دنیا میں تباہی پھیلائی ہے سے نجات یا علاج کی دوا بھی تک سائنس داں تلاش کر رہے ہیں لیکن اس آزمائش نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم اپنے گریباں میں جھانکیں اور خود اپنا احتساب کریں کہ ہمارے اعمال کیا ہیں۔ اسلام اگر سر چشمہ حیات ہے اور قرآن حکیم میں ایک کامیاب زندگی بسر کرنے کے طریقے درج ہیں تو اس سے بڑھ کر کیا ہدایت ہو سکتی ہے۔

جہاں رب عظیم سے ہم اپنے گناہوں کی معافی طلب کر یں وہیں ہمیں دکھی انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ اسی میں ہماری فلاح ہے۔ پاکستان کی عوام انسانی خدمت میں کسی سے پیچھے نہیں۔ 2005 کے ہولناک زلزلے اور 2010 ؁ء کے سیلاب کے بعد ہم نے دیکھا کہ پاکستانی عوام نے اپنی غیور اور انسانی خدمت سے بھرپور جذبے کا مظاہرہ کیا۔ کراچی سے خیبر تک عام لوگ چندہ، خوراک اور ضروریات زندگی لے کر روانہ ہو گئے۔ اور جس جوش، ولولے سے متاثرہ لوگوں کی خدمت کی وہ قابل تحسین ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران جہاں ایدھی، چھیپا، سہارا، شوکت خانم وغیرہ بھرپور انداز سے لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے لیکن عام لوگ بھی خوراک یا چندہ اکٹھا کر کے متاثرہ لوگوں کی خدمت کو نکل پڑے ہیں۔

جہاں ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں ہماری سیاسی قیادت کو بھی متاثرہ پاکستانیوں کی خدمت کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *