ایک فیکٹری میں حادثہ اور ایک حساس لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ ایک وسیع و عریض فیکٹری تھی۔ جو کئی حصوں پر مشتمل تھی۔ عمارت کے عقبی حصے میں ایک علیحدہ حصہ آفس ورک اور لیبارٹری کا تھا جہاں اس فیکٹری میں بننے والی اشیا کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل ٹیسٹ کیے جاتے تھے۔ یہاں بننے والی اشیا کی بین الاقوامی منڈی میں بڑی مانگ تھی۔ اس کے باوجود یہاں کام کرنے والے فیکٹری ملازمین اپنے حقوق سے محروم تھے۔ مزدور یونین کے سر کردہ رہنماؤں یا لیڈروں کا منہ کچھ رقم دے کر بند کر دیا جاتا۔ غریب اور مجبور مزدور کسمپرسی اور تنگ دستی کی وجہ سے کام کرنے پر مجبور تھے۔ ان مزدوروں کا سب سے بڑا مسئلہ دو وقت کی روٹی تھا۔ ائرکنڈیشنڈ آفسز میں بیٹھنے والے شاید ان مزدوروں کے مسائل کو کبھی نہ سمجھ سکیں۔

”وردہ کیا تمہیں میڈیکل کے پیسے مل گئے؟“

”نہیں راحیلہ، یہاں نجانے کیسا نظام ہے؟ میں نے اس سے قبل بھی جاب کی ہے۔ وہاں تو ہم جھوٹا نسخہ بنا کر دیتے تھے اور بنا اعتراض پیسے مل جاتے تھے۔ اور یہاں اصلی نسخہ دینے کے باوجود اتنے اعتراضات کیے جا رہے ہیں“ ۔

”وردہ! یہاں تو ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے چوکیدار کے بیٹے کی حالت انتہائی خراب ہو گئی۔ پینل پر تو انتہائی گھٹیا گورنمنٹ ہسپتال ہے۔ اس نے اوپر والوں سے کہا بھی کہ کسی پرائیویٹ ہسپتال کا انتظام کر دیں لیکن انھوں نے نہیں سنا۔ اسی شام چوکیدار کے بیٹے کا انتقال ہوگیا“ ۔
”راحیلہ، جب یہاں سہولتیں نام کو نہیں تو تم کس طرح پانچ سال سے یہاں ٹکی ہوئی ہو؟“

”تم جانتی تو ہو کہ میں اپنی والدہ کی اکلوتی اولاد ہوں۔ والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ یہاں کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ لیبارٹری میں اول تو کوئی مرد کارکن نہیں۔ دوسرے آفس کے سارے مرد، خواتین کی عزت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے آج تک میرا کوئی اسکینڈل نہیں بنا“ ۔

راحیلہ تم کچھ بھی کہو لیکن یہاں کی انتظامیہ صحیح نہیں۔ جب میں یہاں انٹرویو دینے آئی تھی تو میرے پاس چھے سال کا تجربہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود مجھے محض چھے ہزار ماہوار پر نوکری دی گئی۔ اس وقت فوری طور پر جاب میری مجبوری نہ ہوتی تو کبھی نہ کرتی۔ میرے ساتھ ایک دوسری لڑکی بھی انٹرویو کے لئے آئی تھی۔ اور اسے انھوں نے آٹھ ہزار کی پیش کش کی تھی۔ لیکن اس نے انکار کر دیا۔ کیونکہ وہ دس ہزار ماہانہ پر کسی اور ملٹی نیشنل میں جاب کر رہی تھی۔

”وردہ حوصلہ مت ہارو۔ ایک آدھ سال میں تنخواہ دگنی ہو جائے گی۔“
”ایک آدھ سال کس نے دیکھا ہے۔ یہاں تو ایک دن کا بھی بھروسا نہیں“ ۔ وردہ کے لہجے میں مایوسی ہویدا تھی۔

وہ دونوں اس وقت مائیکرو لیب میں معمول کے ٹیسٹ لگا رہی تھیں اور اسی دوران تھوڑی بہت بات چیت بھی جاری تھی۔ اچانک باہر سے زبردست دھماکے کی آواز آئی تو دونوں کام چھوڑ کر باہر نکل آئیں۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ فیکٹری کے کسی حصے میں دھماکہ ہو ا ہے۔ دھماکے کی آواز سن کر سبھی ڈر اور خوف کے مارے عمارت سے دوڑ دوڑ کر باہر نکلنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد مائیکرو لیب کا چپڑاسی یہ خبر لایا کہ دھماکہ فیکٹری کے مشینوں والے پورشن میں ہوا ہے۔

جہاں مشینوں کی ویلڈنگ کا کام ہو رہا تھا۔ یہ اطلاع دے کر وہ دوبارہ اسی سمت چلا گیا۔ جب کہ وردہ، راحیلہ اور دیگر لوگ و ہیں کھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ایک خون میں لت پت سترہ اٹھارہ سال کے لڑکے کو چند لوگ اٹھا کر باہر لائے۔ اس کی کھلی ہوئی بے نور آنکھیں اس بات کی گواہ تھیں کہ یہ چراغ گل ہو چکا ہے۔ ہاسپیٹل لے جانے کے بعد ڈاکٹر نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی۔ خون میں لت پت اس لڑکے کو دیکھ کر وردہ کا دل بے قابو ہوا جا رہا تھا۔ اس نے وہیں رونا شروع کر دیا تھا۔ جبکہ باقی عملہ دوبارہ سے اپنے اپنے کاموں کی طرف لوٹ رہا تھا۔ ان کی لیب کا چوکیدار جب واپس آیا تو وردہ صورتحال جاننے کے لئے بے تاب تھی۔

”رفیق کیا ہوا تھا؟“

”میڈم وہ لڑکا ویلڈنگ کا کام کرتا تھا۔ انگلی میں چوٹ لگی ہوئی تھی اس لئے بہت دن سے کام پر نہیں آ رہا تھا۔ اس کا بڑا بھائی والد اور دادا بھی یہیں کام کرتے ہیں۔ آج بڑا بھائی زبردستی اسے کام پر لے آیا تھا تو وہ کام کر رہا تھا۔ کسی نے ایک ڈرم لا کر وہاں رکھ دیا تھا وہ اسی پر چڑھ کر کام کر رہا تھا۔ ڈرم میں گیس بھری ہوئی تھی۔ اس نے مشین ویلڈ کرنے کے بعد جب ویلڈنگ راڈ اس ڈرم پر رکھی تو ڈرم پھٹ گیا اس کے دماغ پر شدید چوٹ لگی۔ لیکن دھماکہ کی وجہ سے کوئی بھی اندر جا کر اسے اٹھانے پر تیار نہ تھا۔ ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ اگر آدھے گھنٹے میں اسے لے آتے تووہ بچ جاتا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کو موت یہاں کھینچ کر لائی تھی“ ۔

رفیق کا روہانسا لہجہ وردہ کو زار قطار رونے پر مجبور کر رہا تھا۔ اتنی بڑی فیکٹری میں کسی حادثے کی صورت میں کسی ڈاکٹر یا ڈسپنسری کا انتظام تک نہ تھا۔

”رفیق کیا تم اس لڑکے کو جانتے ہو؟“ راحیلہ نے اسے اتنا افسردہ دیکھ کر سوال کیا۔ ”جی میڈم۔ میں اس کے محلے میں ہی رہتا ہوں۔ ان کے یہاں تو طویل العمری کا یہ عالم ہے کہ اس کے پردادا کا ابھی پچھلے دنوں انتقال ہوا ہے۔ کیسا جوان، کڑیل اور خوبصورت لڑکا تھا۔ محلے کی لڑکیاں اس پر مرتی تھیں۔ تھا تو اٹھارہ برس کا پر لگتا پچیس چھبیس سال کا تھا۔ میڈم میں تو یہ سوچ کر افسردہ ہوں کہ اس کی ماں یہ صدمہ کیسے برداشت کرے گی کیسے جوان بیٹے کا لاشہ اٹھتے دیکھ سکے گی؟“

رفیق کی افسردگی وردہ سے برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔
”رفیق کیا اس کے گھر والوں کو کچھ پیسہ دیا جائے گا“ ۔

”میڈم وہ ابھی تین مہینے سے تو آنا شروع ہوا تھا۔ ابھی تو اس کی نوکری بھی پکی نہیں ہوئی تھی۔ چھے ماہ بعد پکی ہوتی اور اس کا انشورنس بھی ہوتا۔ مجھے تو امید نہیں کہ ایک روپیہ بھی دیا جائے گا۔“

رفیق کی بات پر وردہ نے سوالیہ نظروں سے راحیلہ کی طرف دیکھا۔ ”بھئی اصول اصول ہوتا ہے۔ اب اگر ظفر صاحب سب سے ہمدردی کرنے لگے تو اتنی بڑی فیکٹری چلانا مشکل ہو جائے۔“ راحیلہ کے لہجے میں بے حسی کا عنصر نمایاں تھا۔

”راحیلہ اگر ظفر صاحب ایک ڈیڑھ لاکھ روپے اس کے گھر والوں کو دے دیں تو کوئی برائی کی بات تو نہیں۔ یہ پیسے انسانی زندگی کا نعم البدل تو نہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ ان کے زخموں کو مندمل کرنے میں مددگار ثابت ہوں“ ۔

”وردہ بی بی حقیقت پسند بنیں۔ یہ میری زندگی میں تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے تو دو مزدور مشینوں کی خرابی کی صورت میں موت کا شکار ہوئے تھے جب ان لوگوں کو کوئی پیسہ نہیں دیا گیا تو یہاں تو پھر اس لڑکے کی غلطی ہے۔ کہ اس نے ڈرم استعمال کیوں کیا۔ اور اس کی غلطی کی وجہ سے فیکٹری کے مشینوں والے حصے کو بھی خاصا نقصان پہنچا ہے۔ ظفر صاحب اس کے گھر والوں کو پیسہ دینے کے بجائے اس حصے کی مرمت اور مشینوں کی ری پیرنگ پر پیسہ خرچ کرنا پسند کریں گے۔ ویسے ایک مشورہ ہے تمہارے لئے کہ اتنی حساس مت بنو۔ زندگی کے ہر قدم پر ایسے واقعات کا سامنا کرنا سیکھو تو تمہارے حق میں بہتر ہو گا“ ۔

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔

آفس ٹائم ختم ہونے والا تھا۔ وردہ نے بے دلی سے چیزیں سمیٹنا شروع کیں۔ وہ تمام لوگو ں کے چہرے کھوج رہی تھی کہ شاید کسی چہرے پر رقم افسوس اسے نظر آ جائے۔ لیکن افسوس اس کے بر عکس آفس سے باہر نکلتے ہوئے تمام لوگ نا صرف مطمئن نظر آرہے تھے۔ بلکہ زندگی کے میلے میں اس طرح مست و مگن تھے کہ انھیں ایک شخص کے اچانک چلے جانے کا نہ کوئی غم تھا نہ افسوس۔

انسانیت کی اس تذلیل پر اس نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے ایک نظر ڈالی۔ اور افسردہ قدموں سے آفس سے باہر آ گئی۔ اس کے اندر ایک سوال رہ رہ کر اٹھ رہا تھا کہ اس لڑکے کی جگہ میں بھی تو ہو سکتی تھی؟ ظفر صاحب بھی تو ہو سکتے تھے؟ یا پھر کوئی بڑا عہدہ دار؟ کیا تب بھی بے حسی کا یہی عالم ہوتا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *