خبیث مرد کا گھر ہی کونسا جسے بچایا جائے؟



عظمیٰ خان، ٹھیکیدار کی بیٹی، اور اس کے خبیث شوہر کی تکون پر مبنی کہانی اگرچہ اختتام پذیر ہو چکی ہے لیکن معاشرے کے تار و پود، اخلاقیات، اور قوانین کے حوالے سے کئی سوالات چھوڑ گئی ہے۔ میری ناقص فہم کو جن کے جوابات کی تلاش ہے، وہ سوالات یہ ہیں :

شادی شدہ جوڑے کے درمیان آنے والی عورت کو گھر برباد کرنے والی کہہ کر خوب گالیوں سے نوازا جاتا ہے۔ کیا شادی شدہ مرد دودھ پیتا، ناسمجھ بچہ ہوتا ہے جو اسے اس معاملے میں بے قصور سمجھا جا ئے؟ کیا تالی ایک ہاتھ سے بجتی ہے؟

جو بیوی، شوہر کو بدکاری سے نہ روک سکی، کیا اسے ”نام نہاد سوتن“ پر تشدد کرنے کا حق تھا؟ کیا ایسا کر کے اس کا شوہر پاک و صاف اور توبہ تائب ہو جا ئے گا؟ اس کے راہ راست پر آ جانے کی کیا ضمانت ہے؟

جو عظمیٰ خان کو گالیوں سے نواز رہے تھے، کیا انہوں نے ایک بھی لفظ خبیث شوہر کے خلاف بولا؟

دوسری عورت کے ساتھ منہ کالا کرنے والا مرد اگر ایسا ہی جوہر مردانگی سے مالامال ہوتا ہے تو وہ سامنے آنے کی بجائے چوہے کی طرح بل میں کیوں چھپ جاتا ہے؟

ایاز امیر نے اپنے مضمون میں برائی کی ”استطاعت“ کا ذکر کیا تھا، کیا سو شل میڈیا پر ہونے والے ڈرامے کے بعد بھی ایسے شوہروں کی ”استطاعت“ میں کوئی فرق آتا ہے؟ اور کیا یہ استطاعت صرف شوہر کے پاس ہوتی ہے، بیوی کے پاس نہیں؟

جس مرد کے منہ کو حرام لگ جائے، اسے دوبارہ حلال کی طرف کیسے مائل کریں گے؟

پیشہ کرنے والی خواتین کے ساتھ ہر مرد منہ کالا کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ کیا کبھی کسی آدمی نے ایسی عورت کا سر ڈھانپنے اور بیوی بنانے کا بھی سوچا ہے؟ (اور اگر کوئی اعلیٰ ظرف مرد ایسی عورت سے شادی کر بھی لے تو اکثر دلال بن کر وہی پیشہ کرواتا ہے یا سا ری عمر طعن و تشنیع سے عورت کا کلیجہ چھلنی کرتا رہتا ہے ) ۔

ہماری عورتوں میں کب اتنی ہمت آئے گی کہ زنا کرنے والے مرد کے منہ پر تھوک کر ا سے زندگی سے نکال پھینکے؟ خاص طور پر جب اس کا تعلق کسی ارب پتی خاندان سے بتایا جاتا ہو۔ کیا ایسی عورت کو دوسری شادی کے لئے رشتہ نہیں ملے گا؟

ہماری یہ دو ٹکے کی ذہنیت کب بدلے گی کہ ہر معاملے میں صرف عورت قصوروار ہوتی ہے؟ جس کا گھر برباد ہو، وہ بھی۔ اور جو گھر برباد کرے، وہ بھی۔

چار اہم ترین سوالات:

جس جلاد بیوی نے شوہر کی سہیلی کو ذلیل و رسوا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، وہ بیچاری ایک بھی جوتی اپنے خبیث شوہر کے منہ پر کیوں نہ مار سکی؟ غالباً وہ وفاشعار اور شوہر پرست اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گی کہ شوہر ”راہ راست“ پر آ جائے گا۔ (اگر وہ خوش قسمتی سے ”راہ راست“ پر آ جائے تو اس کی بھی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دے )

عورت کو ”دو ٹکے کی“ قرار دینے والے وہ عظیم ڈرامہ نگار کہاں ہیں؟ کیا مذکورہ ڈرامے میں انہیں ”دو ٹکے کا مرد“ نظر آیا؟ اس پر بھی ’میرے پاس تم ہو‘ جیسا ایک اور شاہکار ڈرامہ بن سکتا ہے۔

جلاد بیوی اس گھر کی بچانے کی کوشش کر رہی تھی جس کی بنیادوں میں مرد کی خباثت اور حرام کام بسیرا کر چکے ہیں؟ پتا چل جائے گا کہ ایسا گھر کب تک قائم رہتا ہے۔

شوہر کی سہیلی سے سڑنے کڑھنے والی اور جا کر اس کے گھر پر یلغار کر د ینے والی میں اتنی ہمت کیوں نہیں کہ وہ بھی دو چار بوائے فرینڈز ”پال“ لے؟ کیا اسے دل لگی اور عیاشی کا حق نہیں؟ اخلاقیات، کردار، اور گھر کو بنا کر رکھنا کیا یک طرفہ طور پر صرف عورت کی ذمہ داری ہے؟ (بیوی کے بوائے فرینڈ کو دیکھ کر شاید شوہر تھوڑی سی شرم محسوس کرے )

جس معاشرے میں مرد اور عورت کے لئے الگ الگ قوانین بنائے جائیں، وہاں عورت اسی طرح ذلیل ہوتی ہے۔ کبھی عظمیٰ خان اور کبھی ٹھیکیدار کی بیٹی بن کر۔

Facebook Comments HS