فرقان کی آخری دعا
یہ سوال ان دنوں اکثر ذہنوں میں آتا ہے اور ہم ایک دوسرے سے بھی کرتے ہیں، تمہارے کسی جاننے والے کو کورونا ہوا ہے؟ جواب زیادہ تر یہی ملتا ہے، نہیں میڈیا میں ہے، بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عید پر لاک ڈاؤن نرم یا ختم کیا گیا، اس کی وجوہات سب کو معلوم ہے لوگ کاروبار کرنا چاہتے تھے اور خریداری کر کے اپنی خوشیاں کسی صورت التوا میں ڈالنے کے لیے تیار نہ تھے۔
سعودی عرب کی حکومت نے چھ روز کا کرفیو لگادیا، جیسے وہاں دیگر اقدامات اٹھائے گئے اسی طرح فیہ فیصلہ بھی زیادہ اچھا نہ لگا۔ کم از کم پاکستانیوں نے دل سے قبول نہیں کیا۔ خیر ہمیں تو آزادی مل گئی تھی اور اس کا کھلا اظہار کیا گیا۔ بھرپور طریقے سے تاثر دیا گیا کہ کچھ نہیں ہے اور یہ کہ بندے کو ہر حال میں خوش رہنا چاہیے، حالانکہ خوشی کا تعلق دل کے اطمینان سے ہوتا ہے۔
لیکن ہمارا الگ سا میکنزم ہے، انسان خوشی کے بہانے تلاش کر لیتا ہے، بظاہر اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن دکھ، تکلیف، پریشانی اور بحرانی کیفیت میں خوشی کی نوعیت کا تعین بہت ضروری ہے۔
فرقان بھی عید کے موقع پر عزیز رشتہ داروں سے ملنے گیا، اور وہ کوئی اکیلا نہیں، ایک بڑی تعداد نے ایسا ہی کیا۔ بیوی بچوں کے ساتھ گاڑیوں، موٹرسائیکل حتیٰ کہ جیسی بھی سواری ملی اس پر بیٹھے اور ہر قسم کی احتیاط کو بالائے طاق رکھا۔
فرقان کا کاروبار تین ماہ سے بند تھا وہ اس سے پریشان تھا، عید کا تہوار ایک بہانہ بنا، کئی مہینے سے رشتہ داروں سے نہیں ملے تھے۔ وہ ماسک پہن کر اور سماجی فاصلے کا خیال رکھ کر چلے گئے۔ کورونا کی پابندیوں سے تنگ بچے بھی خوش تھا۔ فرقان اور اس کی اہلیہ نے بھی اپنوں میں عید منانے پر قدرے راحت محسوس کی۔
چند روز بعد فرقان نے بخار کے ساتھ بلکہ کھانسی کی شکایت کی، کسی کا دھیان بھی کورونا کی طرف نہیں گیا، اس نے پہلے گھر میں دوا لی پھر ڈاکٹر کو دکھایا، لیکن یہ سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا، ٹیسٹ کرانے کے مشورے پر فوری عمل کیا، جیسے ہی معلوم ہوا کہ رزلٹ پازیٹو آیا تو اس دوران حالت مزید بگڑ گئی، یہاں تک کہ اسے ہسپتال لے جایا گیا تو نوبت وینٹی لیٹر پر ڈالنے تک کی آ چکی تھی۔ اب اس مصنوعی نظام تنفس کا سیدھا مطلب یہی ہوتا ہے کہ قدرتی نظام نے ساتھ چھوڑ دیا۔ فرقان کے تمام رشتہ داروں اور عزیزوں تک بات پہنچی۔ اب ایک نئی بحث نے جنم لے لیا۔ فرقان کو کیا ضرورت تھی عید پر دوسروں کی طرف جانے کی؟
ایسے میں سب نے نہ جانے کس کس پر غصہ نکالا۔ عمران خان نے غلط فیصلہ کیا، اسے سمجھ نہیں آتی کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ لاک ڈاؤن کھول دیا، وہ لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اس کی حالت صرف دعا کی متقاضی تھی۔ اب احتیاط، پرہیز، نصیحت، بات ماننے یا نہ ماننے کا موضوع ختم ہوچکا تھا۔
فرقان جسے شاید خود بھی کورونا کی ہولناکی کا اندازہ نہیں تھا۔ وہ بھی اسے دوسروں کی طرح ایک سازش، انسان کا تیار کردہ ہتھیار یا میڈیا پر پھیلائی سنسنی خیز خبر تک سمجھتا۔ وہ اکھڑے سانسوں کے دوران وینٹی لیٹر پر اپنے گھر والوں اور ماضی کے واقعات پر غور کر رہا تھا، تکلیف اتنی زیادہ تھی کہ کسی کو بیان نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کا جی کرتا تھا کہ سب کو چیخ چیخ کر بتائے۔ ہاں کورونا ہے۔ یہ دیکھ لو میری حالت۔ میں اس وقت موت کی دہلیز پر قدم رکھے ہوا ہوں۔ زندگی کی خواہش میرے اندر دم توڑ رہی ہے، میں کسی سے گلہ بھی نہیں کر سکتا کون میری اس حالت کا ذمہ دار ہے؟ حکومت کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ یا میرا عید منانے کے لیے گھر سے نکلنا۔
فرقان کو صرف ایک بار دور سے گھر والوں کو دکھایا گیا۔ وہ ان سے نظروں ہی نظروں میں معافی مانگ رہا تھا اور یہ بھی کہہ رہا تھا کہ دوسروں کی بات مان لینا چاہیے، انسان کی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
فرقان نے آخری بار اللہ تعالی سے مخاطب ہو کر معافی مانگی۔ اور دعا کہ یا اللہ میرے خاندان اور باقی سب لوگوں کے دل میں یہ بات ڈال دیں کہ ہماری زندگی کتنی اہم ہے، اور کا خیال رکھنے کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔ یا اللہ۔ ہمیں معاف کر دینا، ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔


