اگر ایک عام پاکستانی وزیر اعظم ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرض کیجئے کوئی شخص آپ کو ایک لاکھ دینے کا کہے تو پہلا خیال آپ کے ذہن میں کیا آئے گا۔ یقیناً یہی کہ اس کے بدلے میں مجھے اس کے لئے کیا کرنا پڑے گا۔ اور اگر وہ شخص آپ کو کروڑ یا دس کروڑ دینے کا کہے تو۔ ۔ ۔ ہمارا شمار دنیا کی چند ذہین اقوام میں ہوتا ہے لیکن یہ اجتماعی دانش تب کہاں چلی جاتی ہے جب ہم ملک کے مقدر کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ قومی اسمبلی کی ایک سیٹ کی الیکشن کمپین پر ایک امیدوار کا دس سے پندرہ کروڑ خرچہ آتا ہے۔

آپ دو سو سے تین سو الیکشن آفسز کی چائے پانی کا دو سے تین لاکھ بھی خرچہ لگائیں تو چائے پانی پر چار سے چھ کروڑ لگ جاتے ہیں۔ اب کامیابی بھی یقینی نہیں تیس سے پچاس فیصد تک کامیابی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اب اس چیز سے قطع نظر کہ پارٹی سے قطع نظر کیا دو یا تین امیدوار آپس میں گٹھ جوڑ نہیں کرتے ہوں گے کہ کامیابی کی صورت میں ہم ایک دوسرے کی انویسٹ منٹ پوری کریں گے ہم صرف کامیاب امیدوار کی بات کرتے ہیں کیا وہ یہ سب پیسے اپنی جیب سے لگا رہا ہوتا ہے یا علاقے کے کرپٹ عناصر اس پر انویسٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ اب اوپر وزرا اور وزرائے اعلی اور وزیر اعظم کے خرچے کا اندازہ لگائیں۔

کیا پاکستانی پبلک واقعی یہ سمجھتی ہے کہ بدلے میں وہ کچھ نہیں لیں گے یا پاکستانی قوم کا اجتماعی شعور ابھی اس قابل نہیں۔

پاکستانی قوم کو بتایا گیا کہ پہلے جو خوشحالی تھی اور اب جو بد حالی ہے اس کا ذمہ دار نواز شریف تھا۔ قوم ایک انقلاب کے بعد عمران خان کو لے آئی اور یہ توقع کرنے لگی کہ پاکستان چند ماہ میں یورپ بن جائے گا لیکن ہر ادارے میں بگاڑ نظر آ رہا ہے اب تازہ تھیوری یہ ہے کہ عوام اور تاجر ہی کرپٹ ہیں۔ اب جبکہ ان بیانات میں مایوسی نظر آتی ہے تو آئیے دیکھیں تین سو کنال میں رہنے والے عمران خان پانچ سو کنال میں رہنے والے نواز شریف اور ارب پتی زرداری کی بجائے اگر آج ایک عام پاکستانی با اختیار وزیر اعظم ہوتا تو وہ کیا کرتا۔

سب سے پہلے تو کرونا سے پہلے سے ہی کاٹیج انڈسٹری برباد ہے۔ پاکستان میں بجلی کی بہت بڑی کنزیومر شپ موجود ہے۔ آسان قرضہ جات دے کر سولر سیل۔ چھوٹے ڈیم۔ اور ہوا سے بجلی بنا کر الیکٹریکل انجینئرز اور ڈپلومہ ہولڈروں کو ڈسٹری بیوشن کی ذمہ داری دے کر ایک بڑی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔

خشک دودھ ہم آج تک درآمد کرتے ہیں زرعی گریجویٹس کو اس کے پلانٹس لگانے پر لگا کر دودھ برآمد کیا جا سکتا ہے۔

پنکھے اور کٹلری کی صنعت آر این ڈی نہ ہونے کی وجہ سے مردہ ہو گئی ایک ٹاسک فورس بنا کر اس صنعت میں نئی اپج اور پاکستان کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

درے کی اسلحہ انڈسٹری کے پٹھان کسی صورت چینیوں سے کم نہیں انہیں اپ گریڈ کر کے اسلحے کی سستی صنعت میں نام پیدا کیا جا سکتا ہے۔

لیکن جب تک ارب پتی ہمارے حکمران بنتے رہیں گے جن کے چولہوں اور عیاشیوں کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا جب تک سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی عیاشی اپنی جگہ پر ہو گی تب تک یہ سوچنا ایک عام آدمی کے مسئلے کا انہیں ادراک ہو رہا ہے احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔
پاکستان ایک نیا سوشل کنٹریکٹ مانگ رہا ہے جہاں ایک عام پاکستانی حکمران ہو

Latest posts by جنید بابر نارو (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply