حکومت کو اپنی حکمرانی سے خطرہ ہے!
اپوزیشن لاکھ اعتراض کرے جتنا مرضی واویلا بچائے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد عوام نے سکون کا سانس لیا تھا کہ بار بار آزمائے ہوؤں سے بڑی مشکل جان چھٹی ہے۔ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد عوامی حلقوں میں یہ بات روز سے زیر بحث رہی کہ اب لوٹ مار ’کرپشن اور خود ساختہ مہنگائی کا خاتمہ ہو گا۔ اگر کسی طبقے نے ایسے مکروہ عزائم ظاہر کیے تو پھر اس کے خلاف فی الفور قانون حرکت میں آئے گا، لیکن دو برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود کرپٹ مافیا کے گرد حقیقی شکنجہ کسا گیا نہ ہی خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کا حقیقی محاسبہ ہوا ہے۔
حکو مت بحران در بحران پر کمیشن بناتی ہے، رپورٹ بھی شائع کی جاتی ہے، مگر سزاوجزا کے عمل کے آڑے مجبوریاں آجاتی ہیں۔ حکومتی تمام دعوؤں کے باوجود آٹے، چینی کی قیمتیں واپس نہیں آئیں، اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، مگر انتظامیہ خاموش تماشی بنی ہوئی ہے۔ وفاق نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 سے 56 فیصد کمی کی تھی جس پر عوام نے سکھ کا سانس لیا، لیکن اس کے بعد سے پٹرول نایاب ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور اور کراچی میں عوام پٹرول کے حصول کے لئے گھنٹوں لمبی لائنوں میں انتظار کے بعد سو روپے کا پٹرول لینے پر مجبور ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق کرپٹ مافیا پر قابو نہیں پا سکی، اس کی مین وجہ ہماری انتظامیہ کی نا اہلی اور نالائقی ہے۔ حکومت جب تک ایڈمنسٹریشن کو بہتر نہیں کرے گی، تب تک عوام کی دہلیز تک حکومتی اقدامات کے ثمرات پہنچنا ناممکن ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ و زیر اعظم درد دل رکھتے ہوئے محروم پسماندہ طبقات کو ہر قیمت ہر رلیف پہنچانا چاہتے ہیں، مگر کا بینہ ارکان اور انتظامیہ ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں عوامی مفاد کے فیصلوں پر صرف منظوری کا فی نہیں، بلکہ ان پر عملدر آمد کر وانا بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے وزراء کی کار کردگی نہ ہو نے کے برا بر ہے، حکو متی وزراء اپنی وزارت کی کار کردگی کو بہتر بنانے کی بجائے اپوزیشن پر الزام تراشی میں وقت کا ضیاع کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم بار ہا تنبیہ کے ساتھ وزارت میں تبدیلیاں بھی کر چکے ہیں، مگر نئے آنے والے وزراء بھی پرانی ڈگر پر چلنے کو تر جیح دیتے ہیں۔ عوام کورونا وبا کی زد میں بڑھتی مہنگائی، بے روز گاری کے ہاتھوں پریشان حال ہے، جبکہ عوام کے منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل کے تدارک کی بجائے ذاتی تشہیر کی زیادہ فکر ہے۔ مرادسعید، شیخ رشید سے لے کر شہباز گل اور فیاض الحسن چوہان تک، سبھی اپنی وزارت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی بجائے اپوزیشن کو لتا ڑنے میں لگے ہیں، حالانکہ موجودہ حکومت کو اپوزیشن سے نہیں، اپنی حکمرانی سے خطرہ ہے۔ حکومت گڈگورنس کو بہتر بنا نے کی بجائے عوام کو انا اہل نتظامیہ اور کرپٹ کاروباری مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔
عوام ایک طرف کورونا وباکے باعث مر رہے ہیں تو دوسری جانب بڑھتی مہنگائی، بے روز گاری کے ہاتھوں خودکشیاں کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ ملک کے دن بدن معاشی حالات خراب ہو رہے ہیں، حکومت کب تک یونہی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہے گی، اگر حکومت کرپٹ مافیاز کی لوٹ مار پر یونہی خاموش بیٹھی ر ہی تو پھر اس کی رٹ پر سوالات اٹھنے لگیں گے کہ آخر کرپٹ مافیاز کے ساتھ اتنی نرمی کیوں کی جارہی ہے اور کون کر رہا ہے؟ وزیر اعظم عمران خان ایک جانب کمیشن پر کمیشن بنوا کر ماضی کی لوٹ مار عوام کے سامنے لا رہے ہیں تو دوسری جانب لوٹ مار کرنے والوں پر چپ سادھ رکھی ہے۔
اس دہری پالیسی کو عوام ناپسنددیدگی سے دیکھتے ہیں۔ عوام نے ماضی کے کرپٹ حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے عمران خان کے وعدوں اور دعوؤں کی بنیاد پر موقع دیا تھا، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ عوام اپنے فیصلوں پر تذبذب کا شکارنظر آنے لگے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو مایوس نہ کرے اور کرپٹ مافیا کے گرد شکنجہ کس نے کے لیے نالائق انتظامیہ کو متحرک کرے، تاکہ عوام کوجوتبدیلی کا خواب دکھایا گیا تھا، اس کی تعبیر مل سکے۔
عوام آج بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں، مگر یہ تبدیلی محض اپوزیشن پر الزام تراشی سے نہیں آئے گی۔ اس کے لیے وزیر اعظم کے ساتھ ان کے وزراء اور مشیروں کیفوج ظفر موجھ کو بھی کار کردگی پر فوکس کر نا ہو گا اورکا بینہ میں کیے گئے فیصلوں پر عملدر آمد کو یقینی بنانا ہو گا، تبھی حکومت کے عوامی فیصلوں کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں گے۔ یہ کتنی عجب بات ہے کہ وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا پنجاب حکومت گندم کی قیمت مقرر کر کے خود خریدنے کا فیصلہ کرتی ہے، لیکن اس کا عام آدمی اور کسان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔
اس میں حکومتی منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے، اگر حکومت بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ فوڈ انسپکٹروں اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کرتی تو لازمی طور پر اس کے اثرات عوام تک پہنچنے تھے، چونکہ حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہوتی ہے، اگر وہ ہی کرپٹ عناصر کی سہولت کار بن جائے تو پھر حکومتی مشینری کو ناکامی سے کوئی نہیں بچاسکتا، اس وقت ہماری انتظامیہ نہ جانے کن کے اشاروں پر حکومتی احکامات کو نظر انداز کرکے اسے ناکام بنانے پر تلی ہوئی ہے۔
تحریک انصاف حکومت کو اپوزیشن سے نہیں، اپنی حکمرانی سے خطرہ ہے، اس صورت حال میں وزیر اعظم عمران خان کو اپنے وزراء کو بیدار کر کے حکومتی مشینری کو متحرک کرنا ہو گا، انتظامیہ میں سفارشی تعینات افسر ز سے چھٹکارہ حاصل کرکے میرٹ پر اہلیت کے حامل لوگوں کو آگے لا نا ہو گا۔ وفاق کے ساتھ جب تک صوبائی وزراء اعلیٰ مشترکہ اپنے صوبوں میں سرکاری مشینری کو متحرک نہیں کریں گے، تب تک حوصلہ افزا نتائج نہیں آئیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان عوام سے بہت سے دعوئے اور وعدے کر کے اقتدار میں آئے تھے، دوسال سے زیادہ عرصہ گز چکا ہے، عوام امید بھری نظروں سے حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کر کے عوامی اعتماد کو بحال کریں۔ عوام کے اعتماد کی بحالی اشیا ء ضروریہ کی دستیابی اور اس کے نرخوں میں کمی سے ہی ہو گی، حکومت کو اپنی ساری توانائیاں عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر صرف کرتے ہوئے اپنی رٹ کو بحال کرنا ہو گا، اس سے ہی خوشحالی آئے گی اور عام آدمی حکومتی اقدامات سے مطمئن ہو سکے گا۔


