دنیا میں فقط ایک زلیخا ہی نہیں تھی
فطرت اپنی جگہ نہیں چھوڑتی۔ ہم اسی مفہوم کو مختلف الفاظ میں بیان کرتے ہیں اور عام طور پر کہتے ہیں کہ انسان اپنی فطرت نہیں بدلتا یا وہ فطرت کے ہاتھوں مجبور ہے۔ ہم انسانوں کو بھی اس حقیقت کا بخوبی علم ہے اس لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ ناخوشگوار حالات سے بچ سکیں لیکن فطرت کے ہاتھوں مجبور، اگلے ہی لمحے ہم کوئی گل کھلا دیتے ہیں۔ پریشانی اور سرگردانی کا یہ سلسلہ ساری عمر جاری رہتا ہے۔
انسان نے زندگی کے آغاز ہی سے ایک طرف اپنے مشاہدات سے سائنس کا سہارا لے کر زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کی تو دوسری طرف انسان کی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرتی علوم کی بنیاد رکھی۔ رفتہ رفتہ دونوں علوم کئی شاخوں میں تقسیم ہو گئے۔ دراصل معاشرتی علوم کی ہر شاخ انسانی فطرت کے اچھے اور برے پہلوؤں اور اس کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔
سیاسیات کا مضمون جسے ماسٹر سائنس بھی کہتے ہیں، کی مدد سے سماج کو رسمی اور غیر رسمی ضابطوں کے ذریعے منظم کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ انسانی معاشرہ تصادم سے بچ سکے اور اچھی زندگی سے مستفید ہو سکے۔ قدیم مذہبی احکامات اور وقت کے دانشوروں کے علاوہ زمانے کے حکمران اپنے وزیروں، مشیروں سے بھی رہنمائی حاصل کرتے رہے تاکہ پبلک مطمئن رہے اور بغاوت کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ اسی طرح دوسرے قبائل اور حکمرانوں سے ضرورت کے مطابق معاہدات کے ذریعے جنگوں کو ٹالا گیا لیکن پھر جنگوں اور خانہ جنگیوں کا وہی نہ ختم ہونے والا سلسلہ!
اس طرح ہر زمانے اور کرہ ارض کے ہر خطے میں سیاست اور سیاسی کشمش جاری رہی۔ سیاست کا یہ مار کٹائی اور جنگ و جدل سے بھرپور کھیل آج بھی جاری ہے جس میں ہمیشہ کی طرح وقت کی عالمی طاقتیں، بادشاہ، حکمران، سلطان، سرکاری اہلکار، سردار، خوانین، صنعت کار اور سیاسی پارٹیوں کے کروڑوں کارکن ملوث ہیں جو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ اقبال عظیم نے ٹھیک کہا ہے کہ ”دنیا میں فقط ایک زلیخا ہی نہیں تھی/ ہر یوسف ثانی کے خریدار ملے ہیں۔
سیاسی دانشوروں نے ہر بار صدیوں سے جاری سیاسی مسائل کے مستقل حل کی کوششیں کیں لیکن انسان کی پیچیدہ فطرت اور نفسیات کو سمجھنے میں ہمیشہ ناکام رہے۔ حتیٰ کہ وہ آج بھی اسی بنیادی سوال پر بحث کر رہے ہیں کہ انسان فطرتاً نیک ہے یا بد۔ اس نقطے پر مفکرین کی متضاد آرا پر علیحدہ اور تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔
جن سیاسی مفکرین نے آج تک ریاست، حکومت اور عوام کے بیچ تعلق کی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے کی کوششیں کی ہیں انہیں دو گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم وہ فلاسفر ہیں جو ہمیشہ اپنے معاشرے اور ریاست کے دگرگوں اور ابتر ”عصری حالات“ سے نالاں تھے۔ انہوں نے معاشرے میں سیاسی خلفشار سے نجات کے لئے حل اور اصلاحات پیش کیں۔ دوسری قسم ان سیاسی فلاسفروں کی ہے جو اپنے زمانے کے مسائل سے ماورا ، انسانوں کے پیش آمدہ سیاسی بندوبست اور اس سے متعلقہ مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے تھے۔
انہیں کلاسیکی دانشور بھی کہتے ہیں جس میں افلاطون، ارسطو، روسو اور کانٹ وغیرہ کا نام لیا جاتا ہے۔ تاہم افلاطون سے کئی صدیاں پہلے گزرے دانشوروں کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً انسانی سماج کی ترقی میں غلامی کا آغاز ایک بڑی پیش رفت تھی کیونکہ اس سے قبل فاتح قبیلہ مفتوح قبیلے کے تمام مردوں کو بے دردی سے قتل کر دیتا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ نئے دانشوروں نے بھی اپنا کام جاری رکھا۔ بیسویں صدی عیسوی کے پہلے تین عشروں تک جب انسانی سماج (نہ کہ فطرت انسانی جو کبھی نہیں بدلتی) نے ترقی کی کئی اور منازل طے کر لی تھیں، مفادات سمیٹنے کے لیے اچانک نئی صف بندیاں شروع ہو گئیں۔ تصادم ناگزیر ہو چکا تھا۔ کسی ایک بھیڑیے نے صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ بکری نے اوپر سے بہتے پانی کو زیریں مقام پر کھڑا ہو کر گدلا کرنے کی شرمناک حرکت کی تھی۔ اسی پس منظر میں اٹلی میں عوام نے فاشزم، جرمنی میں نازی ازم اور روس میں کمیونزم کے دلکش نظریات کی حمایت میں اپنے آپ کو وقت کے لیڈروں کے حوالے کیا۔
ان ”نظریاتی ریاستوں“ نے اگلے چند برسوں میں نہ صرف دو عالمی جنگوں کا سامان پیدا کیا بلکہ اپنے عوام پر شدید مظالم ڈھائے کیونکہ نظریاتی سیاست میں ہمیشہ پہلے سے طے شدہ اہداف کے لئے ہر حربے کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ پروپیگنڈا اور اپنے عوام پر جبر کی بھی کھلی اجازت ہوتی ہے۔ ان لوگوں پر بھی جبر روا رکھا جاتا ہے جو کھل کر طے شدہ نظریات کی حمایت نہیں کرتے۔ پھر وہی ہوا جو انسانی سماج میں ہوتا چلا آیا ہے۔ لیکن اس مرتبہ ”علم، ٹیکنالوجی اور اسلحے“ سے لیس ممالک نے تباہی کی نئی داستانیں رقم کیں اور ثابت کیا کہ ”جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا / فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا“ ۔
سیاست اور سیاسیات آج بھی اسی انسان کے ہاتھ میں ہے جو ازل سے اپنی فطرت اور خواہشات کا غلام رہا ہے۔ اسے ہر دم ندامت کا احساس کھائے جاتا ہے کہ نہ تو وہ قابل اعتبار ہے اور نہ اس جیسے دوسرے انسان۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں جمہوریت رائج ہو چکئی ہے لیکن اب بھی سیاسی دانشور نظام میں بہتری کے متلاشی ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ جمہوری نظام محض الیکشن کے دن اپنے امیدوار کو ووٹ دینا نہیں بلکہ اسے عوام کے حقوق کا نگراں نظام بننا چاہیے۔
بات امریکی یا برطانوی نظام یا پھر حکمرانوں کے کردار پر نہیں ہو رہی کیونکہ جمہوریت میں حکمرانوں کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں بلکہ سارا مسئلہ انسانوں کی متضاد خواہشات اور ان کی فطرت میں شامل خود غرضیوں کا ہے جو ناقابل علاج ہے لیکن اس کے حل کا چیلنج آج بھی جمہوریت کو درپیش ہے۔ مثلاً عوام کے لئے جھوٹ بولنے پر تعزیری سزائیں مقرر ہیں لیکن ملکی قوانین میں سیاست کے نام پر دن رات بولے جانے والے جھوٹ پر کوئی سزا مقرر نہیں۔ امریکی نقاد آسکر ایورنگر نے امریکی سیاست کے متعلق لکھا ہے کہ یہ وہ نظام ہے جس میں کمال چالاکی سے غریبوں سے ووٹ اور مالداروں سے الیکشن مہم کے لیے فنڈز اس وعدے پر لیے جاتے ہیں کہ وہ انہیں ایک دوسرے سے بچائیں گے۔
کہتے ہیں کہ جب کوئی طاقتور، کسی بلا کو قابو کر لیتا ہے تو وہ خود بلا بن جاتا ہے۔ انسانوں کی یہی برائی جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے۔ اس سارے مسئلے کا حل کیا ہے؟ مزید اصلاحات؟ ہاں یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے معلوم اور واضح کمزوریوں اور خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔


