اردو کی درمیانی کتاب

پہلی جماعت میں ہمیں ”اردو کی پہلی کتاب“ پڑھائی جاتی تھی اور دسویں جماعت میں اس کا سلسلہ ”اردو کی آخری کتاب“ پر ختم ہو جاتا تھا۔ ہمارے معاشرے اور نظام تعلیم نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے جس میں سب سے اہم سبق سچائی کے مقابلے میں مصلحت کا دامن تھامے رکھنے کا ہے۔ بقول شاعر یہ شیوہ ہمارے معاشرے میں دانائی کا مظہر بھی ہے ”مصلحت سب کا تھا ایمان بھری بستی میں / سارے دانا تھے کوئی

Read more

دو جمع دو، پانچ

تھیٹر اور سٹیج ڈرامے کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کا آغاز چھ سو قبل مسیح میں یونان میں ہوا تھا جبکہ سوشیالوجی کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ انسان ہمیشہ سے موسیقی، اچھے لباس، مزاح اور تفریح کا دلدادہ ہونے کے ساتھ خود بھی عملی زندگی میں ڈرامہ بازی کا خوگر ہے۔ وہ نہ صرف خود ڈرامہ بازی کرتا ہے بلکہ دوسروں کی ڈرامہ بازیوں کو شوق سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وہیں جگمھٹا باندھتا

Read more

عمل کا دسترخوان اور من و سلویٰ

انسان ہمہ وقت فطرت، عادت اور ضرورت سے بندھا ہوا ہے۔ ان تین خانوں میں منقسم انسان کی اصل اور مسلسل آزمائش البتہ ”انتخاب“ کے مشکل مرحلے سے جڑی ہے۔ اس طرح انسان اپنے اعمال میں انتخاب کے اختیار کے ذریعے خود مختار ہے لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں ہے کیونکہ فطرت، عادت اور ضرورت ہر دم اور مسلسل اس کے انتخاب کے اختیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انتخاب کے اختیار کو سب سے بڑا چیلنج فطرت کی طرف

Read more

نام وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے

دنیا کی ہر ثقافت میں قصے اور کہانیاں سنا کر بچوں کو اخلاقی درس دینے کا طریقہ صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے خصوصی طور پر ترتیب دی گئی کہانیاں انہیں سنائی اور پڑھائی جاتی ہیں اور کہانی کے اختتام پر انہیں اس قصے، کہانی میں پوشیدہ اخلاقی درس کو دو چار جملوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ اگر ایسی کہانیوں کو اچھے انداز سے سنایا اور پڑھایا جائے تو بچے کہانی بھول سکتے ہیں

Read more

کام کے وقت کھیل اور کھیل کے وقت کام

زمانہ قدیم سے ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ اچھا شہری بننے کے لئے بچوں کو صرف دو کام کرنے چاہئیں یعنی انہیں جی بھر کر کھیلنا کودنا چاہیے اور انہیں اچھی تعلیم حاصل کرنے کے لئے خوب پڑھنا چاہیے۔ بچوں کی یہی دو سرگرمیاں انہیں تنومند اور زیور تعلیم سے آراستہ شہری بناتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ والدین، اساتذہ اور معاشرہ ان کی بھرپور رہنمائی اور مدد کرے یعنی پڑھائی کے

Read more

میں نے ہجرت نہ کی کنارا کیا

آج سے تقریباً پچیس سال پہلے میں دو ماہ بعد گھر آیا تو علم ہوا کہ ماسٹر عبدالحکیم صاحب بیمار ہو گئے ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ کل صبح ان کی بیمار پرسی کے لیے جاؤں گا۔ ماسٹر عبدالحکیم آٹھویں جماعت تک میرے باقاعدہ استاد رہے تھے۔ اس زمانے میں ہر کلاس کا ایک فارم ماسٹر ہوتا تھا جسے اس کلاس کے طلباء کو نصاب میں شامل بیشتر مضامین پڑھانے کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی اور اکثر اگلے

Read more

آپ کی خیریت نیک مطلوب ”چاہتا“ ہوں

گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے میرے کزن نے جو کہ میرا دوست بھی ہے، چند دن پرانا اخبار میرے سامنے رکھا اور کہا کہ یہ کالم پڑھو۔ میں نے کالم پر ایک نظر ڈالی اور اخبار فوراً پچھلی سیٹ پر یہ کہہ کر پھینک دیا کہ یہ کالم میں پہلے ہی پڑھ چکا ہوں جس میں کالم نویس نے ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور دوائیوں کے خرچوں سے بچنے کے لیے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم کھانا کھائیں تاکہ وہ بیشتر بیماریوں سے بچ سکیں۔ میرا کزن کچھ دیر خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا۔

Read more

دنیا میں فقط ایک زلیخا ہی نہیں تھی

فطرت اپنی جگہ نہیں چھوڑتی۔ ہم اسی مفہوم کو مختلف الفاظ میں بیان کرتے ہیں اور عام طور پر کہتے ہیں کہ انسان اپنی فطرت نہیں بدلتا یا وہ فطرت کے ہاتھوں مجبور ہے۔ ہم انسانوں کو بھی اس حقیقت کا بخوبی علم ہے اس لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ ناخوشگوار حالات سے بچ سکیں لیکن فطرت کے ہاتھوں مجبور، اگلے ہی لمحے ہم کوئی گل کھلا دیتے ہیں۔ پریشانی اور سرگردانی کا یہ سلسلہ ساری عمر جاری رہتا ہے۔

Read more

خودی کو کر بلند اتنا۔ ۔ ۔ یا حقائق کا ادراک؟

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کو حریت اور آزادی کا جو درس دیا تھا اس میں ان کا تصور خودی بھی شامل تھا۔ میں نے علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کو سمجھنے کی بہت کوشش کی لیکن ہمیشہ خفت اٹھانی پڑی اس لیے میں نے اس کا مفہوم اپنی آسانی کے لیے خودداری، حمیت، غیرت یا شعور ذات جیسی عام فہم اصطلاحات میں تلاش کیا۔

اگر پورا سچ بیان کروں تو میٹرک کے امتحان کی تیاری کے لئے استاد محترم نے علامہ اقبال کی ایک نظم کے حوالے سے پہلی مرتبہ ان کے فلسفہ خودی پر روشنی ڈالنے کا آغاز ہی کیا تھا کہ مجھے اندازہ ہوا کہ یہ موضوع ہم جیسے اوسط طلبا کے لیے نہیں۔ دوسری طرف استاد محترم تھے کہ موضوع کو کھینچنے چلے جا رہے تھے۔ انہوں نے موضوع کے حوالے سے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں مختلف ممالک کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔

Read more

رند و زاہد بہک رہے ہیں

ارسطو ( 384۔ 323 ق م) سے منسوب اس قول کو عمرانیات اور سیاسیات کے دانشور صدیوں سے بیان کرتے آ رہے ہیں کہ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ جہاں ارسطو نے کم سے کم الفاظ میں جو کہنا تھا وہ کہہ ڈالا وہیں اس نے انسان اور جانور کا موازنہ بھی کر ڈالا ورنہ کہاں جانور اور کہاں انسان! بعد کے دانشوروں نے وہی بات اپنے اپنے الفاظ میں ایسے ادا کی کہ سچ بھی بیان ہو جائے اور

Read more

اللہ ان سے زمین بھر دے

تین مارچ 1974، شام سات بجے ”یہ ریڈیو پاکستان ہے! ۔ ۔ ۔ ۔ سے خبریں سنیں آج ترکش ائر لائنز کا ڈی سی 10 جہاز فرانس میں پرواز کے فوری بعد کریش کر گیا جس میں سوار عملے کے گیارہ ارکان سمیت تمام کے تمام تین سو چھیالیس افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ بدقسمت جہاز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” میں اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ دریائے سوات شرقاً غرباً بہتا ہوا مالاکنڈ ایجنسی (اب ضلع مالاکنڈ)

Read more