خالی پیٹ، آدھی دنیا اور غذائی تحفظ کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ستم ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 1.3 ارب ٹن کھانا ضائع ہوتا ہے، جس کی مالیت ایک کھرب امریکی ڈالرز بنتی ہے۔ اس ضائع شدہ غذا کا روزانہ کے حساب سے تخمینہ لگایا جائے، تو مجموعی طور پر سیر شکم دنیا، یومیہ 35 لاکھ ٹن خوراک ضائع کر رہی ہے، جس کی مالیت کا یومیہ تخمینہ 2 ارب 73 کروڑ امریکی ڈالرز یعنی 4 کھرب 47 ارب پاکستانی روپوں سے بھی زیادہ ہے۔ اگر سمجھنے کی غرض سے یہ تصور کیا جائے کہ دنیا بھر کا سال بھر کا کھانا دنیا میں کسی ایک جگہ پر جمع کرنا ممکن ہو، تو وہ یقیناً اس کرۂ ارض پر اتنی جگہ گھیرے گا، کہ دنیا کے نقشے پر کسی ملک کی طرح نظر آنے لگے، اور اگر ضائع شدہ کھانا ایک ملک ہو تو، صاحب بہادر امریکا اور چین کے بعد، دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہو۔

یہ حقیقت جان کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ دنیا کے تمام ضائع شدہ کھانے کا صرف ایک چوتھائی حصہ ہی دنیا بھر میں 795 ملین غذائی قلت سے دوچار بھوکے افراد کا پیٹ بھر سکتا ہے۔ صرف یورپ ہی میں ضائع ہونے والے کھانے سے 20 کروڑ بھوکے لوگوں کو کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔ صرف امیر ممالک میں ضائع ہونے والا کھانا (یعنی 22 کروڑ 20 لاکھ ٹن) ”سب صحارا افریقا“ میں تیار ہونے والی تمام خوراک (یعنی 23 کروڑ) کے لگ بھگ برابر ہے۔

یورپ یا شمالی امریکا میں رہنے والا صرف ایک فرد سالانہ 100 کلو گرام کھانا ضائع کرتا ہے، جو اس فرد کے اپنے اوسط وزن (70 کلوگرام) سے بھی زیادہ ہے۔ ایک یورپی یا شمالی امریکا کا شہری عام افریقی باشندے سے 15 گنا زیادہ کھانا ضائع کرتا ہے۔ افریقہ میں کھانے پینے کے ضیاع کی سب سے بڑی وجہ، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے، جو ترقی یافتہ دنیا میں گھریلو کھانے پینے کے فضلے کے برعکس ہے۔ دنیا بھر کا خوراک کا فضلہ 3 ارب 30 کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے، جو عالمی آب و ہوا کی منفی تبدیلی کو تیز کر رہا ہے۔

جب اشیائے خورد و نوش کو ضائع کر دیا جاتا ہے، تو اس عمل سے صرف کھانا ہی ضائع نہیں ہوتا۔ صرف ایک لمحے کے لیے کھیتوں سے کھانا آپ کے دسترخوان تک لانے کے لیے درکار تمام وسائل پر غور کریں۔ آبپاشی کے لیے پانی، پودے لگانے کے لیے زمین، کٹائی میں بجلی کا سامان، انسانی مشقت اور ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں وغیرہ۔ جب کیلے کا ایک گچھا کسی ٹرک سے گرتا ہے یا فائیو سٹار ریستوراں کے مالکان اپنے کوڑے دان کے ٹوکری کو ناں کھائے گئے کھانوں سے بھرتے ہیں، تو صرف اس خوراک کا نہیں، ان تمام مذکورہ وسائل کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔

میٹھا پانی زمین کے سب سے قیمتی وسائل میں سے ایک ہے، اور دنیا بھر میں اس کا 70 فیصد زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس میں فصلوں کی آبپاشی اور مویشیوں کے لیے پینے کا پانی شامل ہے۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ صرف ایک سیب کی پیداوار میں اوسطا 125 لیٹر پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک پکے، رسیلے سیب کو پھینک دینا 125 لیٹر پانی نالے میں بہا دینے مترادف ہے۔

عالمی سطح پر کھانا ضائع کرنا ایک دور رس مسئلہ بن چکا ہے، جس کی دنیا کے باشندوں کو زبردست مالی، اخلاقی اور ماحولیاتی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ اس ضیاع کی وجوہات کئی ایک ہیں۔ خوراک کے ضائع ہونے کی تاریخ ”گلوبلائیزیشن“ جتنی ہی پرانی ہے۔ حالیہ ایک دوسرے سے جڑی دنیا میں ”سپلائی چین“ لمبی ہوتی جاتی ہے، اور ہر چیز کا ہر جگہ دستیاب ہونا، اب کوئی ناممکن بات نہیں رہی۔ جرمنی میں پاکستان کا سندھڑی آم اور انڈونیشیا میں امریکی سیب آسانی سے دستیاب ہے۔ سارا سال کھیت سے لے کر میز تک کے اس طویل سفر میں ہر مرحلے پر کھانا ضائع ہوتا ہے، اور اس طویل سفر میں تازہ اجناس بالخصوص: پھل، سبزیاں، دودھ اور گوشت وغیرہ تازہ نہیں رہ پاتے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، 2050 ء تک دنیا کی آبادی 7.6 ارب سے بڑھ کر 9.8 ارب تک جا پہنچے گی۔ چونکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی آبادی کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے خوراک کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے جدوجہد کی جارہی ہے، لہٰذا اگر ہم نے اس حوالے سے سنجیدگی سے کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کی، تو خوراک کے ضیاع میں بھی اضافے کی خطرناک حد تک پیشن گوئی کی گئی ہے، لیکن مندرجہ بالا تمام ڈراؤنے حقائق کے باوجود، ہم سب اس عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

کم آمدنی والے ممالک میں، کسانوں اور بنیادی زرعی ڈھانچے میں سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کے لیے بہتر تربیت فراہم کرنا اس مسئلے کا ایک حل ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں ریفریجریشن اور قابل اعتماد خواہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں بہتر ٹیکنالوجیز نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔ مثلا: ”کولڈ ہبس“ نامی نائجیریا کی ایک کمپنی شمسی توانائی سے چلنے والا ریفریجریشن سسٹم تیار کرتی ہے، جس سے کولڈ چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے کچرے کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔

اس کی ایک اور مثال ”ایڈی پیل“ ہے، جو نامیاتی، پوشیدہ کوٹنگ کی پیداوار پر استعمال ہوتی ہے، جو اس بات پر قابو رکھتی ہے کہ پھل کتنا پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے اور باہر سے کتنی آکسیجن اندر داخل ہوتی ہے۔ یعنی اس طریقے سے تازہ پیداوار زیادہ دیر تک تازہ رہتی ہے۔ اس ٹیکنالاجی کو پوری دنیا میں عام کیا جا سکتا ہے۔

اس مسئلے کے ایک اور حل کے طور پر صنعتی ملکوں میں سپر مارکیٹس اور فائیو اسٹار ہوٹلس، اپنے غیر فروخت شدہ سامان کو مستحقین میں عطیہ کر سکتی ہیں۔ اکثر ترقی یافتہ ممالک میں سپر مارکٹس ایسا کرتی بھی ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ کا خوردہ فروش ”ٹیسکو“ ، سافٹ ویئر پلیٹ فارم ”فریشیر“ ، ”فوڈ کلاؤڈ“ کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، تاکہ دستیاب زاید خوراک کے بارے میں مقامی خیراتی اداروں کو مطلع کر سکے۔ فرانس میں، سپر مارکیٹوں کے لیے غیر استعمال شدہ کھانا پھینکنا قانونا جرم ہے، اور انہیں باقاعدگی سے اپنا سامان مستحقین کو خیرات میں دینے کے لیے پابند کیا گیا ہے۔

ایسے غرباء، ان اشیائے خورد و نوش کو کھانے کے فضلے کو کم کرنے کے لیے مختص مارکیٹ میں ڈھونڈ سکتے ہیں، جیسے جرمنی کا ”سر پلس“ ، جو دوسری منڈیوں یا ڈنمارک کے ”وی فوڈ“ کے ذریعے ضائع شدہ اضافی خوراک فروخت کرتا ہے، جو عام سپر مارکیٹوں سے تقریباً آدھی قیمت پر ”دو دن تازہ“ یا ”تین دن تازہ“ جیسی واضح نشاندہی کر کے بیچتا ہے، تاکہ کم آمدنی والے لوگ اسے خرید سکیں۔ اس سے بھی زیادہ موثر طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”سپلائی چین“ میں شفافیت کو بڑھا کر اور زائد پیداوار کو کم کرنے کے لیے کسانوں کے ساتھ زیادہ موثر رابطہ قائم کرکے غیر استعمال شدہ کھانوں کو کم کیا جائے۔

غذا کے فضلے کو کارآمد بنانا بھی غذائی قلت کو کم کرنے اور غذا کو ضیاع سے بچانے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ بچی ہوئی چیزوں کو آٹے میں تبدیل کر کے، ریسٹورینٹ کی ضائع شدہ اشیاء (اسکریپ) کو ”حیاتیاتی پلاسٹک“ (بائیو پلاسٹکس) میں تبدیل کر کے، گھریلو کھانے کے فضلے کو ”حیاتیاتی گیس“ (بائیو گیس) میں تبدیل کرکے اور گھریلو توانائی پیدا کرنے کے لیے ”فوڈ سکریپ“ کا استعمال کرکے، ہم اس ضیاع پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔ فوڈ انڈسٹری، اشیاء پر ”ڈیٹ لیبلنگ“ (ایکسپائری تاریخ کے اندراج) کے عمل کو ہموار کرنے اور صارفین کا شعور بڑھانے کے لیے منظم طور پر کام کر سکتی ہے، تاکہ انہیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ کھانا ابھی تک کھانے کے لیے محفوظ ہے۔

اور اس ضمن میں سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر گھر میں اتنا ہی پکایا جائے، جتنا کھایا جا سکے، اور اگر اپنے کھانے سے بڑھ کر اگر ایک لقمہ بھی ہے، تو اسے اس شکم تک تازہ تازہ پہنچانے کا اہتمام کیا جائے، جو خالی ہو اور جس کو اس کی ضرورت ہو، تو شاید ہم اس آنے والے بہت بڑے عالمی غذائی بحران سے بچ سکتے ہیں اور غذائی تحفظ کا یہ عالمی دن ہمیں یہی سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اور ہاں! اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس ضمن میں سوچنا اور عمل کرنا صرف عالمی اداروں کا ہی کام نہیں ہیں، آپ اور ہم میں سے ہر فرد واحد کا فرض بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply