جب چین میں ماؤ کا نام لیا …


کہتے ہیں کہ چین جادو کی سرزمین ہے جس نے دنیا کو ریشم کے دھاگے سے باندھ رکھا ہے۔ پاک چین دوستی کے چرچے بھی بہت سنے تھے مگر حقیقت چین جانے کے بعد کھلی۔ ایئرپورٹ پر میرے ادارے کا ایچ آر مینیجر اور ایک گارڈ مجھے لینے آئے تھے۔ اس گارڈ کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے تو یکایک اس کا انداز بدل گیا اور لہجے میں ایسی اپنائیت آگئی جیسے ایک عرصے سے مجھے جانتا ہو۔ میں یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر میرے پاکستانی ہونے سے ایسا بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ ایک خیال آیا کہ شاید میری گرمجوشی اور تپاک کے سبب یہ مجھ سے ایسا گھل مل گیا ہے۔ پھر سوچا شاید مطالعہ پاکستان میں لکھی ہر بات جھوٹ نہ ہو اور کوئی راز ایسا ہو جو واقعی ہمالیہ سے بلند اور بحیرہ عرب سے گہرا ہے۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس گارڈ کا نام کُن ہے اور وہ پاکستانیوں کو دوست سمجھتے ہوئے ان کے لیے نہایت محبت و احترام کے جذبات رکھتا ہے۔ اس کا رویہ بالکل مہربان بھائی جیسا تھا اور ہم میں فوراً ہی انسیت پیدا ہوگئی۔ کُن کو جب بھی کوئی کام کہتی تو وہ اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتا۔

چین میں میرا قیام گوانجو شہر کے ایک نواحی قصبے یوہو میں ہے۔ یوہو میں چین کے تہذیب و تمدن اور چینیوں کی ثقافت کو کافی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ چین ایک الگ دنیا کا نام ہے۔ شہر کے ہنگاموں سے دور قصبوں میں بسے چینیوں کا بھی ایک اپنا جہان آباد ہے۔ سرشام ڈھابوں کے باہر رکھے بینچوں، کرسیوں پہ بیٹھے لوگ خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ کوئی ٹانگیں پسارے بئیر پی رہا ہے تو کوئی کھانا کھانے میں مصروف ہے۔ ہوٹلوں میں چین کے روایتی گیت چلتے رہتے ہیں، محفل گرم ہو جائے تو سب ساتھ گانے لگتے ہیں اور یونہی گاتے گاتے جھومنے لگتے ہیں۔ ان کی گفتگو کے موضوعات زیادہ تر روزمرہ کے واقعات ہوتے ہیں۔

ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس کے لیے چینیوں کے دل میں بے پناہ عقیدت ہے۔ شہروں میں رہنے والے چینیوں کو تو ایسی فرصت نہیں مگر دیہی علاقوں کے چینی آج بھی روز اس شخص کو یاد کرتے ہیں۔ جس کا نام آتے ہی وہ عقیدت سے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ دنیا اس شخص کو چیئرمین ماؤ کے نام سے جانتی ہے۔

کچھ روز قبل سر شام ایک ایسے ہی ڈھابے پر پہنچی۔ کُن بھی ہمراہ تھا۔ ہمیشہ کی طرح لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک دو نے میرے آنے کا نوٹس لیا مگر پھر اپنی باتوں میں مگن ہو گئے جبکہ کچھ کی ساری توجہ مجھ نووارد اجنبی کی طرف ہوگئی۔ میرے لیے یہ بہت دلچسپ تھا مگر ان سب میں کُن ہی تھا جسے میں اپنی بات سمجھا سکتی تھی۔ چینیوں سے زبان کا فاصلہ ایک ایسی دوری ہے جو ہر اجنبی کو محسوس ہوتی ہے۔ مجھے بھی اسی وجہ سے ابھی تک عام چینیوں سے گفتگو کا موقع نہ ملا تھا۔ خیر کن اور میں وہاں بیٹھ گئے اور وہیں سے ملتا چینی کھانا کھاتے ہوئے باتوں باتوں میں میرے منہ سے چیئرمین ماو کا نام نکلا۔ شاید یہ میں نے جان بوجھ کر کیا تھا، میرے خیال میں کسی اجنبی کے لیے چینی لوگوں سے گفتگو کے آغاز کا یہ ایک اچھا بہانہ تھا۔ اور ایسا ہی ہوا۔

کُن تو ایک طرف، دور دور تک بیٹھے سب چینیوں کی توجہ میری طرف ہوگئی۔ وہ سارے مڑ کر میری طرف دیکھنے لگے۔ مجھے لگا کہ شاید انہیں ایک اجنبی کی زبان سے اپنے چیئرمین کا نام پسند نہیں آیا، یا شاید مجھ سے ادائیگی کی کوئی غلطی ہوئی جو انہیں ناگوار گزری ہے۔ ابھی اسی سوچ میں تھی کہ وہ سب میرے گرد جمع ہوئے اور حیرت بھری نگاہوں سے میری طرف دیکھنے لگے۔ شاید انہیں اپنے سنے پر یقین نہ تھا کہ ایک غیر چینی کی زبان سے چیئرمین کا نام نکلا ہے۔ کُن یہ سب سمجھ رہا تھا اور اس کے لیے یہ صورتحال بے پناہ دلچسپ تھی۔ اسی کے کہنے پر میں نے اپنی بات دہرائی اور دوبارہ چیئرمین ماؤ کا نام لیا بلکہ اپنے خدشات کے پیش نظر ماؤ کا ذکر کرتے ہوئے چند تعریفی جملے اور بھی کہے۔ چونکہ میری پرورش ایک کمیونسٹ گھرانے میں ہوئی ہے، چیئرمین ماو میرے لیے نیا نام نہ تھا اور میں نے ان کے متعلق بچپن سے سنتی آرہی تھی۔

میں نے معصومانہ انداز میں بتا یا کہ دنیا بھر کی طرح چیئرمین ماؤ کی پاکستان میں بھی بہت دھوم ہے۔ ہر چھوٹا بڑا انہیں جانتا ہے۔ کُن جوں جوں انہیں میری بات سمجھا رہا تھا، وہ سب عقیدت سے جھکے جارہے تھے۔ ایکدم ہی میں ان کے کسی سیلیبرٹی سی اہم بن گئی تھی۔ وہ بہت شوق سے سن رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ تم پاکستانی چیئرمین کے متعلق اور کیا کیا جانتے ہو اور کیا سوچ رکھتے ہو؟

اسی لمحے میرے اندر کا کمیونسٹ بیدار ہوا اور میں چیئرمین کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے لگی۔ میرے لیے یہ بات بہت خوشگوار حیرت کا سبب تھی کہ وہ لوگ یہ سنتے ہی مجھ سے عقیدت بھرا رویہ اپناتے جارہے تھے۔ ڈھابے کا مالک بھی لوگوں کو ادھر ادھر ہٹاتے میرے سامنے میز پر روایتی کھانے اور مشروبات رکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ جیسے یہ ایک حقیر سا نذرانہ ہے جو وہ چیئرمین ماؤ کے مہمان کے لیے لایا ہے۔

ان چینیوں کی کی توجہ لمحے بھر کو بھی ادھر ادھر نہ ہوئی اور میں تو خود کو جیسے کائنات کا مرکز خیال کررہی تھی۔

میں نے انہیں بتایا کہ بچپن سے ہی چیئرمین کی تصویر دیکھتی آئی ہوں جو ہمارے گھر کی ایک دیوار پر اب تک لگی ہے۔ یہ سن کر تو گویا وہ فدا سے ہوگئے اور ان کے چہروں پہ ناقابل یقین حیرت کا رنگ آنے جانے لگا۔ شاید انہیں اپنے سنے پر اعتبار نہ آرہا تھا۔ میں نے فون سے اپنی فیملی کی ایک تصویر دکھائی جس میں پچھلی دیوار پر چیئرمین ماو کی تصویر نمایاں تھی۔ اس پر تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ فون میرے ہاتھوں سے نکل کر ان کے ہاتھوں میں آگے بڑھتا گیا، ہر ایک تھامتا، عقیدت سے تصویر دیکھتا اور پھر اپنی زبان میں کچھ حیرت بھرا کہتے ہوئے آگے بڑھا دیتا، فون سب سے گھوم گھام کر واپس میرے پاس آیا تو تب تک سب لوگ حیرانی کی حالت میں آچکے تھے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ممکن ہے۔ پھر تو وہ کھڑے ہوئے اور پاک چین دوستی کے نعرے لگانے لگے۔ کُن ان کے عقیدت مندانہ فقرے ترجمہ کررہا تھا، میری سمجھ میں تو صرف پاچستان پاچستان آرہا تھا۔ وہ سب میرے قریب آئے اور اپنائیت اور عقیدت سے ہاتھ ملانے لگے۔ ڈھابے میں ایک سماں بندھ گیا تھا۔

تب تک اندھیرا چھانے لگا تھا سو ہم نے پھر کبھی آنے کا وعدہ کرکے رخصت چاہی۔ ان سب نے جھک کر الوداع کیا، اور کافی سارا کھانا ہمیں ساتھ دیا۔ وہاں سے نکلے تو دور تک وہ ہمیں جاتا ہوا دیکھتے رہے اور آپس میں باتیں کرتے رہے۔ اس سب کے بعد میں بھی اپنے آپ کو بہت اہم سمجھنے لگی تھی اور کُن کا رویہ بھی مزید عاجزانہ ہوگیا تھا۔ وہ کھانا کھاتے ہوئے مجھے رہ رہ کر دیہاتی چینیوں کی سادگی اور اپنائیت کا خیال آتا رہا۔ یہ واقعی کتنے بھولے اور اچھے لوگ تھے۔

یہ تو خیر ثابت ہوگیا کہ مطالعہ پاکستان میں لکھی ہر بات غلط نہیں البتہ فی الوقت یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس نئی نوعیت کی پاک چین دوستی کا انجام کیا ہوگا۔

مصنفہ اپنے محافظ اور مترجم کن کے ہمراہ

Facebook Comments HS