وراثت اور مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ
انسانی زندگی کوگوناگوں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ زندگی کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ مرنے والے کے مال و جائیداد کی تقسیم یعنی وراثت کامسئلہ ہے۔ انسانیت اس مسئلے میں ہمیشہ افراط و تفریط کا شکاررہی ہے۔ آج کل دنیا پر سرمایہ داری کے تباہ کن اثرات کا غلبہ ہے۔ دنیا پریشان ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو۔ سوشلسٹ نظام نے اس بیماری کا ایک علاج تو تجویز کیا لیکن وہ دوسری انتہا کو پہنچ گئے اور فرد کی ذاتی ملکیت ہی کو ختم کر کے ریاست کو ”سرمایہ دار اعظم“ بنا کر بدنام زمانہ سرمایہ داری کے سارے نقائص پھر اس میں سمو دیے۔
اصل میں اس افراط و تفریط کے بین بین ہی کوئی رستہ ان تمام الجھنوں سے نجات دلا سکتا ہے اور وہ ہے اسلام کا رستہ۔ اسلام کا معاشی نظام نہ تو فرد کی ملکیت کو ختم کرتا ہے اور نہ ہی اس کا موقع دیتا ہے کہ اس کی دولت کا ایک جگہ ارتکاز ہو سکے۔ جائز اور حلال طریقے سے دولت کمانے کی پابندی، دولت خرچ کرنے کی حدود کا تعین، حقوق العباد کی ادائیگی، زکوات و صدقات کا التزام اور تقسیم میراث وہ توازن قائم کرتے ہیں جو دولت کی درست تقسیم کے لئے ضروری ہیں۔ اسلام گردش دولت کا قائل ہے اور ترکے کی وراثت سے دولت گردش میں آتی ہے۔ اسلام میں اس علم کو علم الفرائض یا علم میراث کہتے ہیں۔ ہم یہاں مذاہب عالم میں علم میراث کا تقابلی جائزہ لیں گے۔
یہودیوں کے ہاں وراثت کا حقدار صرف لڑکا ہوتا ہے۔ مرنے والے کے والدین، بیوہ اور بیٹیاں اولاد نرینہ کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ اگر لڑکی نابالغ ہو تو بارہ سال کی عمر تک وہ باپ کے ترکے میں سے اپنا خرچہ لے سکتی ہے۔ بیوہ میراث سے محروم ہوتی ہے اور ایک بوجھ سمجھی جاتی ہے۔ سب سے بڑا لڑکا دگنا حصہ پاتا ہے خواہ وہ نطفہ ناجائز ہو۔
نصرانیت بھی شریعت موسوی کی تکمیل ہے لیکن حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھا لیے جانے کے بائیس سال بعد مسیحیت نے تورات کے تمام احکامات کو ختم کر کے نئے قوانین بنا لئے۔ اب اس میں رومی یا یونانی قانون کے تحت وراثت تقسیم ہوتی ہے۔
543 ء میں بادشاہ ”گسٹنیانوس“ نے وراثت کی بنیاد قرابت پر رکھی۔ اس کے مطابق پہلا طبقہ فروع یعنی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ پر مشتمل ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں دوسرے طبقے یعنی اصول میں ترکہ تقسیم ہوگا جن میں باپ، دادا، بھائی وغیرہ شامل ہیں۔ اصول و فروع اور حقیقی بھائی موجود نہ ہو تو یہ حق ماں شریک یا باپ شریک بھائی کو ملتا ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں دیگر رشتے داروں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ اس طور پر کہ قریب ترین رشتہ دار کی موجودگی میں دور کا رشتہ دار محروم ہوگا۔ میاں بیوی میں ہر ایک دوسرے کے ترکے سے محروم ہوگا کیونکہ ان کے ہاں وراثت کی بنیاد قرابت پر ہے۔
یونانی قانو ن میں اولاد نرینہ کی موجودگی میں کسی عورت کا وراثت میں کوئی حصہ نہ تھا۔ بیٹی وغیرہ صرف اس وقت وراثت کی حقدار ہوتی تھی جب کوئی مرد وارث موجود نہ ہوتا تھا۔
ہندو قانون وراثت میں عورتوں کے لئے ترکے میں کوئی حصہ نہیں ہے نیز تمام دولت کا مالک صرف بڑا لڑکا ہوتا ہے اور دوسرے سب محروم ہوتے ہیں۔
فرانسیسی قانون میں میت کی اولاد، ان کے غیر موجودگی میں اس کے باپ، دادا اور پھر بھائی اور چچا کو وراثت کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔ ان سب کی غیر موجودگی میں غیرقانونی لڑکا حصہ دار ہوتا ہے۔
جرمن قانون میں فرع کی موجودگی میں زن و شو میں سے ہرایک کا حصہ چوتھائی ہے۔ اور فرع کے نہ ہونے کی صور ت میں آدھا اور اصول و فروع نہ ہوں تو شوہر پورے ترکے کا حقدار ہوتا ہے۔
انگریزی قانون میں بیٹے کے ہوتے ہوئے بیٹی محروم ہوتی ہے نیز پہلوٹا سب پر مقدم ہوتا ہے اور اولاد نرینہ کی غیر موجودگی میں بیٹی وارث ہوتی ہے۔
روس میں کمیونزم کی وجہ سے وراثت کا کوئی تصور ہی نہ تھا لیکن 1945 ء میں تین طرح کے لوگوں کو وارث قرار دیا گیا۔ پہلے نمبر پر اولاد اور زوجین، دوسرے نمبر پر والدین اور منہ بولا بیٹا اور تیسرے نمبر پر بھائی بہن۔ ان میں سے قریب ترین کی موجودگی میں دور کے رشتے دار کو محروم کر دیا گیا۔
ان تمام مذاہب کے برعکس اسلام نے ورثا کی ایک بڑی تعداد کو ترکے میں حصہ دار بنا کر ایک جگہ جمع ہو جانے والی دولت کے پھیلایا اور اسے گردش میں لے آیا۔ اس تقسیم سے خاندان کی اکائی مضبوط ہوتی ہے اور خاندان میں حسد اور کدورت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اسلام میں ترکے کی تقسیم ناگزیر ہے۔ کوئی وارث ترکے سے محروم نہیں رہ سکتا۔
قرآن کے الفاظ میں وراثت کے لئے یہ احکامات ہیں
”تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اگر مرنے والے کے ورثا میں دو یا دو سے زائد لڑکیاں ہوں اور میت کا بیٹا موجود نہ ہوتو انہیں ترکے کا دوتہائی دیا جائے۔ اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔ اگر صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے۔ اگر میت کے بھائی بہنیں بھی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حقدار ہوگی“ ۔
”تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں۔ اولاد ہونے کی صورت میں ترکے کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے۔ وہ تمہارے ترکے میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو۔ مگر صاحب اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہوگا۔ اگر مرد یا عورت بے اولاد ہوں اور ان کے باپ دادا بھی زندہ نہ ہوں مگر اس کا ماں کی طرف سے ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکے کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے“ ۔
”اللہ تمہں حکم دیتا ہے اگر کوئی شخص کلالہ یعنی بے اولاد مر جائے اور اس کی سگی یا باپ کی طرف سے ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکے میں سے نصف پائے گی اور اگر بہن بے اولاد مرے تو اس کا سگا یا باپ کی طرف سے بھائی اس کے پورے مال کا وارث ہوگا۔ اگر میت کی وارث سگی یا باپ کی طرف سے دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں دوتہائی کی حقدار ہوں گی اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں گا دوہرا حصہ ہوگا“ ۔
اسلام میں مرد کا دگنا حصہ رکھنے کی وجہ سماجی نظام میں مرد پر عائد معاشی، تعلیمی، تربیتی، مالی اور کفالتی ذمہ داریوں کی وجہ سے ہے۔


