یہ تو کھلا تضاد ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا نظام تو متصادم ہے ہی۔ چلیں مان لیا کہ تین مختلف محکمے اور اتھارٹیز انھیں چلاتی ہیں۔ ۔ ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے محکمہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت چلنے والے مختلف لیول کے سکولوں کا نظام بھی ایک جیسا نہیں ہے۔ ۔ ۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت چار طرح کے سکول فی الوقت چل رہے ہیں۔ ۔ ۔ ہائر سیکنڈری سکول، ہائی سکول، مڈل سکول اور پرائمری سکول۔ ۔ ۔

ہائر سیکنڈری اسکول جہاں بارہویں جماعت تک جماعتیں پڑھائی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ان سکولوں کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب گیارہویں بارہویں جماعتوں کے لیے باقاعدہ کالجز موجود ہیں تو ان سکولوں کا جواز کیا ہے۔ ۔ ۔ ؟ سب جانتے ہیں کہ کالجز کے ہوتے ہوئے ان سکولوں میں داخلہ لینا کسی طالبعلم کی ترجیح نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ یہ پہلے دن سے ہی مکمل فلاپ نظام ہے جہاں ایس ایس صاحبان مفت کی تنخواہیں بٹورتے ہیں۔ ۔ ۔ اور گریڈ انجواے کرتے ہیں۔ ۔ ۔

اس کے بعد ہوتے ہیں ہائی سکول جہاں دسویں تک جماعتیں ہوتی ہیں۔ مڈل سکول آٹھویں تک ہوتے ہیں اور پرائمری سکولوں میں پانچویں تک جماعتیں ہوتی ہیں۔ ۔ ۔

آئیے ان تین طرح کے سکولوں کے نظام پر طائرانہ نظر دوڑاتے ہیں۔ ۔ ۔ اور اس میں جو تضاد ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ۔ ۔

ہائی سکول کا باقاعدہ ہیڈ ماسٹر ہوتا ہے جس کا گریڈ سترہ سے انیس تک ہوتا ہے۔ ۔ ۔

ایلیمنٹری سکول میں ایس ایس ٹی ٹی ٹیچر جس کا گریڈ سولہ ہوتا وہ ہیڈ ہوتا ہے جبکہ پرائمری سکول میں باقاعدہ ہیڈ نہیں ہوتا بلکہ پرائمری اساتذہ میں سے ہی کسی کو چارج دیا جاتا ہے جسے کوئی بھی بخوشی قبول نہیں کرتا۔ ۔ ۔ مجبوراً کسی کو چارج دینا پڑتا ہے۔ جسے چارج دیا جائے وہ بھی نالاں رہتا ہے اور باقی اساتذہ بھی گریڈ برابر ہونے کی وجہ سے اسے مظلوم شخص کو کوئی خاص اہمیت نہیں دہتے۔ ۔ ۔

افسران کے سامنے وہ جوابدہ ہوتا ہے۔ ۔ ۔ تنخواہ وہی۔ ۔ ۔ اساتذہ کی کمی کے پیش نظر جماعت بھی پڑھاتا ہے۔ ۔ ۔ این ایس بی اور ایف ٹی ایف کا ریکارڈ بھی ہر لحاظ سے مکمل کر کے کلرک کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ گیٹ کو سنبھالتا ہے۔ میٹنگز اٹینڈ کرتا ہے۔ چھٹیوں میں سکول جاتا ہے۔ ۔ ۔

اور افسران کے عتاب کا شکار بھی رہتا ہے۔ ۔ ۔
یعنی سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا مظلوم ترین شخص۔ ۔ ۔

اگر ہائی سکول میں سترہ گریڈ کا ہیڈ ہو سکتا ہے، ایلیمنٹری سکول میں گریڈ سولہ کا ہیڈ ہو سکتا ہے تو پرائمری سکول میں گریڈ پندرہ ( ایلیمنٹری سکول ٹیچر) کا ہیڈ کیوں نہیں لگایا جاتا۔ ۔ ۔ جو باقاعدہ ہیڈ ہو۔ اس کے ذمہ ہائی اور ایلیمنٹری سکول کے ہیڈ کی مانند انتظام و انصرام ہی ہو۔ ۔ ۔

اگر یہ فارمولہ ادھر درست ہے تو ادھر کیوں غلط ہے؟

ہائی سکول میں پانچ سے چھ درجہ چہارم کے ملازمین دیے جاتے ہیں جن کے ذمہ چوکیداری، گیٹ، صفائی اور دیگر غیر تدریسی فرائض ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ اسی طرح مڈل سکولوں میں بھی دو سے تین ملازمین دیے جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ایک مڈل سکول کی تعداد ڈیڑھ سو سے پانچ سو تک عموماً ہوتی ہے جبکہ ہائی سکولوں کی تعداد عام طور پر تین سو سے ایک ہزار تک ہوتی ہے۔

جبکہ پرائمری سکولوں کے لیے ایک ملازم بھی نہیں دیا جاتا۔

حالانکہ پرائمری سکول میں ملازمین کی زیادہ ضرورت ہوتی۔ ۔ ۔ چھوٹے بچے جب واش روم استعمال کرتے ہیں تو اس کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ چھوٹے بچے گیٹ نہیں سنبھال سکتے وہ دیکھنا ہوتا ہے۔ صفائی کے لیے ملازم کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ چھوٹے بچے صفائی کا خیال نہیں رکھ سکتے۔ ۔ ۔

یہ عجیب سی متضاد پالیسی ہے۔ حالانکہ صفائی اور سیکیورٹی کے تمام انڈیکیٹرز جو ہائی اور ایلیمنٹری سکولوں کے لیے پورا کرنا ضروری ہوتے ہیں بالکل اسی طرح ہی پرائمری سکولوں کے لیے بھی ضروری ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ پرائمری سکول کی تعداد بھی عام طور پر سو سے تین سو تک ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ ایک تین سو والے ہائی سکول میں پانچ ملازمین اور ایک تین سو والے پرائمری سکول میں ملازمین ندارد۔ ۔ ۔

یہ ہے وہ ستر سال کی شاندار پالیسی۔ ۔ ۔
اب کہیں جا کے حکومت نے صفائی کے لیے تین ہزار رویپہ مختص کیا ہے۔

اب اتنی بڑی رقم مختص کر کے حکومت نے حاتم طائی کی قبر پر لات تو مار دی ہے۔ مگر ایک سو روپے کے عوض پورے اسکول کی صفائی کوئی ایسا شخص ہی کرے گا جس کا نشہ پورا نہ ہو رہا ہو۔ یہ جس کی جان حلق میں اٹکی ہوئی ہو۔ ۔ ظالموں تین ہزار میں تو ایک عام خاندان کے تین دن بھی نہیں گزر سکتے۔ ۔ ۔ چہ جائیکہ پورا مہینہ گزرا جائے۔ ۔ ۔

ہائی سکولوں کے پاس کلرک ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ ٹیچرز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ کمپیوٹر ٹیچر ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہی کام کرنے کے لیے ایلیمنٹری اور پرائمری سکولوں کے پاس کلرک نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ٹیچرز بھی کم اور انھی سے ہی کلرکوں والا کام بھی کروائیں۔ ۔ ۔ نتیجتاً ایک ٹیچر

جو عموماً ہیڈ ہوتا ہے اسی کام میں پھنسا رہتا ہے۔ اور اوپر سے آئے روز عجیب اور فضول قسم کی ڈاکیں۔ ۔ ۔ اب بنک سٹیٹمنٹس نکلوائیں۔ اب قبض الوصول بنائیں۔ این ایس بی اور ایف ٹی ایف کا ریکارڈ بنائیں۔ ۔ ۔ جبکہ ہائی سکولز، جن کے پاس ٹیچرز کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے، میں یہ کام کلرکس کے ذمہ ہوتا ہے۔ ۔ ۔

اگر گریڈ سولہ کے ٹیچر یا ملازم کے لیے سروس بک تیار کرنا ضروری نہیں ہے تو گریڈ پندرہ اور گریڈ چودہ کے ملازمین کے لیے کیوں ضروری ہے؟

کیا ان کے لیے اکاونٹ آفس میں پیج نہیں کھل سکتا؟ اگر کچھ رکاوٹ ہے تو قانون میں ترمیم کر دیں۔
ملازمت بھی چھوٹی اور سروس بک کا عذاب الگ۔ ۔ ۔ اور عمر بھر یہ خزانہ سنبھال کر رکھیں۔ ۔ ۔

ہر بار ٹھپے لگوائیں اور اکاونٹس والوں کی جیبیں گرم کریں۔ ۔ ۔ حد ہے۔ ۔ ۔ گدھے اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ اس سے ملازم بھی تنگ ہو رہا ہے اور رشوت کا دروازہ بھی کھل رہا ہے۔ ۔ ۔

جو کچھ پہلے دن غلط صحیح بن گیا اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہ ہے ہمارا معیاراور بات جب بھی کرتے ہیں انڈیا کو سبق سکھانے کی ہی کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

سری لنکا، بنگلادیش اور نیپال کا تعلیمی نظام ایک ایٹمی ملک سے کہیں بہتر ہے۔ کم از کم ان کے ماڈلز کو ہی فالو کر لیا جائے۔ خود سے تو کچھ کر نہیں سکتے۔

دنیا ای سسٹم پہ منتقل ہو رہی اور ہم اب بھی کاغذوں کا انبار لگا رہے۔ خدا کا خوف کریں۔ ۔ ۔ اب وقت آ گیا ہے جو مہذب دنیا کر رہی ہے اس کو فالو کیا جائے۔ ۔ ۔ اگر خود سے کوئی ڈھنگ کا نظام نہیں بن پا رہا یا بن سکتا تو کسی پڑھے لکھے یا اچھے ملک کی نقل کر لو۔ ۔ ۔ مگر اس فرسودہ نظام سے جان چھڑوا دو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply