مصیبت در مصیبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹڈی دل نے ملک کے قریبا ساٹھ کے قریب اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ٹٖڈی دل کی جانب سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان سے مستقبل میں قحط پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ٹڈی دل کے لشکر میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اور دوسری جانب، ملک بھر میں کورناوائرس کے واقعات کی تعداد اب 2، 002 سے زیادہ اموات کے ساتھ 99، 000 کے قریب ہوگئی ہے۔ اور عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا ختم نہیں ہوا ہے، لیکن ایک اور بڑی لہر کی توقع ہے۔ یعنی مصیبت در مصیبت۔

ایسی صورتحال میں لوگوں کا غیر جانبدارانہ رویہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگ اس معاملے کی نوعیت کو آخرکیوں سمجھ نہیں پا رہے ہیں؟ آخر کیوں اب بھی ہمارے درمیان یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ، کورونا وائرس نامی وبا ہے بھی یا نہیں؟ آخر کیوں عوام الناس، اس معاملے کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں؟

سننے میں آتا ہے کہ کرونا وائرس محض ایک انٹرنیشنل ایجنڈا ہے۔ کرونا وائرس سے ہونے والی اموات جھوٹی ہیں۔ تو اس بات پہ میرا عوام سے سوال ہے کہ اگر یہ ایک بیرونی سازش ہے تو بیرون ملک لوگ اس سازش کا شکار آخر کیوں ہو رہے ہیں؟ اگر اموات سے متعلق معلومات جھوٹی ہیں تو پھر کیسے دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد دیکھتے دیکھتے ہزاروں سے لاکھوں میں ہو گئی۔

میری اس پلیٹ فارم کے توسط سے عوام سے اپیل ہے کہ خدارا معاملے کی نوعیت کو سنجیدگی سے لیں۔ اور اس وبا کہ خاتمہ ہونے یا اس کے مکمل علاج کے آنے تک اس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ اپنے ہاتھ بار بار دھوئیں۔ بلا وجہ منہ کو مت چھوئیں۔ غیر ضروری طور پر رشتہ داروں یا دوستوں سے ملنے سے گریز کریں، غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ تفریحی مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ والدین اپنے بچوں کو گھر کے اندر ہی رہنے کی تلقین کریں۔

زیادہ سے زیادہ پانی پیا کریں۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ جیسی چیزوں کے استعمال کے بعد بھی ہاتھوں کو دھوئیں۔ کپڑے روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کریں اور کپڑوں کو تیز دھوپ میں سکھائیں۔ باہر کا کھانا کھانے سے پرہیز کریں اور سبزیاں کھانے کی عادت بنائیں۔ کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ سب عمل اگر ہم خود سے کر لیں گے تو حکومت کو لاک ڈاؤن لگانے کی ضرورت ہی پیش نا آئے گی۔ دوسری صورت میں حکومت کو لاک ڈاؤن لگانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے اور اس سے بھی پھر عوام ناخوش رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply