طلبا: انہیں اہم جانیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان تمام عمر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ترجیحات کی صورت بٹا رہتا ہے۔ شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ معاشرے میں معاشی اور معاشرتی مقام حاصل کرنا ہے۔ عورت ہو یا مرد، چند کو چھوڑ کر زیادہ تر کے تخیل و مقاصد کی پرواز ایک دن ہی ہوتا ہے۔ اور ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرتے، انسان اپنی بے پایاں توانائی کا اندازہ نہیں کر پاتا اور یوں اپنے کردار کا مناسب تعین کیے بنا زندگی کی سٹیج سے اتر جاتا ہے۔

اور ہمارے بہت سے المیوں میں سے ایک المیہ اپنے کردار کو معمولی سمجھنا ہی ہے۔ حالانکہ خالق کے وسیع کینوس پر ہم بہت ہی چھوٹا ٹکڑا کیوں نہ ہوں آخر اس کی شاہکار تصویر کا حصہ ہیں۔ یہ عموماً اس لیے ہوتا ہے کہ ہم معاشرے کی عینک اپنی آنکھوں سے نہیں اتار پاتے جبکہ انسان بہت حد تک اپنے معاشرے کی پیداوار ہوتا ہے۔

ہمارا کردار معاشرہ متعین کرتا ہے اور ہم اس دائرے کے اندر چکر کھاتے کھاتے ایک دن ختم ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں استاد کا کردار یہی سمجھا جاتا ہے جو نصاب میں سے گزار دے۔ نہ تو استاد کے لیے شاگرد اقبال کا شاہین ہے اور نہ شاگرد کے لیے استاد وہ اونچی چٹان کہ جس پہ اس کی اڑان قرار پکڑے۔ ہمارے ہاں یہ رشتہ عمومیت کا ہی شکار ہے۔ کلاس میں مقرر کردہ نصاب ہی زیادہ تر موضوع ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں جہاں ہر شخص نے اپنے مرکز اور شناخت کی طرف لوٹنے میں ہی بہتری جانی کیا ضرورت اس امر کی نہیں کہ کہ اس تعلق کو صرف مقررہ نصاب پڑھانے کے لیے ہی استعمال نہ کیا جائے بلکہ بحیثیت ایک قوم کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے۔

ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ کم ازکم اردو اور انگلش کے نصاب اس ترجیح کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کیے جائیں کہ دور حاضر میں ہم اپنی موجودہ اور آنے والی نسل کی سوچ کن خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایک طرف جہاں نصاب فارمولوں، کہانیوں، اور زبان دانی تک محدود ہیں، دوسری جانب کمرہ جماعت میں کمیونیکیشن اپنی حقیقی روح سے خالی ہے۔ اگر ہم اپنی یاداشت میں پیچھے جائیں جب ہم خود شاگرد تھے، تو شاذونادر ہی اپنے اساتذہ کے پڑھائے ہوئے کتابی اسباق یاد آ یں گے۔ لیکن استاد کی کوئی خاص مسکراہٹ، وہ بات جو کبھی انھوں نے نصاب سے ہٹ کر کی، وہ تازہ پھول کی مانند یاداشت کے زندان میں کھلی پڑی ضرور ملتی ہے۔

پبلک سیکٹر میں ایک کلاس میں طالب علموں کی زیادہ تعداد ایک بڑا مسئلہ بھی ہے لیکن اس کو خدا کی طرف سے دیا ہوا موقع جان کر اپنا کردار نبھانے، استاد شاگرد کے رشتے میں روح پھونکنے کو عین اس وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب وہ سرتاپا کان ہوتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ کسی بھی موٹیویشنل سپیکر کو بولنے کے لیے ایک پلیٹ فارم اور سننے والے چاہیے ہوتے ہیں۔ یہ تعلق اکثر بے روح ہوتا ہے کیونکہ اس میں بولنے والے اور سننے والے میں وابستگی کا تعلق نہیں ہوتا۔

بڑی کلاسز کی شکل میں ہمارے سامنے سننے والے موجود ہوتے ہیں اور ان کے اندر ایک وابستگی کا بھی عنصر پایا جاتا ہے۔ ہم اس موقع کو بہت ہی مثبت طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں کوئی شک نہیں کہ اس میں وقت بھی لگے گا اور محنت بھی جب ہم اپنے روایتی تدریسی انداز کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن یہ کر کے دیکھیں آپ کو حقیقتاً ایسا لگے گا کہ آپ لگے بندھے معمول سے نکل رہے ہیں اپنے طالب علموں سمیت۔ ایسا کرنے سے ہی عیاں ہوتا ہے کہ انسان کے اندر سارے میلان قدرت کی طرف سے موجود ہوتے ہیں۔

سچ اور محبت کی طرف کشش کا میلان، جھوٹ اور نفرت کو نا پسند کرنے کا میلان۔ بس اس کو دریافت کر کے راہ پہ ہی تو لگانا ہوتا ہے۔ اور یہ استاد کو کرنا ہوگا۔ کمرہ جماعت وہ مقطر ہے کہ جس سے طالب علم نکل کر زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ محض نصابی علم ان کی روح کو متحرک کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے وہ سائنس دان بن جائے، مظاہر قدرت دریافت کرے لیکن ان مظاہر کے خالق سے شناسائی ہی نہ ہو۔

ڈاکٹر بن جائے لیکن انسانیت کے لیے درد دل نہ ہو۔ بزنس مین بن جائے لیکن ایمانداری، سچ، اور لین دین کا کھرا پن پس پشت ڈال دے۔ آ فیسر بن جائے اور اس میں فرعونیت جھلکتی نظر آئے۔ ہمیں ان کو یہ بتانا ہو گا کہ نسلی تفاخر کے اس دور میں احساس کمتری کے خول سے نکل کر وہ کس طرح اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہیں۔ وہ ہرگز کسی سے کم نہیں۔ ان کو اقتدار دینی ہو گی ہمیں، اپنی تہذیب کے روشن ابواب سے متعارف کروانا ہو گا۔

اس کل کا تعلق ان کے آج سے جوڑنا ہو گا۔ صبر و تحمل، اختلاف رائے کی صورت میں برداشت، علم و تحقیق سے محبت اور ان تھک جدوجہد کے بیج یوں بونے ہوں گے کہ ان سے وہ تناور درخت آئیں جن کی چھاؤں تمام انسانیت کے لیے، بلا امتیاز رنگ و نسل، قوم اور مذہب گھنیری ہو۔ تاریخ کے جھروکوں میں جھانک لیں قومیں جب بھی ابھریں، ان کے پیچھے ان تھک محنت اور تربیت ہوتی ہے۔ اور محض زبانی کلامی باتیں اور اپنے ذاتی ادراک کا چشمہ پہنانے پر ہی مصر نہیں رہنا، بلکہ ان کی اور اپنی توازن کی ناب کو اصول اعتدال پہ لانا ہو گا۔

استاد کو شاگرد کے ساتھ ایک خوبصورت رشتہ استوار کرنا ہوگا، اس کی یوں تربیت کرنی ہوگی کہ جب وہ قوم کے جگ سا پزل میں فٹ ہو تو بہترین تراش خراش کے ساتھ قوم کا چہرہ مکمل کرے۔ اور وقت تو بہت ہی کم ہے جیسے، ایسا لگتا ہے کہ لپٹنا شروع ہو چکا ہے واپسی کے لیے۔ لہذا ان کو اہم جانیے، نصاب اور کتاب کے علاوہ ان کو کچھ ایسا دیے جائیں کہ بحیثیت آزاد قوم ہماری بقا کو کوئی خطرہ نہ رہے۔ اور یہ کوئی عام سا کام نہیں۔ ۔ ۔ موقع خالق نے عطا کیا ہے۔ اپنا کردار نبھا جائیں، خود کو اہم جانیے، ان کو اہم جانیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply