وبا کے دنوں میں لکھی گئی ڈائری
تنہائی کا پہلا دن: میں بہت تنہا اور دباؤ محسوس کررہی ہوں۔ میرے ذہن میں بہت سارے خیالات آرہے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے تاریکی میری روح کو مجھ سے چھین کر دور لے جا رہی ہے۔ میرے اہل خانہ میرے پیارے مجھ سے فاصلہ رکھ رہے ہیں۔ یقیناً وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں۔ ہر کوئی میرے قریب آنے سے ڈرتا ہے۔ ان کی آنکھیں خوف سے بھری ہوئی ہیں۔ اور میری بھی۔
میرے پھپھڑوں اور میرے پیٹ کے اندر شدید تکلیف ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے میرے پھپھڑوں کے ہر خلیے میں ریت بھری ہو اور اس کی وجہ سے میں ٹھیک سے سانس نہیں لے پا رہی ہوں۔ سانس لینے کے لئے جدوجہد کرنا اس سے بھی بدتر ہوتا ہے اور یہ کوشش میرے اندر زیادہ ریت بھر رہی ہے۔
میں مزید مضبوط ہونے کی کوشش کر رہی ہوں تاکہ میرا مدافعتی نظام صحیح طور پر کام کرے۔
ابھی تک اس بیماری کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا ہے۔ تندرستی آپ کے اندر ہے۔ علاج اللہ کی طرف سے ہے جو سب کا مالک ہے۔
اس مرحلے میں صرف ایک ہی چیز جو میں اپنے قریب محسوس کرتی ہوں، وہ اللہ ہے۔ جس سے میں ساری زندگی بھاگتی رہی۔ وہی ہے جو میری ہر صداکا جواب دیتا ہے۔ جب بھی میں بہت مایوس اور پریشان ہوتی ہوں تو وہ میرے ساتھ ہوتا ہے۔
اس مقام پر میں سوچ رہی ہوں کہ کیسے عام آنکھ سے نظر نا آنے والے وائرس نے تمام ترقی کا راگ الاپنے والوں کو بے بس کر دیا ہوا ہے۔ کیسے سپر پاور ہونے کا دعوی کرنے والے ممالک اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔ اور ہم پاکستانی جو چین میں وائرس آنے پر یہ کہتے رہے کہ چینیوں پر حرام کھانے کی وجہ سے اللہ کا عذاب آ گیا۔ اب جب یہ عذاب ہماری طرف آیا ہے تو ہم میں کچھ اس کو یہودی سازش کہہ رہے ہیں، کچھ اسے صرف ڈرامہ کہہ رہے ہیں، کچھ ماسک، ادویات، خوراک، پیٹرول وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں تاکہ مجبور لوگوں کو مہنگے داموں فروخت کرسکیں۔ بے ضمیر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے کیونکہ جس بندے کو موت کا خیال آ جائے وہ تو کسی سے تلخ لہجے میں بات کرتا ڈرتا ہے۔
لوگ بڑی بہادری سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں ہوگا کرونا سے ہمارا ایمان مضبوط ہے۔ کیا اللہ کے نبی نے نہیں کہا کہ پہلے تدبیر کرو اور پھر عقیدہ مضبوط رکھو۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو اسلام کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور اسلام کو مانتے بھی نہیں۔


