نیویارک کھلنا شروع ہوگیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں لاک ڈاؤن کو ختم کر دیا گیا ہے، لیکن نیویارک میں تقریباً 3 ماہ کے بعد شہر کے بعض علاقوں کو آج سے کھول دیا گیا ہے، کرونا وائرس کے سبب نیویارک میں 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ وائرس کا شکار مصدقہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد ہے، گزشتہ روز 60 ہزار 435 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے صرف 781 افراد کے رزلٹ مثبت آئے، پہلے کی نسبت یہ تعداد بہت کم ہے۔ کرونا کے شکار افراد کی تعداد میں کمی کی وجہ سے شہر کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ۔ ۔

ریاست نیویارک کے اپ اسٹیٹ علاقوں کو کچھ دن قبل کھول دیا گیا تھا، اب شہر کے باڈر کے علاقوں کو کھولا گیا ہے جبکہ مرکزی شہر مین ہیٹن، کوئنز، بروکلین، اور برونکس کو اگلے ہفتے کھولا جائے گا، گورنر نیویارک نے تمام افراد کو ماسک پہن نے کا حکم دیا ہے۔ اٹھارہ مارچ کو گورنر نے ایک بل پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی شخص کو کرونا ہوتو اس کا ادارہ تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں دینے کا پابند ہوگا

شہر کو کھولنے سے پہلے اہم اقدامات کیے گئے اور کیے جا رہے ہیں، انتہائی حساس علاقوں میں دس مزید کرونا ٹیسٹ کے مراکز کو کھولا گیا ہے، شہر جب مکمل طور پر کھلے گا تو سب سے زیادہ رش میٹرو اور بسوں پر ہوگا، عام دنوں میں دفتر اوقات میں بس اور ٹرین دونوں میں اتنا رش ہوتا ہے کے جسم سے جسم ٹکراتا ہے، اس ہی وجہ سے ایم ٹی اے کو دس لاکھ ماسک اور 25 ہزار گیلن ہینڈ سینی ٹائزر دیے گئے ہیں۔

بیشتر ریسٹورنٹ کھل گئے ہیں مگر گاہکوں کو انڈور کی بجائے باہر بٹھا رہے ہیں۔ جگہ جگہ مارکنگ کی گئی ہے، دکانوں اور اسٹورز کے اندر ایک وقت میں محدود افراد کو ہی داخلے کی اجازت ہے، سینی ٹائزرز بھی موجود ہیں۔ حجام حضرات خصوصی شیلڈ پہن کر بالوں کی تراش خراش کر رہے ہیں، ٹیکسی چلانے افراد نے اپنی گاڑیوں میں خصوصی پلاسٹک کی دیوار تعمیر کی ہوئی ہے۔

عبادت خانوں کو کھولنے کی شرط اس اجازت کے ساتھ دی گئی ہے کے سماجی دوری اختیار کی جائے گی اور ایک وقت میں مجموعی گنجائش کے مقابلے میں 25 فیصد افراد کو ہی اجازت ہوگی۔ فی الحال بار، ڈسکو اور فٹ نس سینٹروں کو کھولنے کے حوالے سے معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

محتاط اندازے کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث شہر کو یومیہ 173 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے اس ہی لیے ریاست کی طرف سے درمیانے درجے کے کاروبار کرنے والے افراد کے لیے 100 ملین ڈالر قرض کے لیے رکھے گئے ہیں، ان میں اقلیتوں خواتین اور ان افراد کو فوقیت دی جائے گی جو وفاق کا قرض حاصل نہیں کرسکے۔ سیلز ٹیکس کو بھرنے کی تاریخ میں توسیع دے دی گئی ہے اور اب 22 جون تک سیلز ٹیکس بھروایا جاسکے گا۔

حکومت کی جانب سے بھرپور انداز سے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ نجی کاروباری ادارے بھی اس مہم میں حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں، عوام بھی ایس او پیز پر عمل کرتی نظر آ رہی ہے، صورتحال پر گہری نظر رکھنے کے لیے خصوصی ڈیش بورڈ بنایا گیا ہے اور کرونا سے متعلق تمام خبریں ریاستی ویب سائٹ پر موجود ہیں جن کو مسلسل اپڈیٹ بھی کیا جا رہا ہے۔

طویل لاک ڈاؤن کے سبب بعض شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ہوٹلنگ، ٹور ازم اور ٹیکسی چلانے والے افراد کہتے ہیں ان کے لیے خصوصی اور غیر معمولی پیکج کا اعلان کیا جائے کیونکہ مستقبل قریب میں بھی ان لوگوں کو لگتا نہیں ہے کے کاروبار پہلے کی طرح ہوگا۔ ۔ ۔ نیویارک میں اندرون اور بیرون ملک کے یومیہ ٹورسٹ کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد تھی موجودہ صورتحال کے باعث مستقبل قریب میں بھی نہیں لگتا ہے کے اتنی بڑی تعداد میں سیاح نیویارک کا رخ کریں گے۔

لاک ڈاؤن اتنا طویل ہونا چاہیے تھا یا نہیں اس کر شہریوں کی رائے منقسم نظر آئی بعض افراد کہتے ہیں گورنر نیویارک نے بہت بہتر انداز سے اپنا کام کیا اور واپس صورتحال کو بہتری کی طرف لائے لیکن بعض افراد ان کی طرف سے کیے گئے طویل لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کے معیشت کو بند کیے بغیر گورنر کو اس صورتحال کا مقابلہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ اتنے لوگ ہلاک نہیں ہوئے جتنے لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ریحان سید، کراچی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *