ہر دلعزیز شخصیات کی چند عادات
ہم روزمرہ کے سماجی روابط اور میل جول میں کئی طرح کی شخصیات سے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں کہ بندہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے کہ ان سے ملے ہی کیوں۔ اور کچھ لوگوں کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ چند بنیادی باتیں اگر کسی کی شخصیت کا حصہ ہوں تو وہ فرد ہر جگہ پسند کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے مل کے خوشی محسوس کرتے ہیں اور دوبارہ ملنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کسی فرد کا جینوئن ہونا اس کی بہت بڑی خوبی ہے۔
جینوئن انسان ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بندے کو جھوٹی شناخت برقرار رکھنے کے لئے اداکاری نہیں کرنا پڑتی۔ ایسے فرد کے رویے میں کسی قسم کی بناوٹ یا تضاد کا عنصر نہیں ہوتا۔ یہ بہتر ہے کہ لوگ آپ سے آپ کے جینوئن ہونے کی وجہ سے نفرت کریں بجائے اس کے کہ وہ آپ سے اس وجہ سے محبت کریں جو آپ اصل میں ہیں ہی نہیں۔
کچھ لوگ بہت زیادہ ’ججمنٹل‘ ہوتے ہیں اور ہر حوالے سے اپنی رائے کو ہی آخری اور صائب رائے سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد درحقیقت مختلف قسم کی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں اور لوگوں کو غلط ثابت کر کے اپنے آپ کو اپنے صحیح ہونے کا یقین دلاتے رہتے ہیں۔ ایسے افراد ہر وقت ساری دنیا کو اپنے کٹہرے میں کھڑا کیے رکھتے ہیں اور خود اونچے چبوترے پہ براجمان ہو کے فیصلے صادر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو افراد دوسروں کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جوتوں میں کھڑے ہو کر ان کی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہر دلعزیز افراد کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر کسی سے عزت سے پیش آتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی شخصیت کا صحیح اندازہ لگانا ہو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سماجی اور معاشی حوالے سے اپنے سے کم تر لوگوں سے کس طرح پیش آتا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی کلچر یہ ہے کہ لوگوں کا ہاتھ طاقتور کے گھٹنوں اور کمزور کے گریبان پر ہوتا ہے۔
سادگی ایک ایسی خوبی ہے جو بندے کی شخصیت کو نکھارتی ہے۔ سادہ طرز زندگی کسی نعمت سے کم نہیں۔ سادہ زندگی بسر کرنے والے شخص کی زندگی میں ایسے مسائل نہیں ہوتے جن کا سامنا ان افراد کو کرنا پڑتا ہے جو تصنع پہ یقین رکھتے ہیں اور بناوٹی زندگی گزارتے ہیں۔ کنکریٹ کی بڑی بڑی عمارتیں انسان کی شناخت نہیں ہونی چاہیں بلکہ وہ کچھ اور خصوصیات ہیں جو کسی کو ایک اچھا انسان بناتی ہیں۔
سخاوت ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ انسان کو کھلے دل اور دماغ کا مالک ہونا چاہیے۔ اپنے دوستوں پہ پیسہ لگانے سے کبھی بھی نہیں گھبرانا چاہیے۔ اگر وسائل ہوں اور آپ کنجوسی کریں تو یہ ایک بیمار ذہنیت ہے۔ دوستوں کو کھانا کھلانے یا چھوٹا موٹا تحفہ دینے سے بندہ دیوالیہ نہیں ہوتا۔ بحیثیت انسان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی حیثیت کے مطابق لوگوں کے مسائل کم کرنے کی کوشش کریں۔
سماجی میل جول میں اچھا سامع ہونا چند نمایاں خوبیوں میں سے ایک ہے۔ اگر آپ دوسروں کو اپنی بات کے اظہار کا موقع دیتے ہیں، توجہ سے ان کی بات سنتے ہیں، جب وہ بول رہے ہوں تو آپ سکرین سے نہیں کھیلتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ انہیں عزت دیتے ہیں ان کی بات کو اہم سمجھتے ہیں اس کے بر عکس اگر کوئی بندہ یک طرفہ ابلاغ کرتا چلا جائے اور اپنی ہی سناتا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کو میل جول کے بنیادی آداب سیکھنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح ہر وقت لوگوں کے شکوے شکایتیں کرتے رہنا اور اپنے مسائل کا رونا روتے رہنا بھی غیر صحتمندانہ رویہ ہے۔ اگر ہم سارے دن کی گفتگو کا تجزیہ کریں تو کام کی باتوں کا دورانیہ چند ساعتوں سے زیادہ نہیں ہو گا۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ تعمیری گفتگو کی جائے۔ کسی کو اس کی غیر موجودگی میں تضحیک کا نشانہ بنا کے شاید ہم کوئی گھٹیا قسم کی حظ تو اٹھا سکیں لیکن ایسا کرنا سوائے وقت کے ضیاع کے کچھ بھی نہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے کہ وہ اتنے اہم ہیں کہ صرف انہی کی بات سنی جائے اور انہی کے مسائل کو زیر بحث لایا جائے۔ ایسے افراد لوگوں کو جذباتی طور پہ ’مینی پولیٹ‘ کرتے ہیں۔
آپ کا مخلص ہونا، اپنے والدین، بہن بھائی اور دوستوں کے مسائل سمجھنا اور جس حد تک آپ کی بساط ہو ان کی مدد کرنا ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی سے پیسے مانگیں اور وہ واپسی کی تاریخ پوچھے بنا آپ کو دے دے تو آپ خوش قسمت ہیں کہ وہ آپ کا مخلص دوست ہے۔ ہاں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مقررہ وقت سے پہلے ہی ادھار واپس کرنا با اصول انسان کی پہچان ہے۔
زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اور بیتا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ ہمیں وقتاً فوقتاً اپنی شخصیت کا تنقیدی جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور اپنے نفسیاتی مسائل پہ قابو پانا چاہیے۔ ہمیں ایسی عادات اپنانی چاہیں کہ لوگوں کو ہم سے مل کے خوشی ہو انہیں خوشگوار احساس ہو نہ یہ کہ وہ اگلا سارا وقت اس پچھتاوے میں گزاریں کہ وہ ہم سے ملے ہی کیوں۔


