سندھ کا قدیم روایتی کھیل ”چیکلو“ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ میں بچوں کے جو کھیل نایاب ہوتے جا رہے ہیں ”چیکلو“ بھی ان میں سے ایک ہے۔ ”چیکلو“ جسے لاڑ یعنی بدین اور ٹھٹہ اضلاع میں ”چیچڑو“ اور ”چینگھو“ بھی کہتے ہیں۔ وادی سندھ کے خصوصاً دیہاتی بچوں کا من پسند کھیل رہا ہے۔

”چیکلو“ مال مویشیوں کے باڑے میں اور گاؤں کے بیچ لگا ہوا ملتا ہے۔ جس پر صبح و شام بچوں کا ہجوم نظر آئے گا۔
”چیکلو“ نامی یہ سادہ سا جھولا انڈس ویلی سویلائزیشن کی قدیمی ایجاد ہے۔
کچھ ماہر لسانیات کا ماننا ہے کہ لفظ سرکل اور سائیکل اسی چیکلو سے ماخوذ ہیں۔

”چیکلو“ دو مضبوط لکڑیوں کا جوڑ ہے۔ جن میں سے ایک کو مقامی زبان میں ”منی“ یا ”کیرو“ اور دوسری لکڑی کو ”لاٹن“ کہا جاتا ہے۔

”چیکلو“ بنانے کی ترکیب بہت آسان ہے۔ ایک مضبوط لکڑی۔ جسے ”منی“ یا ”کیرو“ کہا جاتا ہے۔ اس کا اوپر والا سرا نوکدار بناکر زمین میں اس طرح گاڑا جاتا ہے کہ زمین سے کم سے کم تین فٹ اوپر ہو۔ اور اوپر والی لکڑی یعنی ”لاٹن“ چھے سے سات فٹ لمبی ہوتی ہے۔ اور اس لکڑی کے بیچ گول کھانچا بناکر نیچے گاڑی ہوئی منی کے اوپر ٹکا کر رکھا جاتا ہے۔ اور اوپر والی لکڑی کے بیچ بنا کھانچا نیچے والی لکڑی کی اوپری نوک میں بالکل جم کر بیٹھ جاتا ہے۔

اس کے بعد ایک بچہ اوپر والی لکڑی یعنی ”لاٹن“ کی ایک طرف اور دوسرا بچہ دوسری اور کچھ اس طرح بیٹھتا ہے جیسے کسی جانور اونٹ۔ گھوڑے یا گدھے پر سواری کے لیے بیٹھا جاتا ہے۔ اس ترتیب سے ”چیکلو“ کے اوپر بیٹھ جانے کے بعد ایک بچہ نیچے ہوگا تو سامنے بیٹھا بچہ اوپر ہوگا۔ یوں اوپر نیچے ہوتے کچھ دیر جھولے کھانے کے بعد دونوں بچے پہلے پیروں کے زور سے گول گول گھومنا شروع کر دیں گے۔ اور پھر جب ”چیکلو“ ہوا کے دوش پر آتا ہے۔ مطلب کہ بہت تیز چلنے لگتا ہے تو دونوں بچے پاؤں بالکل اوپر کر دیتے ہیں اور ”چیکلو“ چیں چیں کی آوازوں کے ساتھ ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ گول گھومتا رہے گا۔

اس طرح ایک ساتھ دو بچے اس کھیل میں تفریح حاصل کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی دو دو بچے جوڑیوں میں بیٹھ کر بھی اس کھیل سے محظوظ ہوتے ہیں۔ جن کے ہم وزن ہونے کا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ منی کے اوپر والی لکڑی کا توازن برقرار رہے اور بچے گرنے نہ پائیں۔

”چیکلو“ گول پھرتے ہوئے اور اوپر نیچے ہوتے ہوئے ”چیں چیں“ کی آوازیں نکالتا ہے۔ اور یہ آواز نکالنے کے لیے بچے ”منی“ کی نوک پر تیل لگاتے ہیں اور ”لاٹن“ کے گول کھانچے میں تیل کے ساتھ کوئلہ ڈالا جاتا ہے۔

”چیکلو“ فقط ایک کھیل نہیں اس ایجاد کی اصل وجہ جانوروں کو لگنے والی ایک وبا بتاتے ہیں۔ جسے مقامی زبان میں ”سامھاڑو“ کہتے ہیں۔ اس بیماری میں بڑے جانور کو تو کچھ نہیں ہوتا پر مال مویشیوں کے کم عمر بچے مر جاتے ہیں۔ روایات عام کے مطابق ”چیکلو“ کی ”چیں چیں“ کی مخصوص آواز سے یہ مرض ختم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”چیکلو“ اکثر و بیشتر مویشیوں کے باڑے میں پایا جاتا ہے۔

سندھی لغات میں ”چیکلو“ نامی ایک پرندے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ جو موسم سرما میں سرد ممالک سے ہجرت کر کے یہاں کی جھیلوں پر آتا ہے مگر اس پرندے کی ”چیکلو“ کھیل سے کیا نسبت ہو سکتی ہے؟

”چیکلو“ آج کل مٹ جانے والی ثقافت میں شمار ہونے کے قریب ہے اور اس کی جگہ شہروں میں مختلف گول پھیری والے جھولے آ چکے ہیں۔ دیہاتی بچے اس کھیل اور بزرگ اپنی روایات سے جڑ کر ہی اپنی پہچان قائم و دائم رکھ سکتے ہیں مگر یہ بیگانگی کا طوفان تہذیب اور ثقافت کا دشمن ہے جس سے بچنا ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور نظر آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply