ناری سبھا: حیدرآباد میں خواتین کا پہلا کلب


\"akhterتقسمِ ہند سے قبل حیدرآباد شہر میں تعلیمی اور فلاحی ادارے بنانے پر زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ آج بھی حیدرآباد کے ہر گلی کوچے میں یہ تمام عمارات اس شہر کی پہچان بنی ہوئی ہیں۔ جن کو اس زمانے میں ان محنت کش ہاتھوں نے تیار کیا ہوگا جنہیں شاید یہ بھی اندازہ نہ ہو کہ آنے والا وقت کس طرح ان پر قہر بن کر ٹوٹے گا۔

اگر وقت میں ٹھہرنے کا عمل ہوتا تو آج اس دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا، اس کے رنگ کچھ جدا ہوتے مگر وقت کے قدم کبھی رکتے نہیں ہیں، وہ صدیوں سے گزرتا چلا آ رہا ہے اور صدیوں تک گزرتا چلا جائے گا۔ بس اپنے پیچھے چھوڑ جائے گا وہ نشانات جنہیں دیکھ کر ہم تاریخ کو جانچنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ ماضی ایک تلخ یاد بن کر ہمیں ہمارے عروج و زوال کے قصے یاد دلاتا رہے گا۔

  حیدرآباد میں ہیرآباد کے علاقے میں موجود عامل کالونی آج بھی ان گھروں کے ساتھ موجود ہے جہاں ہندستان کی تقسیم سے قبل ایک پڑھا لکھا طبقہ رہائش پذیر تھا۔ تالپور حکمرانوں کے زمانے میں یہ لوگ ان کے ہاں ملازم ہوا کرتے تھے۔ سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد بھی حیدرآباد کے ہندو مختلف سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے لگے۔ جنہیں ’حیدرآبادی عامل‘ کہا جاتا تھا۔ یہ ایک افسر شاہی طبقہ تھا۔ جن کی رہائش کے طور طریقے باقی آباد یہاں کے شہریوں سے الگ تھلگ تھے۔ عامل کا مطلب ہی پڑھا لکھا تھا۔

\"img_7778\"اسی زمانے میں عورتوں کی ترقی و ترویج کے لیے ایک ایسا ادارہ بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی جہاں نہ صرف انہیں تعلیم دی جائے بلکہ ہنر بھی سکھائے جائیں۔ جو آگے چل کر اس سماج میں ایک تعمیری کردار ادا کر سکیں۔ اس لیے 1860 XXI سوسائٹی ایکٹ کے تحت 1932 میں ’چتر بائی جوت سنگھ آڈوانی ناری سبھا‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ حیدرآباد میں خواتین کے لیے پہلا کلب تھا۔ جہاں خواتین کو وقت گزارنے اور تعلیم و تربیت کی آزادی تھی۔ جس کا نام بعد میں تبدیل ہو کر لیڈیز کلب بن گیا۔

یہ عمارت جیل روڈ کے قریب ہیرآباد میں پلاٹ نمبر 2/142 پہ قائم ہے۔ اس کا اہم ترین مقصد مذہبی کلاسز، ہنر وحرفت کی تربیت دینا، اخلاقیات سکھنا اور جسمانی حوالے سے بھی تعلیم دینا تھا۔ اس کے علاوہ اس زمانے میں مستحق لڑکیوں اور عورتوں کو وظیفے بھی فراہم کیے جاتے تھے۔ یہاں شادی بیاہ اور منگنی جیسی رسومات بھی منعقد کی جاتی تھیں۔ یہ ان عورتوں کے لیے خاص طور پہ تعمیر کیا گیا تھا جو عامل گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔

1938 میں اس وقت کے کلیکٹر یو۔ ایم میرچندانی نے اس عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ جبکہ اس کے تعمیر کا برس 1940 ہے۔ 1939 میں بھگوان داس جوت سنگھ اور اس انجمن (ناری سبھا) کے مابین ایک معاہدہ طے پایا۔ جس کے مطابق اس کے شرائط طے کیے گئے۔ جس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔

اس انجمن میں پیٹرن، تاحیات ممبر، عام ممبر، نامیمنیز آف دی ڈونر شامل تھے۔ مگر اس سے قبل 1928 میں ایک ٹرسٹ قائم کیا گیا تھا۔ جس کے ٹرسٹی پریم سنگھ، ہری \"img_7775\"سنگھ آڈوانی، نارائن سنگھ آڈوانی، پہلاج سنگھ اور بیجا سنگھ آڈوانی تھے۔ اس ٹرسٹ نے ناری سبھا کو دس ہزار کا چندہ فراہم کیا۔

 ناری سبھا قائم کرنے کے بعد پہلی کاروباری کمیٹی بنائی گئی تھی، اس میں صدر مس ٹھاکری ولیرام لکھانی، سیکریٹری مس جسوتی نانکرام، خزانچی مسز ساوتری ہوتچند آڈوانی تھیں۔ جبکہ دیگر 6 خواتین کو آراکین کے طور پہ شامل کیا گیا تھا۔

آج اسی ناری سبھا میں پچھلے بیس برسوں سے لڑکیوں کا ایک اسکول قائم ہے۔ ہندوؤں کے ہندستان چلے جانے کے بعد یہاں کی سرگرمیاں کچھ تھم سی گئی تھیں۔ نصیر مرزا سابقہ اسٹییشن ڈاریکٹر حیدرآباد ریڈیو اور لکھاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ناری سبھا کا مقصد شہر میں موجود خواتین کو یکجا کرنا تھا، جہاں وہ نہ صرف لطف اندوز ہو سکیں بلکہ دیگر خواتین کے لیے بھی کچھ کرسکیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ پاکستان کے قیام کے بعد یہاں پر ’اپوا‘ کی شاخ بھی قائم کی گئی اور اپوا کے پلیٹ فارم سے سرگرمیاں جاری رکھی گئیں۔ جبکہ سندھ کی ماہر تعلیم دادی لیلان بھی اس میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

   2000 میں اس عمارت کو سندھ حکومت کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔ مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ حیدرآباد شہر میں کوئی قدیم عمارت ہو اور اس پہ بلڈر مافیا چیل کوؤں کی طرح نہ جھپٹے۔ سال 2005 میں حیدرآباد کی بلڈر مافیا نے لیڈیز کلب کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا اور یہاں پر ایک پلازہ بنانے کا ارادہ دکھایا گیا۔ اس کے لیے بہانا یہ بنایا گیا کہ یہ متروکہ پراپرٹی ہے اس لیے اسے توڑنے کی تیاری ہو چکی تھی۔\"img_7771\"

اس عمارت کو بچانے کے لیے 2005 میں سندھی میڈیا نے نہ صرف اپنا کردار ادا کیا بلکہ یہاں کی خواتین بھی حیدرآباد کی سڑکوں پر آ گئیں۔ جنہوں نے لیڈیز کلب کو بچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لیڈیز کلب کو تالے لگا کر سیل کردیا گیا۔ مگر یہی تالے انہیں عورتوں کے ہاتھوں ریزہ ریزہ ہوگئے جنہوں نے اس قدیم ورثے کو بچانے کی خاطر اس بلڈر مافیا سے ٹکر لی، جسے حیدرآباد میں کوئی بھی قدیم عمارت سالم نہیں چاہیے۔

 خورشید میمن لیڈیز کلب میں قائم اسکول کی پرنسپل ہیں۔ جنہوں نے اس سارے ہنگامے کے بعد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی۔ جس کے بعد کورٹ نے اسٹے جاری کرتے ہوئے لیڈیز کلب کو اسی حالت میں قائم رہنے کی اجازت دی ہے۔ آج بھی اس عمارت کے چھت تلے کئی بچیاں تعلیم کے حصول کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 اس کیس کے وکیل سینیئر ایڈووکیٹ جھمٹ مل ہیں۔ ان سے ملاقات کے بعد احساس ہوا کہ انہیں بھی حیدرآباد میں قدیم عمارات کے ٹوٹے اور بکھرنے کا شدید درد ہے۔ جب میں نے ان سے یہ دریافت کیا کہ وہ اس کیس کو کس طرح دیکھتے ہیں، کہ ہمارے ورثے کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا،

  ”ہم نے اپنے ورثے سے بڑا مذاق کیا ہے۔ یہ جو دھرتی کا ٹکڑا ہمیں ملا ہے، اس سے زیادہ حسین کوئی خطہ ہے ہی نہیں، جس کے صحرا میں بھی اتنی خوبصورتی ہے\"img_7780\" کہ آنکھیں دنگ رہ جاتی ہیں“

 انہوں نے تھوڑے سے وقفے کے بعد رومانیہ اور بلغاریہ کے ساتھ بہنے والے ”دریا ڈینوب“ کا قصہ سنایا کہ وہ ایک خطرناک دریا ہے۔ ایک بار وہاں سیلاب آنے کے دوران سات سو سالہ قدیم چرچ کو بچانے کے لیے لوگوں نے دریا کے گرد پل باندھ کر اپنے گھروں کو ڈوبنے دیا، مگر اس تاریخی ورثے کو بچا لیا. لیکن ہمارے ہاں لوگ اپنے خسیس مفادات کو بچانے کے لیے ورثے کو تباہ کرنے میں دیر نہیں کرتے ہیں“۔

   یہ سہرا ان کے ہی سر ہے کہ ان کی محنت کی وجہ سے آج لیڈیز کلب حیدرآباد اپنی جگہ قائم ہے۔

 ناری سبھا ایک مختصر سی عمارت ہے۔ جس میں ایک مرکزی ہال ہے، جس میں ایک اسٹیج بنا ہوا ہے، جبکہ اس کے علاوہ دو کمرے اور بھی ہیں۔ مرکزی ہال کے آگے مختصر سی راہداری ہے اور اس کے سامنے ہی ایک کشادہ آنگن ہے۔ جہاں پر ایک اور اسٹیج بنا ہوا ہے۔

   مرکزی ہال مٰیں پارٹیشنز بنا کر مختلف جماعتوں کی بچیوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ آج بھی یہ عمارت اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہے۔ جہاں کئے گھنٹوں تک پڑھائی کا شور گونجتا ہے، مگر ان بچیوں کو یہ نہیں معلوم کہ وہ اسی تسلسل کا حصہ ہیں جہاں پر سندہ کی نامور عورتوں نے اس عمارت میں اپنا وقت گزارا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو آج بھی ایک درسگاہ ہے مگر آج بھی یہ عمارت بلڈر مافیا کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے۔ جسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ان کی \"img_7773\"لالچ کی وجہ سے ایک تاریخی ورثہ تباہ ہوجائے گا۔

 میں اس عمارت کے خالی کمروں میں چہل قدمی کرتا رہا۔ ان تمام لوگوں کو یاد کرنے لگا جنہوں نے حیدرآباد کی عورتوں کو اس زمانے میں بھی دنیا کے جدید ترین علوم و ہنر سکھانے کا بیڑا اٹھایا۔ آج جب ان میں سے کوئی بھی نہیں رہا تو کم از کم حیدرآباد کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اس تاریخی ورثے کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اسے کسی بھی بلڈر مافیا کے ہاتھوں سے بچانے میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آنے والے وقت میں ناری سبھا یہاں پر موجود رہے گی یا صرف یہ میرے کیمرے کی آنکھ میں ہی زندہ رہے گی؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 20 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments