ایچ ای سی اردو سے متعلق ریسرچ پیپر کی اشاعت کی شرط ختم کرے۔ سکالرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر اور وزیراعظم سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل۔
ملک بھر کے پی ایچ ڈی سکالرز ریسرچ پیپر چھپوانے کی شرط کے باعث ذہنی اذیت کا شکا رہیں۔ مختلف یونیورسٹیوں میں برسوں سے مقالے جمع کروا چکے ہیں مگر ایچ ای سی کی شرط کی وجہ سے بروقت ڈگریاں حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ واضح رہے کہ ایچ ای سی کی شرائط کے مطابق ہر پی ایچ ڈی سکالر کو اپنے تحقیقی کام کی منظوری کے لیے کم سے کم وائے کیٹگری کے ریسرچ جرنل میں ایک تحقیقی پرچہ چھپوانا ضروری ہے۔ جبکہ قومی زبان اردو کے بہت کم جرائد اس کیٹگری میں شامل ہیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ ایچ ای سی نے ان جرائد کی فنڈنگ بھی منسوخ کردی۔ جس کی وجہ سے مختلف جرنلز نے اپنے تحقیقی پرچے شائع کروانے کی فیس مختص کردی ہے۔ ہم سب سے بات کرتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ایک طالبہ نے کہا کہ

” ایچ ای سی کا یہ رویہ قومی زبان اردو سے دشمنی پر مبنی ہے۔ اگر ہم مضمون شائع کرنے کے لیے فیس ادا کر بھی دیں تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ مضمون شائع ہوگا یا نہیں اور وہ فیس بھی ناقابل واپسی ہوگی۔ اردو قومی زبان کے حوالے سے کسی رعایت کی بجائے ریسرچ جرنلز کی تعداد مسلسل کم کرنا اور آئے دن ان کے معیار میں تبدیلی اردو دشمنی کی واضح مثال ہے۔ اب گنے چنے ریسرچ جرنلز یا تو سالنامے ہیں یا پھر ششماہی، ان میں تو یونی ورسٹی سکالر کی باری آنے میں سالوں درکار ہیں پھر صوبائی اور ملکی سطح پر تو یہ صورتحال مزید گمبھیر ہو جائے گی“ ۔

انہوں نے کہا کہ ”ہم صدر مملکت، وزیر اعظم اور چیئرمین ایچ ای سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ریسرچ جرنلز کی تعداد میں اضافے کے لیے کیٹیگری میں تبدیلی کی جائے، ریسرچ جرنلز میں فیس کی ادائیگی کی شرط کو ختم کیا جائے اور ریسرچ جرنلز کی جانب سے مضمون کی اشاعت کی منظوری کو یقینی بنایا جائے تاکہ سینکڑوں پی ایچ ڈی سکالرز کو سال ہا سال ڈگری کے انتظار کی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply