میری۔ ۔ کرونا کہانی، میری زبانی۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے ٹھیک4 ماہ اور 9 روز قبل کی بات ہے، میرا یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔ اپنا پورا دن خوش و خرم طریقے سے بتانے کے بعد گھر آئی تو چھوٹے بھائی نے ہمیشہ کی طرح مجھے کورونا کے نام سے مخاطب کر کے سلام کیا، اور میں نے ہمیشہ کی طرح اسے نظر انداز کر کے اپنے کمرے کی جانب رخ کیا اور سکون سے وہاں جا کر بیٹھ گئی۔ پانچ ہی منٹ بعد میں نے اپنے بیگ سے فون نکالا اور یو ٹیوب پہ ہیڈ لائنز سننے میں مشغول ہو گئی۔ بین الاقوامی خبروں کی ٹرینڈنگ خبرہی چائنہ میں کورونا مریض کی تعداد میں اضافے سے متعلق تھی۔ میں نے خبر سنتے ہی چائنہ کی عوام کے لئے رحم کی سرسری دعا مانگتے ہوئے فون بند کر دیا اور ٹی وی پر من پسند ڈرامہ دیکھنے میں مشغول ہو گئی۔

اگلے روز میں جب یونیورسٹی گئی تو میں نے میٹرو بس میں کچھ خواتین کو کورونا کا پھیلاؤ بڑھ جانے سے متعلق بات چیت کرتے سنا جن کے مطابق بہت جلد کورونا پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب رواں دواں ہو نے والا تھا۔ میں نے لاپرواہی سے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے میٹرو بس سے اتر کر اپنا راستہ اپنایا اور دس منٹ پیدل چلنے کے بود یونیورسٹی پہنچی تو گیٹ پہ چائینیز ڈیپارٹمنٹ کے طلباء کو ماسک پہنے دیکھ کے ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

وقت گزرتا گیا اور سب بہترین طریقے سے چل رہا تھا کہ 23 فروری 2020 کو مجھے فیس بک کے ذریعے معلوم پڑا کہ کورونا وائرس نامی وبا ملک پاکستان میں بخیریت پہنچ چکی ہے۔ پھر اس روز گھر پہنچتے ہی میں نے سب سے پہلے لیپ ٹاپ کھولا اورمنسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن، گونرمنٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ کا جائزہ لیا۔ جس سے مجھے معلوم ہوا کے کورونا کے پاکستان میں پہنچ جانے کی خبر بالکل سچ ہے۔ میں نے فوراً سے احتیاطی تدابیر کے نسخے تلاش کرنے شروع کیے اور اگلے دن سے یونیورسٹی ماسک پہن کے جانے کا عہد کیا۔

اگلے روز میں جب ماسلک پہن کے یونیورسٹی پہنچی تو میرے دوستوں اور کچھ قابل احترام اساتذہ نے بھی میرا مذاق اڑاتے ہوئے مجھے بے خوف زندگی گزارنے کے مفت مشورے دیے۔

مگر دیکھتے ہی دیکھتے دن بدن حالات بد تر سے بد تر ہوتے چلے گئے، اور پھر بنا خبر ہوئے ہی 13 مارچ 2020 نہ صرف میرے اور میرے دوستوں کے لئے بلکہ یونیورسٹی کے تمام طلباء کے لئے ہی وہ دن یونیورسٹی میں آخری دن ثابت ہوا۔ کورونا کے ملک میں پھیلاؤ سے متعلق حکومتی اعلان ہونے کی بنا پہ ملک کے تمام تر تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا۔

اس کے بعد آئے دن ڈبلیو ایچ او کی جانب سے تو خطرے کی گھنٹیوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی مگر وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے سب حالات کنٹرول میں ہونے اور نا گھبرانے کی تلقین کی جاتی رہی۔ مگر حالات تھے کہ دن بدن خراب سے خراب تر ہی ہوتے چلے گئے۔

نا صرف اتنا ہی بلکہ آج ملک اس دوراہے پہ کھڑا ہے کہ ماہرین ؛ کورونا سے کیسے بچا جائے؟ کے سوال سے دھیان ہٹا کر، ہمیں کورونا کب ہو گا؟ کہ سوال پہ غور کرنے کو کہتے ہیں۔

اب ایسے حالات میں کہیں حکومت عوام پہ انگلیاں اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں، تو کہیں مقامات پہ عوام حکومت کو ناکارہ کہتی دکھائی دے رہی ہے۔ یعنی پانی سر سے گزرنے کے بعد عقل آ جاتی ہے والی مثال کو اس معاملے کے درمیان ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ سچ ہے کے کورونا پہ قابو پانے کے حوالے سے حکومت کی تمام حکمت عملیاں بری طرح سے ناکام ہوئی ہیں مگر اگر ملکی آبادی کے لحاظ سے تناسب کیا جائے تو ابھی بھی ملک کی زیادہ عوام اس وبا سے مکمل طور پہ محفوظ ہے۔ جس کی پہلی اور بہترین وجہ سمجھدار عوام کا اپنے طور پہ ذمہ دارانہ رویہ اپناناہے۔

پر اب مسئلہ جہاں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اب بھی یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کورونا نامی کوئی وبا ہے بھی کہ نہیں؟

ابھی کچھ روز قبل ہی کی بات ہے کہ اچانک سے میری دوست بن بتائے میرے گھر پہ آن پہنچی اور دروازہ کھولنے پہ میرے چھوٹے بھائی کو معلوم پڑا کہ وہ محض دل بہلانے اپنی دوست کے گھر آئی ہیں۔ اب ایسے میں، میں جو پچھلے قریبا تین ماہ سے گھر میں قرنطینہ ہوئی بیٹھی ہوں کیسے جھٹ سے اٹھ کے مل لیتی اور اس سے خوش گپیاں لگانے پہ دل کو مناتی۔ میں نے والدہ کے ہاتھ پیغام بھجوا دیا کہ اسے خبر دی جائے کہ میں ہسپتال گئی ہوئی ہوں معمولی چیک اپ کی غرض سے۔

مگر حیرت کی بات یہ ہوئی کہ محترمہ میرے گھر پہ موجود نہ ہونے کی خبر جاننے کے باوجود بھی بیٹھ گئیں اور میری والدہ سے گفتگو فرمانے لگیں۔ اب جو میرا حال تھا بالکل نا بیان کردہ۔ میں نے اس کے جانے تک کمرے میں ہی چہل قدمی کا فیصلہ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میرے کانوں میں اس کی آواز سنائی دینے لگی اور میرا دھیان اس کی باتوں میں لگ گیا۔ میں نے سنا کہ میری والدہ اس سے ہاتھ نہ ملانے پہ معذرت کر رہی تھیں اور وہ محترمہ (سہیلی میری) جوابا فرما رہی تھیں کہ؛ آنٹی کورونا نہیں ہوتا آپ باہر دیکھیں دنیا گھوم رہی ہے آرام سے، یہ بس محض ایک پروپیگنڈا ہے میں اپنی نانی اور ماں کو بھی میں یہی سمجھاتی ہوں کہ کورونا سے ڈرنا چھوڑیں، کورونا نہیں ہے اگر ہے بھی تو مرتا کوئی نہیں کورونا سے یہ محض ایک معمولی سا کیڑا ہے جو فلو پھیلاتا جا رہا ہو گا۔ پھر میں نے کچھ دیر ٹی وی لاؤنج (جہاں میری والدہ ماجدہ اور میری سہیلی براجمان تھیں ) میں مکمل خاموشی پائی اور ٹھیک پانچ منٹ بعد محترمہ میری والدہ سے اجازت لیتے ہوئے میرے گھر سے رخصت ہو گئیں۔

ان کے چلے جانے کہ بعد میں نے فوراً سے گھر کے تمام کھڑکیاں دروازے کھول دیے، صوفے پہ پہلے سے بچھی چادر اٹھا کر کہ دوسری چادر بچھائی اور ٹی وی آن کر کے خبریں دیکھنا شروع کی۔ ٹی وی پہ چلنے والی پہلے خبر جو میں نے دیکھی وہ نیشنل اسمبلی آف پاکستان کی ممبر مریم اورنگزیب اور ان کی والدہ سے متعلق تھی کہ دونوں خواتین کورونا کے مرض میں مبتلا ہو گئی ہیں اور اس وقت میں ہی مجھے پاکستان کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی صاحب اور ریلوے کے فیڈرل منسٹر شیخ رشید صاحب کے بھی مرض میں مبتلا ہونے کا معلوم پڑا۔ کچھ وقت کے لئے توخبر سن کر میں ششدر رہ گئی۔ ابھی اسی خبر کے صدمے سے نہ نکلی تھی کہ محلے کی مسجد میں اعلان ہوا کہ کوئی حاجی صاحب تھے جن کی زوجہ محترمہ کورونا مرض میں مبتلا ہونے کے باعث دنیائے فانی سے کوچ کر چکی تھیں اور ان کے جنازے میں شرکت سے منع فرمایا جا رہا تھا۔

میں پریشان حال ہو کر اندر آئی تو سوچا کیوں نہ کسی دوست سے بات کر کے دل بہلا لیا جائے۔ میں نے انتہائی دل کے قریب والی دوست سے رابطہ کیا اور اس کے حال احوال پوچھنے پہ اپنے دکھ کا اظہار کیا۔ مگر معلوم نا تھا کہ وہ بھی گھر تشریف لانے والی عزیزہ کی طرح کی سوچ رکھتی ہوں گی۔ انہوں نے نہایت ہی رازدارانہ انداز میں مجھ سے کہا کہ کورونا، کورونا کرنا چھوڑ دو۔ عرصے سے خود کو پاگل کیے بیٹھی ہو گھر پہ۔ باہر نکلو، لوگ جی رہے ہیں تم بھی جیو۔

بلکہ ایسا کرو میری طرف ہی آ جاؤ میں گھر میں بور ہو رہی ہوں۔ ہم دونوں مل بیٹھیں گے، باتیں کریں گے تو اچھا محسوس کرو گی۔ اگر نہیں آ سکتی تو خدارا اس کا ذکر چھوڑ دو یہ کوئی جان لیوا مرض نہیں ہے اس سے کچھ نقصان نہیں پاؤ گی۔ اگر کورونا نامی وبا کا کا وجود ہوتا تو تم اب تک بچی ہوئی نا رہتی۔ مجھے اس کی باتوں سے ذوردار دھچکا لگا۔ ابھی اسی سے نا سنبھلی تھی کہ گھر تشریف لانے والی محترمہ نے خیریت معلوم کرنے کی غرض سے میسج کیا۔

حال احوال پوچھنے کے بعد میرے موڈ کے حوالے سے بھی پوچھا تو میں ان سے دل کی کیفیت بیان کر بیٹھی۔ پھر انھوں نے مجھے حوصلہ مندانہ انداز میں یقین دلانے کی کوشش کی کہ میں ہی غلط ہوں اور کورونا سے بچنے کے لئے بس باہر جاتے ہوئے (ناک سے نیچے اترا ہوا) ماسک ہی پہن لینا کافی ہوتا ہے۔ پھر آخر کار میں نے ہی خود کو سمجھاتے ہوئے اور مزید بحث کے آگے نہ بڑھاتے ہوئے ان سے اجازت طلب کی اور جا کر سو گئی۔

صبح عین فجر کے وقت جب بیدار ہوئی تو گھر تشریف لانے والی محترمہ کا میسج ملا جس میں انھوں نے اپنی نانو کی کورونا کے باعث موت ہو جانے کا ذکر کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply