سگریٹ سے ماسک تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بات شاید والٹیئر نے کہی ہے کہ ہر دور میں دنیا کے اندر اکثریت جاہلوں کی رہی ہے۔ اس بات سے آپ کو اختلاف کا حق ہے۔ لیکن میں والٹیئر سے متفق ہوں۔ وجہ سیدھی سے ہے۔ اس کورونا وبا کو ہی لے لیجیے، عالمی طور پر جو بتایا جا رہا ہے، ہماری حکومت اور عوام اس پر عمل کرنے کو ہی تیار نہیں۔

سگریٹ نوشی:

ٹھہریں ہم بات کورونا سے نہیں سگریٹ پینے کے عوامی مقامات اور عوامی ٹرانسپورٹ میں عائد پابندی سے شروع کرتے ہیں۔ اس پابندی کو سبھی جانتے ہیں لیکن کیا کہیں اس پابندی پر عملدرآمد ہوتے دیکھا۔ کتنے شہری ہیں جو خود سے اس پر عمل کرتے ہیں۔

پچھلے دنوں جب گیس سیلنڈر والی گاڑیوں میں آئے روز آگ لگنے کے واقعات ہو رہے تھے جن میں بے شمار شہری لقمہ اجل بنے۔ اس وقت بھی ان گاڑیوں میں سگریٹ پینا کسی نے نہ چھوڑا۔ ان گاڑیوں میں کچھ ایسے مسافر بھی ہوتے تھے جو ان حادثات کی وجوہات کو جانتے ہوئے ساتھی مسافروں کو سگریٹ پینے روکنے کی کوشش بھی کرتے لیکن سامنے سے جھڑکیاں ہی ملتیں۔

ایک بار میں کراچی سے ٹھٹہ جا رہا تھا۔ وین میں میرے ساتھ بیٹھے ایک صاف ستھرے لباس میں مسافر نے گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی سگریٹ نکال لی۔ میں نے منع کرتے ہوئے کہا کہ ”سر سیٹوں کے نیچے بم (گیس سیلنڈر) رکھے ہیں۔ احتیاط کریں۔ اپنا نہیں تو دوسرے مسافروں کا ہی خیال کر لیں۔“

موصوف کہنے لگے ”آپ تو بڑے ہی ڈرپوک ہیں۔ ہم تو جہاز میں سگریٹ پی چکے ہیں۔“
” سر وہاں باتھ روم میں جا کر پی ہوگی، لیکن یہاں تو آپ سب مسافروں کے درمیان ہیں۔“ میں نے کہا۔

” نہیں نہیں۔ میں نے سیٹ پر ہی سگریٹ پی تھی اور کسی نے مجھے نہیں روکا تھا۔“ مسافر نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا۔

میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا ”سر اگر آپ گاڑی کے کہیں رکنے پر اتر کر سگریٹ پی لیجیے گا۔“ موصوف نے مجھے گھورتے ہوئے بھری گاڑی میں سگریٹ سلگائی اور سفر کے دوران مسلسل کش لیتا رہا۔

ٹریفک سگنل:

اب بات کرتے ہیں ٹریفک سگنلز کی۔ صرف کراچی ہی کو لے لیجیے کتنے لوگ ہوں گے جو سگنلز کو فالو کرتے ہیں۔ کہیں ٹریفک سارجنٹ وغیرہ کھڑے ہوں تو اشارے پر گاڑی ضرور رکی ہوگی۔ اگر کہیں ٹریفک پولیس اہلکار نہ ہو، رات کا وقت ہو یا پھر سڑک خالی ہو، تب کیا کیا جاتا ہے۔ یہ بھی بخوبی ہم سب جانتے ہیں۔ رانگ سائیڈ سے گاڑی چلانا، کم عمر بچوں کو گاڑی چلانے کو دینا اور غلط پارکنگ وغیرہ بھی ہم روز ہی دیکھتے ہیں۔

ٹال ٹیکس:

یہ ٹیکس موٹر وے پر تو سبھی ادا کرتے ہیں لیکن یہاں بھی سبز نمبر پلیٹ اور کچھ ترم خان ٹائپ شخصیات ٹیکس دینا توہین سمجھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہاں ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ موٹر وے کی برعکس نیشنل ہائی وے پر لگے ٹال پلازہ سے گزرنے والے ایسے بے شمار لوگ ہوتے ہیں جو صحافتی کارڈ، کسی سیاسی جماعت، کسی وزیر یا کسی اسمبلی ممبر کا حوالہ دے کر بغیر ٹیکس ادا کیے گزر جاتے ہیں۔ ایسے ٹال پلازہ پر تو لاکھوں روپے مالیت کی کار میں بیٹھے لوگوں کو ٹیکس کے تیس روپے پر جھگڑا کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

ماسک لازمی:

کورونا وبا کے دوران بالآخر گھر سے باہر نکلنے پر حکومت نے ماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا۔ لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہریوں کی اکثریت کو اب بھی گمان ہے کہ یہ سب ڈرامہ ہے۔ کوئی کورونا وبا نہیں ہے، سب حکومتی پروپگنڈہ اور عالمی سازش ہے۔ ایک طرف کورونا وبا سے لڑنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملہ چیخ چیخ کر لوگوں کو بلاوجہ گھروں میں رہنے کی ہدایت اور باہر آنے سے منع کر رہا ہے۔ پر بڑھتی ہوئی مریضوں کی تعداد اور اموات کی شرح میں اضافہ کے باوجود عام لوگ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ عوام کو کیا قصور وار ٹھہرائیں جب حکومت میں اہم عہدوں پر فائض شخصیات ہی ماسک نہ پہنیں تو لوگ کیا خاک حکومتی اقدامات پر عمل کریں گے۔ حکومتی پابندیاں، اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر ( ایس او پیز) اور قوانین پر عملدرآمد سب تماشا بنا ہوا ہے۔

پاکستانی قوم کے شعور کا عالم یہ ہے کہ یہ چڑیلوں کی موجودگی پر تو یقین رکھتی ہے لیکن کورونا کے وجود سے سراسر انکاری ہے۔
تو ایسے میں قوانین بنے ہیں اور بنتے بھی رہیں گے لیکن ان پر عملدرآمد کیسے ہوگا۔ اگر حکومتی عہدیدار اور ذمہ دار لوگ ہی قوانین کی خلاف ورزی کریں تو پھر تباہی کے سوا کچھ نہیں بچتا۔

ان سب باتوں کے علاوہ ایک ان سب مسائل سے بھی بڑا مسئلہ ہے، وہ ہے جہالت اور کم علمی۔ وہ کہتے ہیں نہ نیم حکیم خطرہ جاں۔ تو یہاں ہر شخص حکیم لقمان بنا ہوا ہے اور سنا مکی، کلونجی اور اسپغول جیسے ہماری قومی دوائیں ہیں۔ جسے ہر کوئی ہر بیماری کا اکسیر علاج قرار دیتا ہے۔ شاید ہم کورونا اور اس جیسے اور بیماریوں کو تو شکست دے دیں لیکن اس جہالت کو شکست دینا مشکل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *