کراچی میں ”خوشی“ سے جبری مشقت کرنے والے سیکیورٹی گارڈز

صبح کے 7 بجے کا وقت ہے، ملیر ہالٹ فلائی اوور کے نیچے سیلانی دسترخوان پر مفت ناشتہ کرنے والوں کی ایک قطار لگی ہوئی ہے، جس میں بیس سے تیس افراد کھڑے ہیں۔ اس قطار میں نجی سکیورٹی کمپنیز کے چار گارڈز بھی شامل ہیں۔ چاروں گارڈز کی عمریں چالیس سے پچپن سال کے درمیان ہیں، مختلف سکیورٹی کمپنیز میں کام کرنے والے یہ گارڈز کام بھی مختلف جگہوں پر کرتے ہیں۔ ان میں ایک کا تعلق مظفر گڑھ،

Read more

بے نظیر نشوونما پروگرام اور خواتین میں دوبارہ زچگیوں کا رجحان

ضلع مٹیاری کے گاؤں اللہ بخش بلال کی رہائشی 35 سالہ مریم بی بی چھٹے بچے کی ماں بننے والی ہیں۔ یہ گاؤں کی اسی خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے تحت وقفہ کر رکھا تھا۔ گاؤں اللہ بخش بلال اور آس پاس کی آبادی بارہ سو نفوذ پر مشتمل ہے، لوگوں کا گزر معاش زراعت سے وابستہ ہے مگر نہری پانی کی قلت، کھاد اور بیج مہنگے ہونے کے باعث اکثریت مزدوری کرنے پر مجبور

Read more

بات ایک شیر کی

ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر میں ایک شام شیر سڑک پر نکل آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گیا۔ پہلے سوشل میڈیا پر اس کے مٹر گشت کی وڈیوز چلیں اور پھر ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز شروع ہو گئیں۔ وڈیوز نے رکارڈ توڑ دیے۔ شیر کو روبرو دیکھنے والے پریشان اور ٹی وی پر دیکھنے والے حیران تھے۔ اطراف کی عمارتوں، بالکونیوں، راہ داریوں میں رش لگ گیا۔ کوئی وڈیوز بناتا رہا تو کوئی سیلفیاں۔ ٹی وی چینلز

Read more

پُنر جنم

آج تم سے ملاقات ہو ہی گئی، ایسے لگ رہا ہے جیسے کل ہی کی بات تھی جب ہم بچھڑے ۔ ۔ ۔ مگر ہم کئی یگوں کے بعد مل رہے ہیں۔۔ صدیاں بیت گئیں، ہم روپ بدلتے رہے۔ مجھے تمہاری باتیں یاد ہیں، تم نے ایک بار کہا تھا : ”میں بوند بن کر زمین پر گرتی ہوں، پانی بن کر بہتی دریا سے ہوکر ساگر میں گر جاتی ہوں۔۔ بادل بنتی ہوں ۔۔ پھر برستی ہوں۔ ۔ ۔

Read more

راجہ گدھ جونیئر

راجہ گدھ جونیئر کو بچپن سے ہی چڑیاں مارنے کا شوق تھا، اس نے غلیل سے بے شمار چڑیاں ماریں تھیں۔ جب وہ بڑا ہوا اور شہر میں موبائل کمپنیوں کے بے شمار ٹاورز لگے تو ننھی چڑیائیں ناپید ہونے لگیں۔ جب چڑیائیں شکار کو نہ ملیں تو اس نے شکار کا شوق چھوڑ کر کچھ بڑا کرنے کا سوچا۔ اسے بچپن سے ہی راجاؤں کی کہانیاں پسند تھیں، خاص کر وہ کہانیاں جس میں راجہ کے مرنے پر وزرا

Read more

نورجہاں کی موت پر کاوان کا دکھ

کراچی کے چڑیا گھر میں نورجہان ہتھنی کی موت کی خبر سن کر کمبوڈیا کی وائلڈ لائف سینکچری میں موجود کاوان ہاتھی افسردہ ہو گیا۔ اس نے مدھوبالا ہتھنی سے رابطہ کیا اور نورجہاں کی موت پر بات چیت کی۔ کاوان: مدھوبالا تم کیسی ہو، مجھے تمہاری سہیلی نورجہاں کے موت کا دکھ ہے! مدھوبالا: میں ٹھیک ہوں، مگر میری سہیلی اب نہیں رہیں، مجھے تنہا کر گئی، یہ میرے لئے بہت بڑا صدمہ ہے۔ کاوان:ہاں بالکل بہت بڑا دکھ

Read more

پتھر کی کرامت

پتھروں کی ہماری زندگی میں بڑی اہمیت ہے۔ یہ ہماری پتھروں سے محبت ہے یا پھر ڈر کہ ہم پتھروں کو انگلیوں میں بھی پہنتے ہیں۔ مجھے انگوٹھی پہننے کا کبھی شوق نہیں رہا۔ اس لئے کبھی پتھر پہننے کا خیال تک نہیں آیا۔ حالانکہ میرے معاشی حالات اچھے نہیں رہے۔ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہوں۔ میری ٹیکسی نئی نہیں مگر کھٹارا بھی نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود اکثر خالی رہتی ہے۔ سواریاں کم ملتیں۔ کبھی کبھی تو خالی

Read more

چمپینزی کا چارلس ڈارون پر غصہ

انسٹھ سالہ ماما چیمپینزی اکتوبر دو ہزار سترہ میں مر گئی۔ مرنے سے ایک ہفتہ پہلے اس کی ملاقات اپنے دوست ولندیری پروفیسر جان انٹون رینیئر الیکس ماریا ہوف المعروف جان وان ہوف سے ہوئی۔ پروفیسر جان وان ہوف جب ماما سے ملے اس وقت وہ شدید علیل تھی اور اپنی زندگی کے آخری دن گن رہی تھی۔ وہ سارا دن چپ چاپ رہتی اور اس نے کھانا پینا بھی چھوڑ دیا تھا۔ ماما کا دوست پروفیسر جان اس سے

Read more

کوٹ کا بھوت

سینٹ ہیلینا جزیرے کے لانگ ووڈ ہاؤس میں بھوت کا بسیرہ تھا۔ یہ بات وہاں کے باشندوں میں مشہور تھی۔ بچہ بچہ کہتا تھا کہ یہ بھوت فرانسیسی سمراٹ نپولین بوناپارٹ کا ہے۔ نپولین بوناپارٹ واٹرلو معرکے میں برطانوی فوج سے شکست کھانے کے بعد گرفتار ہو کر یہاں قید رہے اور 1821 میں ایڑیاں رگڑتے ہوئے یہاں مر گئے۔ بھوت کے خوف سے لانگ ووڈ ہاؤس میں کوئی بھی رہائش کے لئے تیار نہیں تھا۔ وقت کی ویرانی اور

Read more

خلا کے اس پار

منو سب سے کمزور مخلوق، جوں ہی وہ دو پیروں پر کھڑا ہوا اس کی دنیا ہی بدل گئی۔ کھڑے ہو کر وہ دور تک دیکھنے کے قابل ہو گیا۔ جس سے وہ دشمنوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ان کے متوقع حملے سے پہلے بچنے کی تدابیر بھی کرنے لگا۔ کھڑے ہو کر وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کا دن مہم جوئی میں گزرتا جبکہ رات کو وہ آسمان میں کھو جاتا۔ رات کا اندھیرا اسے ڈراتا مگر چاند، تارے اور ٹوٹتے تاروں کی پراسراریت دیکھ کر اسے حیرانی سی ہوتی۔ اس کے دن اور راتیں خوف اور حیرانی میں گزرنے لگے۔

Read more

بھائی کی گمشدگی کے چوہتر دن

پولیس نے بھائی کے گمشدگی کی رپورٹ درج کرلی تھی۔ مگر بازیابی نہیں ہو سکی تھی۔ اس دوران ہم نے وزیراعلیٰ سندھ سے لے کر وزیراعظم اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سمیت ریاستی اداروں کو لیٹر کوریئر کیے ۔ ایک ماہ گزرنے کے باوجود کہیں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ انسانی حقوق کی ملکی اور عالمی تنظیموں نے مذمت کی اور بھائی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر اس کا بھی کچھ اثر نہ ہوا۔ این جی او کے

Read more

کمشنر کا کتا اور میرا گمشدہ بھائی

کمشنر صاحب کے قیمتی کتے کی گمشدگی پر شہر بھر میں ہائی الرٹ تھا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے رکشوں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر کتے کی تلاش کے لئے دھمکی آمیز اعلانات کروانے شروع کر دیے تھے۔

”کمشنر صاحب کا کتا قیمتی ہے۔ جس کو بھی ملے وہ پولیس کے حوالے کردے۔ کتے پر ٹریکر لگا ہوا ہے اگر کسے سے کتا برآمد ہوا تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔“

Read more

کورونا وبا اور دو پڑوسی

آج آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں۔ جو میں نے بچپن میں سنا تھا۔ ”قصہ کچھ یوں ہے کہ کسی گاؤں میں مرد خاتون کے ساتھ جا رہا تھا۔ آگے مرد اور پیچھے خاتون چل رہی تھی۔ مرد نے نئے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سر پر خوبصورت پگڑی، چہری پر داڑھی اور مونچھ بھی سنوری ہوئی تھی۔ پیروں میں جوتے پالش کیے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں ایک خوبصورت چھڑی بھی تھی۔ جبکہ مرد کے پیچھے قدم بہ قدم چلنے والی خاتون کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ سر پر دوپٹہ ادھڑا ہوا اور پیر ننگے تھے۔ راستے میں چلتے کسی راہ گیر نے مرد سے کہا کہ ”آپ ننگے جا رہے ہیں۔“ جس پر مرد نے راہ گیر پر ہنستے ہوئے کہا کہ ”آپ اندھے تو نہیں ہیں۔ میں نے صاف اور نئے کپڑے پہنے ہیں۔ سر پر پگڑی ہے۔ دکھ نہیں رہا کیا؟“ جس پر راہ گیر نے جواب دیا۔ ”تمہارے ساتھ جو خاتون جا رہی ہے اسے دیکھو۔ اس کے پھٹے کپڑے دیکھو۔ اس کی حالت دیکھو۔“

Read more

موہنجو دڑو کے کنگ پریسٹ کی اداسی

موئن جو دڑو کے کنگ پریسٹ یا مہا پروہت کی مورتی کو ہم بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں، یہ مورتی وادی سندھ کی پانچ ہزار سال قدیم تہذیب و تمدن کی گواہ ہے۔ کنگ پریسٹ نے موئن جو دڑو، ہڑپہ، مہر گڑھ، ڈھول ویرا اور راکھی گڑھی سمیت وادی سندھ کی تہذیب کا عروج و زوال دیکھا ہے۔ مجھے اکثر کنگ پریسٹ کی نیم خوابیدہ آنکھوں میں خاموشی اور اداسی نظر آئی ہے۔ تنہائی میں سوچا تو یہ خاموشی اور

Read more

امر تو امر ہے

امر کا ہندی زبان میں مطلب ہے جو کبھی فنا نہ ہو یعنی لافانی۔ امر جلیل سندھی زبان کا وہ لکھاری ہے جو برسوں سے نوجوان ہے۔ اس لیے ہی وہ امر ہیں۔ میں امر جلیل کی کتابیں اپنے اسکول کے دنوں سے پڑھتا آ رہا ہوں۔ ان کی ہر کہانی، افسانہ یا تحریر مجھے اپنی لگتی ہے۔ انہیں پڑھ کر ہی مجھے لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ میری امر جلیل سے کبھی رو بہ رو ملاقات نہیں ہوئی۔ ان

Read more

گوتم کی تلاش

گوتم برسوں پہلے مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ وہ نروان کی تلاش میں نکلا اورپھر کھو گیا۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی اس کی تلاش شروع کر دی۔ میں تب سے اس کی تلاش میں ہوں۔ پہلے میں پراتھنائیں کرتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ پراتھنا سے میرا بھائی مل جائے گا۔ لیکن وہ نہ مل سکا۔ پھر بٹوارا ہو گیا ہے۔ جو کبھی ایک ملک تھا۔ اب وہاں دو ملک بن گئے اور درمیان

Read more

شراپ

آج میں ایک گنجان بازار سے گزر رہا تھا۔ اچانک ایک آواز سنائی دی۔ ’سنو۔ ادھر آؤ۔‘ آواز سننے کے باوجود میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور چلتا رہا۔ ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ پھر وہی آواز سنائی دی۔ ’ میں تم سے مخاطب ہوں۔ ادھر آؤ۔ کہاں جا رہے ہو؟‘ میں رک گیا اور اس آواز کی سمت ڈھونڈنے لگا۔ مجھے تلاش کرنے میں کوئی دیر نہ ہوئی۔ دیکھا کہ درخت کی اوٹ

Read more

ایک پرانا دوست

میرا دوست بھگوان آج کل تہہ خانے میں رہتا ہے۔ یہ کسی کو پتہ نہیں کہ وہ خود تہہ خانے میں رہتا ہے یا کسی نے اسے وہاں رہنے پر مجبور کیا ہے۔ آپ نہیں جانتے ہوں گے کہ بھگوان کون ہے۔ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ بھگوان میرا دوست ہے۔ میں جب سوچنے کے قابل ہوا تو بھگوان پیدا ہو چکا تھا۔ اس حساب سے وہ میرا ہم عمر ہے۔ ہم نے لمبا عرصہ ساتھ

Read more

دلہن کا دھوکا اور واپسی کا سفر

سجیت نے ایک سرد صبح کو سویرے دروازے پر دستک دی۔ جا کر دیکھا تو اس نے کہا: ”معاف کیجیے، میں آپ کو اس وقت تکلیف دینے آیا ہوں۔“

میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا : ”خیریت تو ہے ناں۔“
” خیریت ہوتی تو آپ کو کیوں بے وقت جگاتا۔ ایک مسئلہ ہے۔ آپ جلدی باہر آ جائیں؟“

Read more

سمجھ دار بندر

میں بندر کی باتیں سن کر شرمندہ ہوا اور آنکھیں نیچی کر کے پوچھنے لگا۔

”جب بندروں کو کھانا نہیں ملتا، پانی کی قلت ہو جاتی ہے، یا پھر ایک کے پاس کھانے کی چیزیں بہت ساری آ جائیں، جیسے تمہارے پاس بہت سارے کیلے آ جائیں، تو تم کیا کرتے ہوئے، کیا ایسے ہوتا ہے کہ کوئی بھوکا بندر آ کر گڑگڑائے اور یہ کہے کہ تم ایک کیلا یہاں مجھے یا کسی دوسرے بندر لو دے دو اور بندروں کی سورگ یا جنت میں تمہیں ایک سو کیلے ملیں گے؟“

Read more

ہمارا طوطو

میں اور میری بیٹی ایک ماہ قبل جو طوطا خرید کر لائے تھے، وہ آج مر گیا تھا۔ طوطے کے مر جانے کی وجہ سے بیٹی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اور دکھی ہے۔ صبح کو وہ مرے ہوئے طوطے کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی، میں نے جب طوطے کو اٹھانے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس نے جھپٹ کر اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور میرے مانگنے پر بھی نہیں دیا۔

آج صبح جب ہمیں طوطے کا خیال آیا تب میں آفس اور بیٹی اسکول جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے۔ اس وقت ہم نے دھیان دیا تو طوطا ہمیں گھر میں نظر نہیں آیا۔ بیٹی نے اس کی غیر موجودگی کا مجھے بتایا۔ ہم مل کر اسے ڈھونڈنے لگے۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں اسے بلی نہ کھا گئی ہو۔ بیٹی طوطے کو ڈھونڈنے صحن میں چلی گئی اور اسے وہ وہاں دیوار پر پڑا ہوا دکھائی دیا۔ اس نے زور سے آواز : ”پپا طوطو دیوار پر ہے۔“ (وہ طوطے کو طوطو پکارتی تھی)

Read more

ایک خواجہ سرا کے آنسو

”میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔ بچپن میں لڑکوں کے کپڑے عجیب لگتے تھے۔ لڑکوں سے ملنا جلنا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ میں لڑکیوں سے ملنا زیادہ پسند کرتی تھی۔ لڑکیوں کی حرکتیں کرنے پر ابو مارتے تھے۔ ابو نے لڑکوں کے اسکول میں داخل کروایا جہاں لڑکوں کے بیچ میں مجھے ان کمفرٹیبل فیل ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ لڑکے مجھے چھیڑنے لگے۔ اسکول کے لڑکوں کو دیکھ کر چپڑاسی اور دیگر عملہ بھی مجھے چھیڑتا رہا۔ میں اسکول جانے سے انکار کرتی تو ابو پٹائی کرتے۔ نسوانی حرکات پر ٹیچرز بھی ڈانٹتے رہتے۔ کہتے کہ“ تم کیسی ہو ۔ نہ پوری لڑکی اور نہ پوری مرد۔ ”ٹیچرز کی باتیں سن کر دل خون کے آنسو روتا۔“

Read more

میری حسن پرستی اور بیوی کی جھنجھلاہٹ

یہ حسن پرستی شادی سے پہلے تک تو ٹھیک تھی۔ لیکن بیوی کے آنے کے بعد یہ عادت میری بیوی کے لیے درد سر بن گئی۔ وہ میرے ساتھ ہوں یا نہ ہوں، میں جہاں خوبصورت چہرہ دیکھتا وہیں رک جاتا۔ شادی بیاہ میں وہ اکثر اکیلی رہتیں اور میں ان سے دور کسی حسین چہرے کے قریب پایا جاتا۔

اگر ہم شاپنگ کے لئے مارکیٹ یا مال جاتے تو ہوتا ایسا کہ یا میں ان سے پیچھے رہ جاتا یا ان سے آگے نکل جاتا اور وہ مجھے ڈھونڈتی نظر آتیں۔ وجہ وہی کہ میں کسی حسین چہرے کے پیچھے بیوی سے دور ہو جاتا۔ کئی بار تو پٹائی بھی ہوئی اور کبھی بیوی نے بر وقت پہنچ کر جان بخشی کروائی۔

Read more

گدھا اور رئیس کرم خان کا سالا

مجمع سے ایک پگڑی والا شخص مجھے کہنے لگا ”سائیں گدھا تو مر جائے گا۔ اس کا ہرجانہ تو بھرنا پڑے گا۔ یہ گدھا ہمارے گاؤں کے غریب دھوبی کا ہے۔“

” کتنا ہرجانہ ہوگا“ میں نے کہا۔
” پچاس ہزار روپے!“ پگڑی والا کہنے لگا۔
” پچاس ہزار۔ گدھے کے!“ میں چونک گیا۔
” جی سائیں۔ یہ ایرا غیرا گدھا نہیں، نسلی گدھا ہے اور بہت مہنگا بھی۔“ پگڑی والے نے کہا۔
” لیکن گدھا اتنا مہنگا نہیں ہوتا۔“ میں کہنے لگا۔

میری بات کاٹتے ہوئے پگڑی والا کہنے لگا۔ ” پچاس ہزار ہی دینے ہوں گے ۔ کرمی کو گدھوں کی منڈی جانا ہو گا۔ وہ کسی اور شہر میں لگتی ہے۔ اس کا کرایہ، گدھے کی قیمت اور پھر وہاں سے گدھا لانا ہو گا۔ خرچہ ہوتا ہے صاحب۔“

Read more

محبت کا اعتراف

” پھر تم مجھ سے دور کیوں ہو گئے“ سندھو نے کہا۔ ” میں کب تم سے دور ہوا ہوں۔ اموشنلی تمہارے ساتھ ہوں۔ اور رہوں گا۔“ میں نے کہا۔
” پھر تم نے مجھے کیوں کہا کہ میسیج نہ کرنا، بات نہ کرنا۔ ؟“ سندھو گویا ہوئی۔ ” میرے پاس کچھ نہیں جو تمہیں دوں۔ تم نے بھی تو کہا تھا کہ ایک دن چلی جاؤ گی۔ وہ دن جس دن جاؤ گی کوئی بڑا صدمہ یا دکھ تم دو گی تو ابھی چھوٹا سا دکھ دے جاؤ۔“ سندھو نے پھر میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آواز بند کردی۔

Read more

محبت اور عقیدت

سندھو نے مجھے ’شاہ جو رسالو‘ اور گلاب کا پھول تحفے میں دیا تھا۔ تب سے شاہ لطیف کی شاعری میرے شعور، لاشعور اور تحت الشعور میں بس گئی اور گلاب کی خوشبو میرے اعصاب اور خیالوں میں سمائی ہوئی ہے۔

یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریشن بلاک سے پگڈنڈی پر پہاڑی سے نیچے اترتے ہوئے سندھو اچانک درختوں کے جھرمٹ میں رک گئی اور آم کے ننہے پودے کو دیکھنے لگی۔

میں نے کہا ”کیا دیکھ رہی ہو؟“ ” آم کے پودا دیکھ رہی ہوں، یہ بہت چھوٹا ہے، یہاں اگ نہیں پائے گا، اگر اگ بھی گیا تو شاید ہم نہ ہوں۔ اس پیڑ کا پھل کوئی اور کھائے گا۔“

” کیسے، تمہاری فلسفیانہ بات مجھے سمجھ نہیں آئی؟“ میں نے پوچھا۔

Read more

سالا ایک مچھر

” ہم کو سب سے زیادہ نقصان نانا پاٹیکر نے پہنچایا ہے۔ اس کے ڈائیلاگ ’’ایک مچھر سالہ انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے‘‘ نے ہماری واٹ لگا ڈالی۔ لیکن بھلا ہو ہماری نسل کا جس نے مچھروں کی کچھ کھوئی ہوئی عزت بحال کی۔“ مچھر نے کہا۔

”تمہاری بھی کوئی نسل ہے؟“ میرے پوچھنے پر مچھر بولا ”میں ڈینگی ہوں“ ۔
” مچھروں کی اور بھی اقسام ہوتی ہیں کیا؟“ میں نے پوچھا۔
” دنیا میں تین ہزار نوع کے مچھر ہوتے ہیں۔“ مچھر نے بتایا۔
” اتنی مچھروں کی اقسام۔ تم پھینک رہے ہو!“ میں نے ٹوکا۔

Read more

الوداع! رسول بخش درس

کراچی سے براستہ ریل جو بھی حیدرآباد گیا ہے اس نے کبھی نا کبھی گاڑی کی کھڑکی سے جھمپر کو ضرور دیکھا ہوگا۔ یہ ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن ہے جہاں اب شاذ و نادر ہی ٹرینیں رکتی ہیں مگر اس کی خوبصورتی پر رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا۔ کراچی سے آتے ہوئے ریلوے اسٹیشن سے پہلے مشرق کی طرف کینجھر جھیل کا نیلگوں پانی دور سے چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ ریلوے ٹریک سے جھیل تک پھیلے کھجور کے

Read more

دیوتا کا وردان

وہ اماوس کی ایک رات تھی جب میں نے دارو کی خالی بوتل سمندر میں پھینکی تھی اور اپنی محرومیوں پر قسمت کو بھرا بھلا کہنے لگا۔ رات کے سناٹے میں سمندر کی لہریں شورمچا کر میری سوچ پر تانڈو ناچ کر رہی تھیں۔ میری آواز پر جب لہریں حاوی ہونے لگیں تو میں نے تنگ آ کر اپنی پیٹھ سمندر کی طرف کردی۔ میں اپنی بے بسی کے خیالوں میں گم ہی تھا کہ مجھے سمندرمیں طغیانی محسوس ہوئی۔

Read more

کورونا کی نگرانی بذریعہ پولیس

آپ میں سے بہت سوں نے امیتابھ بچن کی فلم شہنشاہ تو ضرور دیکھی ہوگی۔ جس میں امیتابھ بچن دن میں رشوت خور پولیس افسر اور رات میں حلیہ بدل کر مسیحا کی روپ میں نظر آتا ہے۔ جب رات کے مناظر میں وہ سڑکوں پر مسیحا کے روپ میں چلتا اور ظلم کے خلاف لڑتا ہے تو بیک گراؤنڈ میں کشور کمار کی آواز میں گیت بجتا ہے۔

اندھیری راتوں میں سنسان راہوں پر
ہر ظلم مٹانے کو ایک مسیحا نکلتا ہے
جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے شہنشاہ کا کردار کراچی کا ہے اور اسے ادا پولیس کر رہی ہے۔ مجھے اس لئے ایسا لگتا ہے کہ جن سڑکوں پر پولیس کو دن میں چپ چاپ یا سست دیکھتا ہوں وہیں رات ہوتے ہی وہی اہلکار چاق و چوبند اور مستعدی کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

Read more

رنی کوٹ کی شہزادی

رنی کوٹ پر وہ ایک سرد چاندنی رات تھی، جب مجھے نیند نہیں آئی تو میں رہائشی کمروں کے باہر الاؤ کے گرد رکھی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ وقت دیکھا تو دو بجے تھے۔ رک رک کر ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے شال اور سوئٹر سے گزر کر جسم میں کپکپی پیدا کر رہے تھے۔ ہوا کے ایک جھونکے کے ساتھ تیز سرسراہٹ سے میں چونک گیا۔ سردی کا احساس بھول کر سرسراہٹ کی آواز کی سمت دھیان

Read more

دو فقیر، درد ایک

سندھ میں ہیجڑے کو فقیر کہتے ہیں۔ عام طور پر فقیر بھیک مانگنے والے کو کہا جاتا ہے، مگر سندھ میں فقیر کا ایک اور معنیٰ بھی ہے، جو بزرگ کے زمرے میں آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فقیر کی بددعا نہیں لی جاتی، ہمیشہ دعائیں لی جاتی ہیں۔ میں آج آپ سے دو ہیجڑے فقیروں کا ذکر کروں گا۔ ایک دیہات میں اور دوسرا شہر میں رہتا تھا۔ یہ بھی دیگر ہیجڑوں کی طرح مانگ کر، شادی بیاہ

Read more

کاوان کا آخری خط

کاوان کا مجھے ایک خط ملا ہے۔ جس میں اس نے بے شمار شکوے، شکایتیں، دکھ اور تکلیفوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ وہی کاوان ہے جسے ہم دنیا کے تنہا ترین ہاتھی کے طور پر جانتے ہیں۔ اب چونکہ کاوان اسلام آباد کے چڑیا گھر سے کمبوڈیا میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مختص علاقے میں پہنچ چکا ہے۔ جہاں وہ دیگر ہاتھیوں کے ساتھ آزادانہ زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن اس کی سوچ پر بے شمار تکلیف دہ نقش ہیں جو یہ خط پڑھ کر مجھ پر عیاں ہوئے۔

کاوان نے خط میں لکھا ”تم نے مچھر، کتوں اور چڑیا گھر کے دیگر جانوروں پر لکھا، لیکن تم کو میرا کبھی خیال نہیں آیا کہ میں پینتیس سال سے کس طرح جیتا رہا ہوں۔ میں کیا چڑیا گھر میں ہر جانور اسی درد کو جیتا ہے۔ جو درد اور پیڑ میں اور دوسرے پنجرے کے جانور صدیوں سے محسوس کر رہے ہیں وہ تم انسان کبھی محسوس نہیں کر سکتے۔ کیونکہ تم بے حس ہو، تم کو صرف ہمارا تماشا دیکھنا ہے۔ اور ہماری مجبوری سے لطف اٹھانا ہے۔ ایک لمحے کے لئے کسی پنجرے میں بیٹھ کر دیکھ لو لگ پتا جائے گا۔“

Read more

نرک سے واپسی

کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک ہی شکل کے سات لوگ ہوتے ہیں، پر میں صرف ایک شخص کو جانتا ہوں جس کی شکل مجھ سے ملتی ہے۔ میرا ہمشکل امیر خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ کالج کے دنوں میں وہ کار اور میں بس سے سفر کرتا تھا۔ شروع شروع میں کلاس فیلوز کہتے کہ ”کل تم کار میں آئے تھے، آج کیوں گاڑی نہیں لائے۔ ؟“ میں ان کے سوال پر حیران ہوتا اور نظریں جھکا کر

Read more

آخری قسم

ببلو آج بہت دن بعد میرے پاس آیا اورسلام دعا کیے بغیر کہنے لگا کہ ”میں قسم کھاتا ہوں کہ اب کسی سے بھی محبت نہیں کرونگا۔“ ” کیا ہوا، کیوں قسم کھا رہے ہو، پہلے بھی تم قسمیں کھا چکے ہو، یہ کون سی قسم ہے؟“ میرے اتنے سوالوں پر ببلو ایسے مچلا جیسے بن جل مچھلی تڑپتی ہے۔ کہنے لگا ”یار محبت راس نہیں آتی۔ دو دن، چار دن بعد پھر وہی داغ جدائی، بس اب نہیں۔“ ”

Read more

سندھ یونیورسٹی کے وی سی علامہ آئی آئی قاضی نے خودکشی کیوں کی تھی؟

خودکشی بزدلی ہے۔ ۔ ۔ اکثریت ایسا کہتی ہے لیکن وہ کون سے عوامل ہیں جن سے گزرتے ہوئے انسان یہ انتہائی قدم اٹھانے کی طرف بڑھتا ہے۔ خود کو بند گلی میں دیکھتا ہے، جہاں اسے کوئی راستہ، کوئی سہارا، کوئی امید، کسی تنکے تک کی آس نہیں ہوتی اور وہ کوئی راہ نہ پاتے ہوئے خودکشی کرتا ہے۔ ایسی کیفیت جو آگے چل کر خودکشی جیسا قدم اٹھانے پر مجبور کرتی، سب پر آتی ہے، لیکن اکثریت کیفیت سے جلد نکل جاتی ہے۔

اداکارہ نرگس نے ایک انٹرویو میں موسیقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اگر یہ موسیقی نہ ہوتی، لتا، رفیع اور کشور نہ ہوتے تو لوگ اپنے دکھوں اور غموں کی وجہ سے جینا ترک کر دیتے۔ موسیقی نے لوگوں کو حوصلہ دیا ہے۔“

Read more

سگریٹ سے ماسک تک

یہ بات شاید والٹیئر نے کہی ہے کہ ہر دور میں دنیا کے اندر اکثریت جاہلوں کی رہی ہے۔ اس بات سے آپ کو اختلاف کا حق ہے۔ لیکن میں والٹیئر سے متفق ہوں۔ وجہ سیدھی سے ہے۔ اس کورونا وبا کو ہی لے لیجیے، عالمی طور پر جو بتایا جا رہا ہے، ہماری حکومت اور عوام اس پر عمل کرنے کو ہی تیار نہیں۔ سگریٹ نوشی: ٹھہریں ہم بات کورونا سے نہیں سگریٹ پینے کے عوامی مقامات اور عوامی

Read more

بزرگ، لڑکی اور لٹیرا

جون کی ایک گرم دن کی دوپہرمیں مسافر بس سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ گرمی اور لو سے بچنے کے لئے مسافر ہرممکن کوشش کر رہے تھے۔ اچانک ڈرائیور نے بریک لگایا۔ بس ایک زوردار جھٹکے سے رکی۔ گرمی سے پریشان کچھ مسافر ہڑبڑا گئے اور کچھ نے چلاتے ہوئے ڈرائیور کو برا بھلا بھی کہہ ڈالا۔ ڈرائیور نے مسافروں کو جواب دیے بغیر بس کو ریورس کیا اور پیچھے جا کر رکا۔ لوگ کھڑی سے باہرجھانکنے لگے۔ سڑک کے

Read more

کورونا کے دنوں میں خفیہ دارو پارٹی

دارو کی تلاش میں امپیریل وائن ایند اسپرٹس پر پہنچا تو وہاں رش لگا ہوا تھا۔ واشنگٹن ڈی سی میں لاک ڈاؤن کے باوجود اس شاپ پر رش تھا۔ لوگ دارو کی خریداری میں مصروف تھے۔ میں بھی دکان کے شیلفز میں جھانکنے اور کوئی نئی برانڈ دیکھنے لگا۔ کراؤن رائل وسکی کبھی نہیں پی تھی اس لئے وہ ڈھونڈنے لگا۔ جب میں شیلف پر پہنچا تو وہاں سے ایک باریش شخص آخری پانچ بوتل سمیٹ چکا تھا۔ حلیے سے

Read more

جانوروں کی بغاوت

کورونا وائرس وبائی صورت اختیار کرگیا تو حکومت نے پورے ملک میں لاک ڈاؤن لگا دیا۔ ہمارا شہر بھی ملک کے دیگر شہروں کی طرح مکمل طور پر بند کرادیا گیا۔ بازار، مارکیٹس، شاپنگ مال، اسکول، کالج، پارکس وغیرہ سب کے سب بند کردئے گئے۔ لوگوں نے باہرنکلنا چھوڑ دیا۔ گھر بند ہونے کی وجہ سے گلیاں، سڑکیں، روڈ سب سنسنان ہوگئے۔ شہر میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ بچے، بڑے، خواتین، مرد سبھی خوف میں مبتلا تھے۔ یہ

Read more

کراچی میں غیر مسلموں کو امداد دینے سے انکار

بھوک اور دکھ کا کوئی رنگ نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ کسی کو دکھائے جاسکتے ہیں۔ لیکن وبائیں بہت کچھ کر گزرتی ہیں۔ اور لوگ اپنی بھوک اور دکھ دکھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کورونا نے وبائی صورت اختیار کی اورسپر پاورز سمیت پوری دنیا پرخوف اور موت کے بادل چھا گئے۔ ایسے میں پاکستان جیسے غریب ترین ملکوں میں کچھ بھی کھونے کو نہیں۔ کیونکہ ایسے ملکوں میں بھوک اور دکھ برسوں سے نہیں، صدیوں سے اپنے پنجے

Read more

سیلاب کے بعد

سیلاب ایک ماہ تک ہرطرف تباہی مچانے کے بعد اترنے لگا تھا۔ بپھرا ہوا پانی گاؤں کے گھر، کھیت سمیت ہر چیز جو نگل گیا تھا اور اب کسی اژدہے کی طرح اگل رہا تھا۔ تباہ شدہ مکان، مرے ہوئے مویشی اور ان سے اٹھتا طعفن، ہرے بھرے کھیتوں کی جگہ بھوک، بیماری اور مایوسی کی فصلیں۔ جو گاؤں کبھی خوشحال تھا اب وہ تباہ ہوچکا تھا۔ یہاں کے کھیت گیہوں اور دھان اگاتے تھے۔ گھروں میں کڑھائی کا کام

Read more