ہمارے وزیر اعظم جیسا پوری دنیا میں کوئی نہیں


اسی کی دہائی کے بھارت کے تیسرے درجے کے گیند باز راجر بینی اگر عمران خان کو گیند بازی کے گر سکھانے کی پیشکش کرتے تو دنیا کیا کہتی؟ ہمارے منصور اختر اور رضوان الزمان سنیل گواسکر، ویوین رچرڈ اور جاوید میانداد کو بلے بازی کے ٹپس دینے کی بات کرتے تو آپ کو کیسا لگتا؟ ہماری قومی فٹبال ٹیم کے کپتان رونالڈو اور میسی کو فٹ بال میں مہارت تام حاصل کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے تو یقیناً آپ اپنا سر پیٹ کے رہ جاتے۔ کوئی نو آموز پھٹیچر سا ریسلر انڈر ٹیکر، گولڈ برگ اور بگ شو جیسے عظیم ریسلروں کو ریسلنگ کے طریقے سکھانے کی پیشکش کرتا تو آپ پر کیا گزرتی؟

اس سے بھی بڑھ کے کوئی انجینئر کسی ماہر امراض قلب کو دل کی جراحت کے طریقے سکھانے کی پیشکش کرتا تو کیا آپ اس انجینئر کی ذہنی حالت پر شک نہ کرتے؟

اپنے اپنے شعبوں میں لیجنڈری حیثیت کے حامل عظیم لوگوں کو ادنٰی اور تیسرے درجے کے لوگوں کی طرف سے اس قسم کی پیشکشوں کو یقیناً آپ پاگل پن کی آخری حد سے تعبیر کریں گے مگر اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اختتام پر آج بھی ایسی پیشکشیں کرنے والے خام خیال اور خوش فہم لوگ نہ صرف موجود ہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے منصب پر مسلط اور متصرف بھی ہیں۔

یقین نہیں آ رہا تو ہمارے مہان وزیر اعظم کی کل کی تقریر اور پریس کانفرنس دیکھ لیجیے۔ انہوں نے ببانگ دہل کورونا وبا سے نمٹنے کے حوالے پڑوسی ”دشمن“ ملک بھارت کو یہ جارحانہ اور فراخدلانہ پیشکش کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارت کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یاد رہے کہ کورونا کی وبا سے نمٹنے کے حوالے سے بھارت 56 ویں نمبر پر ہے اور خیر سے ہمارا نمبر 148 واں ہے۔ مگر مجال ہے جو ایسی پیشکش کرتے وقت ہمارے وزیر اعظم کی پیشانی عرق آلود ہوئی ہو یا جگ ہنسائی اور رسوائی کا شائبہ بھی ذہن رسا میں آیا ہو؟

ہمارے وزیر اعظم صاحب اس طرح کی پیشکشیں اس سے قبل بھی کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ پچھلے سال ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ملک کے اندر پٹرول مافیا ان کے ہاتھ آ رہا ہے نہ آٹا، چینی چوروں کا ٹولہ ان کی بات مان رہا ہے۔ ہر شعبے میں آئے دن نئے نئے مافیاز اور کارٹل سر اٹھا رہے ہیں جنہوں نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔

کورونا وبا حکومت کی ناقص اور نا معقول پالیسیوں کی وجہ سے گھر گھر موت کا رقص کر رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے ہمیں اس حوالے سے خطرناک ترین ملکوں کی فہرست میں ڈال رکھا ہے۔ دنیا ہم پر مختلف طرح کی پابندیاں لگانے کے بارے میں سوچ رہی ہے اور ہمارے زعم اور خود اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ ہم کورونا سے نمٹنے کے حوالے سے بھارت کو امداد کی پشکش کر رہے ہیں۔ ہماری پنجاب کی وزیر صحت فرما رہی ہیں کہ ڈبلیو ایچ او جو مرضی کہے ہمارے حالات بالکل ٹھیک ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ ڈبلیو ایچ او کی سفارشا ت پر عمل درآمد کرنا ہماری سر دردی نہیں ہے۔ ترجمان خوش بیان ہانک لگا رہے ہیں کہ دنیا نے ہمارے وزیراعظم کے سمارٹ لاک ڈاؤن کی تقلید کر کے کورونا پر قابو پایا ہے۔

لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے بعد پاکستان دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں سے ابھی تک پولیو کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ تشویش کی بات یہ نہیں ہے کہ کورونا کی یلغار تیز ہو رہی ہے تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ کورونا کا علاج وہ لوگ کر رہے ہیں جو کئی سال سے بی آر ٹی بنا رہے ہیں۔ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے بیانات ملاحظہ کیے جائیں تو انسان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ صرف ایک مثال دیکھ لیجیے۔ یہ وہ آپس میں متضاد اور متصادم بیانات ہیں جو وزیراعظم نے ایک ہی نشست میں ارزاں فرمائے ہیں۔

1:۔ کورونا بحران سے نکلنے میں بھارت کی مدد کر سکتے ہیں۔
2:۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کورونا سے اموات اتنی اوپر جائیں گی۔
3:۔ میری ٹیم نے زبردست کام کیا، اس پر فخر ہے۔

اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ جس ملک کا وزیر اعظم اس طرح کی بیان بازی فرمائے گا وہاں کورونا کی صورت حال کیا ہو گی؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کرپٹ ہر گز نہیں ہیں بس کورونا کی یلغار، معیشت کی تباہی اور پٹرول، آٹے اور چینی بحران کی وجہ سے حواس باختگی کے عالم میں ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ مگر ہمیں معلوم ہے کہ وہ احمق دکھنے اور لگنے کے لیے آج کل خاص تیاری کر کے نہیں آتے بلکہ موصوف ہمیشہ سے ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کیا کرتے تھے۔ ان کے ایسے بیانات کا ریکارڈ نکالا جائے تو بے بے شمار ضخیم کتابیں مرتب کی جا سکتی ہیں۔

ہم نئے پاکستان کے ہدایت کاروں، پیشکاروں اور ٹھیکیداروں سے دست بدستہ عرض پرداز ہیں کہ اگر آپ کو نئے نئے تجربوں کا اتنا ہی شوق ہے تو مرغیوں، کٹوں، گدھوں، بھینسوں، بکریوں اور بھیڑوں پر تجربات فرمائیے براہ مہربانی بائیس کروڑ آبادی والے ملک کو اپنے احمقانہ تجربات کی بھینٹ نہ چڑھایے۔

Facebook Comments HS