غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنا ہوں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالی سروے 20۔ 2019 پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر مشیر خزانہ کا کہنا تھا موجودہ حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا، جب ہم نے اقتدار سنبھالا ہمارے اخراجات آمدن سے کافی زیادہ تھے۔ برآمدات میں اضافے کی شرح صفر تھی جبکہ گزشتہ حکومت کے آخری 2 سالوں میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16۔ 17 ارب ڈالر سے گر کر 9 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کورونا کی وبا سے مجموعی ملکی پیداوار کو 3 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، مشیر خزانہ نے بتایا کہ ہمارے دور میں جاری خسارے میں کمی ہوئی ہے، اسٹیٹ بینک سے ہم نے کوئی قرضہ نہیں لیا، بیرونی سرمایہ کاری 137 فیصد بڑھی، جبکہ مہنگائی 9.1 فیصد رہی، اور ہم اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ کورونا وائرس کے باعث 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑ گیا، جزوی لاک ڈاؤن پر زرعی اور غیر زرعی شعبے میں ایک کروڑ 25 لاکھ سے ایک کروڑ 55 لاکھ، مکمل لاک ڈاؤن پر ایک کروڑ 87 لاکھ افراد سے ایک کروڑ 91 لاکھ افراد کی بیروزگاری کا خدشہ ہے۔

کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت ملک میں عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار ہے۔ کورونا کی افتاد مگر چند ماہ قبل آئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کاروبار میں خوفناک مندی کا سلسلہ موجودہ حکومت کی ابتدا سے ہی شروع ہو چکا تھا اور بے تحاشا افراد کا روزگار کورونا سے قبل ہی چھن چکا تھا۔ جب اس حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معاشی شرح نمو پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد کے قریب تھی لیکن محض بیس ماہ میں وہ گرتے گرتے ایک اعشاریہ نو فیصد رہ گئی۔

شرح نمو میں اس قدر تیز رفتار تنزلی کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں اور اس کا لا محالہ نتیجہ روزگار کے مواقع سکڑنے کی صورت ہی نکلنا تھا، اور شرح نمو کے اس تنزل کا اعتراف خود مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی کر چکے ہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل یہاں ایک چیز کی وضاحت دوبارہ ضروری ہے کہ بجٹ میں جو اعداد و شمار ذکر کیے جاتے ہیں وہ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ پر بیسڈ کرتے ہیں جبکہ کورونا کی وبا گزشتہ مالی سال کے نو ماہ کے بعد ہمارے ہاں پہنچی۔

ان ابتدائی نو ماہ میں ناقص حکومتی معاشی پالیسیز کے سبب نہ صرف ریونیو ٹارگٹ اپنی مقررہ حد سے کئی سو ارب کم رہا بلکہ انہی پالیسیوں کی بنا پر ملک میں کاروبار بھی منجمد ہو چکا تھا۔ لہذا اب مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا یہ فرمانا بالکل غلط ہے کہ کورونا وائرس معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہے اور یہی 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں ڈالنے کا واحد سبب ہے۔ حالانکہ اس سے قبل حکومتی ٹیم اصرار کرتی رہی کہ ملکی معاشی شرح نمو تین اعشاریہ تین فیصد ہے لیکن حفیظ پاشا جیسے آزاد ماہرین پہلے ہی دہائیاں دے رہے تھے کہ فراہم کردہ اعداد و شمار درست نہیں اور اصل شرح ایک اعشاریہ نو فیصد ہے اور صورتحال یہی رہی تو آنے والے دنوں میں کئی ملین افراد بیروزگار ہو سکتے ہیں۔

معاشی شرح نمو میں تیز رفتار تنزل کی بڑی وجہ پہلے بھی ہم کئی بار بیان کر چکے ہیں اور اب بجٹ تقریر میں حماد اظہر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے درآمدات میں کمی اس کی وجہ بنی۔ بلا شبہ پچھلے دو حکومتی ادوار میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جتنا بڑھ چکا تھا اس میں کمی لانا نا گزیر تھا لیکن اس میں کمی کے لیے حکومت کو برآمدات میں اضافے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بغیر سوچے سمجھے ہر قسم کی درآمدات میں کمی کر دی۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانے کے نام پر ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والی مشنری کی درآمد بھی مکمل روک دی جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تو کمی آ گئی لیکن اس حکمت عملی سے ترقیاتی منصوبوں پر بھی اثر ہوا اور اس کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال حکومتی معاشی ٹیم کے لیے قابل غور ہونی چاہیے تھی اور نئے بجٹ میں اس کے ازالے کی کوشش لازم تھی۔ اس کے برعکس مگر نئے مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں بھی کم ہے جس کے باعث بیروزگاری میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ نئے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا لیکن جب تک روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوں گے عوام کی مشکلات میں کمی نہیں آ سکتی۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ترقیاتی منصوبے نہایت ضروری ہیں جس کے لیے حکومت کو اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا درد سر بجلی کا شعبہ ہے جس کا گردشی قرض ہر سال خطیر رقم نگل جاتا ہے پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ گزشتہ دنوں آئی پی پیز سے متعلق ایک رپورٹ کا بڑا چرچہ تھا جس کے مطابق بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے گئے جنہوں نے وفاقی حکومت کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اور وہ مہنگی بجلی خریدنے کی پابند ہے۔ اس پر مستزاد ملک میں بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری چکاری ہے جس کی قیمت ایمانداری سے بل دینے والوں اور حکومت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں حکومت بجلی خریدنے کے لیے قومی خزانہ سے تقریباً سوا دو ہزار ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔ اس کے باوجود اس وقت بجلی کا گردشی قرض دو ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ جب تک حکومت اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالتی آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ممکن نہیں۔

غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لیے طویل مدتی ’سخت فیصلوں کی ضرورت ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ غیر مقبول سہی لیکن خوش آئند ہے۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی ملازمین کی تعداد تقریباً تیس لاکھ ہے اور پچیس لاکھ سے زائد ریٹائرڈ ملازمین ہیں جو پنشن وصول کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے نصف تعداد بھی کار مملکت بخوبی انجام دے سکتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتوں سے محروم کرنا لیکن مشکل فیصلہ ہوگا۔

ابھی حکومت نے اسٹیل مل کے 10 ہزار ملازم گولڈن شیک ہینڈ دے کر فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر شور شرابا جاری ہے۔ حالانکہ یہ ملازمین گزشتہ پانچ سال سے گھر بیٹھے ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی سے عیش کر رہے ہیں۔ اب تک قومی خزانہ سے اس مل کے نقصان کو پورا کرنے پر سینکڑوں ارب خرچ کیے جا چکے ہیں اور یہی حال پی آئی اے ’ریلوے اور دیگر سرکاری اداروں کا ہے جو ہر سال قومی خزانہ سے کئی سو ارب ہڑپ کر جاتے ہیں۔

خسارے میں چلنے والے ایسے تمام اداروں کی نجکاری فی الفور ضروری ہے۔ کوئی حکومت لیکن یہ فیصلہ نہیں کر پاتی کیونکہ اپوزیشن وقتی مفاد کی خاطر اسے سیاسی ایشو بنا لیتی ہے جیسا کہ تحریک انصاف نے پچھلے دور حکومت میں کیا۔ ہر حکومت ڈرتی ہے کہ احتجاج اور ہنگامہ آرائی ہوئی تو امن و امان کا مسئلہ بنے گا جو اقتدار کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو آمدن میں اضافے کے لیے ٹیکس کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان معاملات پر دلیرانہ فیصلے اور اقدامات کیے بغیر ملکی معیشت کو پٹری پر نہیں ڈالا جا سکتا اور آج نہیں تو کل یہ کام کرنا ہوں گے۔ قرضوں کے سہارے ملک کو طویل عرصہ تک نہیں چلایا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply