بزرگوں کا احترام کیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ مسجد کی سیڑھیوں سے اترے تو میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے ہمیشہ کی طرح دعائیں دیں۔ ”کہنے لگے، ویک اینڈ ہے، ملتان آئے ہو گے ناں۔ ۔ ۔“ ؟ میں نے کہا کرونا بحران میں تھوڑی دیر کے لئے آیا ہوں، آج ہی واپس چلا جاؤں گا۔ ”

ان کے چہرے پر کرب اور بے بسی کے ملے جلے جذبات تھے۔ میں نے ان کی طبیعت پوچھی تو اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔ تھوڑی دیر ہم کھڑے باتیں کرتے رہے، اس خیال سے کہ ستر سال کے بزرگ ہیں تھک گئے ہوں گے، میں نے اجازت چاہی تو ایسا لگا وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں رک گیا۔ وہ اپنا ماضی یاد کرتے کرتے حال پہ آئے تو مجھے ان کے کرب اور ان کی بے بسی کی وجہ سمجھ آ گئی۔ میرے یہ بزرگ فیملی فرینڈ اپنے بیٹے اوراپنی بہو کے گھر میں ایک ایسے اجنبی کی کہانی بیان کرنے لگے جو وہ خود تھے۔ بہت ساری باتیں کرتے ہوئے جب انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ گھر میں کوئی بات نہیں کرتا تو میں نے ان سے کہا کہ یہ تو اب جدید دور کا فیشن بن چکا، ٹیکنالوجی نے انسانی رشتوں کو بے وقعت کر دیا ہے۔

کہنے لگے، ”یار ہم اتنے ہی غیر ضروری ہیں اب؟“

یہ سوال ایک المیہ بنتا جا رہا ہے۔ بزرگ جو کبھی گھر میں برکت کی علامت سمجھے جاتے تھے اب وہ بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ جب وہ اپنی کہانی سنا رہے تھے تو مجھے اپنے گاؤں کے مرحوم نمبردار چوہدری خوشی محمد کی وہ بے مثال بہو یاد آئی جنہوں نے اپنی بیمار ساس کی پندرہ سال بے لوث خدمت کرکے ایک مثال قائم کی۔

بزرگ تو کچھ دیر تک باتیں کرکے چلے گئے مگر مجھے پروفیسر احمد رفیق اختر کی ایک بات بہت یاد آتی رہی کہ ”ہم اپنے چند برسوں کے آرام کی خاطر اپنی ہمیشہ کی جنت کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں“

اللہ تعالیٰ کے نظام میں ہر شخص نے اس دنیا سے چلے جانا ہے، کسی تیسرے شخص کو اپنی زندگی میں برداشت کرنا ہے تو مشکل کام مگر کچھ دیر کا صبر پھل بہت میٹھا دے گا۔ صبر پر اللہ کے ساتھ دینے کا وعدہ بھی تو اللہ کا اپنا یے پھر ہم کیوں اللہ کی نہیں مانتے؟ بقول مولانا طارق جمیل صاحب کے ”شوہر کے والدین کی خدمت بیوی یعنی بہو پر فرض نہیں“ مگر دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے ہمسایہ کے بہت زیادہ حقوق رکھے ہیں، یہ بزرگ تو ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں، ان کے حقوق ہمسائے والے ہی رکھ لئے جائیں تو میرا خیال ہے بہت سارے مسائل کا حل نکل آئے گا۔

مانا کہ بزرگ ہماری زندگی میں ”مداخلت“ کرتے ہیں مگر وہ بزرگ، بیوی کے شوہر کے والدین بھی ہیں اور والدین کے لئے اللہ کا قرآن پاک میں حکم آیا ہے کہ ان کو اف بھی نہ کہو، ان کے سامنے ایسے کھڑے رہو جیسے غلام کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ اللہ ہم سے خوش ہو جائے مگر اس کے لیے اپنے حصے کی کوشش نہیں کرتے، کوشش کے بغیر تو کچھ نہیں ملتا۔ جو نیکی ہم باہر تلاش کر تے ہیں ہمارے اپنے گھروں میں موجود ہوتی ہے مگر اس کا ادراک نہیں۔

کہتے ہیں ناں کہ دعا منگوائی نہیں جاتی، لی جاتی ہے۔ گھر کے بزرگ دعاؤں کا خزانہ لیے پھرتے ہیں اور ہم انہیں بوجھ سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ چیز اگلی نسل میں ٹرانسفر بھی ہو رہی ہے، یوں ایک مثالی معاشرہ تیزی سے زوال کی طرف جا رہا ہے۔ بزرگوں کو بوجھ نہ سمجھا جائے۔ ان کا نیکی کے لالچ میں ہی سہی، ضرور خیال رکھیں۔ بے ادب بے نصیب کی بجائے با ادب با نصیب بنیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *