ملنا آصف قبال اور ظہیر عباس سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ ذکر ہو چکا، انیق احمد اپنے پروگرام ’آغاز‘ کے لیے مجھے پروڈیوسر رکھنے کو چینل مالکوں تک سے جا ملے تھے۔ لیکن اسی دوران میں، میں انھیں اپنے استعفے کی خبر دے چکا تھا۔ اب میں نے ان کی چاہ کے مطابق ’آغاز‘ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ میں نے اس پروڈیوسر سے بات کی، جو مجھ سے پہلے ’آغاز‘ کے معاملات دیکھتا تھا تا کہ انیق احمد اور پروڈیوسر کے درمیان جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، انھیں سمجھوں۔ میں یہ ذکر بھی کر چکا، انیق احمد اس پروگرام کی ایڈٹنگ خود کرواتے تھے، تو میں نے انیق بھائی سے یہ کہا، پروگرام کی ایڈٹنگ میں کرواؤں گا، آپ فائنل کٹ دیکھ لینا۔ وہ اس پہ رضا مند ہو گئے۔ بعد میں یہ شو ’لائیو‘ ہونے لگا۔ انیق احمد کے تاثرات نہ جانے کیا ہوں، اس شو کو کرتے مجھے ان سے ایک دن بھی پرابلم نہیں ہوئی۔ میں نے شو کے سیٹ میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کروائیں اور لائٹنگ میں بھی تبدیلی لے آیا۔

مایا کے حریف کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا اور وہ انفوٹین منٹ ڈپارٹ کی اکلوتی باس تھی۔ میں ان دنوں پی اے ایف مسرور، ماڑی پور شفٹ ہو گیا تھا، کیوں کہ میری مسز کی پوسٹنگ وہاں ہو گئی تھی۔ گھر سے دفتر کے راستے میں پڑتا، شیر شاہ کا نیا پل منہدم ہو چکا تھا۔ عموماً ٹریفک جام رہتا تھا۔ اس وجہ سے ماڑی پور سے سائٹ ایریا پہنچنے میں گھنٹا ڈیڑھ گھنٹا صرف ہو جاتا تھا۔

ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن جسے میں نے اپنے شوق سے چنا تھا، یہ میرا جنون تھا۔ میں سولہ سولہ گھنٹے اور بعض اوقات چوبیس یا چھتیس گھنٹے دفتر ہی میں گزار دیتا تھا۔ ایسے میں ہمارے ڈیپارٹ منٹ میں جو کمرا مسجد کے لیے مخصوص تھا، میں وہیں سو کر اپنی نیند پوری کر لیتا۔ عموماً چینل کے مالک حاجی عبد الروف مختلف ڈیپارٹ منٹس کا چکر لگایا کرتے تھے۔ کسی نے خبردار کیا کہ انھوں نے کوئی دن تمھیں مسجد میں سوتے دیکھ لیا تو تمھاری ملازمت جائے گی۔ مجھے اس کا ڈر نہیں ہوتا تھا، کیوں کہ اتنے گھنٹے آفس میں رہنے کے بعد میرے پاس وہاں سونے کا جواز موجود تھا۔

ایک دو مہینے ایسا ہوا کہ ’ایچ آر ڈیپارٹ منٹ‘ نے میری کچھ دن کی غیر حاضری شو کی۔ معاملہ یوں تھا کہ سولہ گھنٹے کے بعد مشین سے گزرا اٹینڈس کارڈ خود کار طریقے سے ’آؤٹ‘ شو کر دیتا تھا۔ میں سولہ گھنٹے سے زائد وقت گزار کے گھر جاتا تو میری حاضری سولہ گھنٹے ہی کی شو ہوتی۔ رکارڈ کے مطابق باقی وقت میں غیر حاضر ہوتا۔ سینیئر سائن کر دیتے کہ میں غیر حاضر نہیں تھا۔ بعد میں اس کا توڑ میں نے سیکھ لیا تھا۔

اس ساری مشقت کا حاصل تجربہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنے کام میں، اپنے گھر بار کی ذمہ داریوں، تفریح، مشاغل میں ایک توازن رکھنا چاہیے۔ گھر کا وقت گھر والوں کو دے، کام کا وقت کام کو، اور دوستوں کا وقت دوستوں کی نذر کرے۔ یہی عدم توازن تھا کہ بعد میں جب دفتر کے چھوٹے موٹے مسائل سامنے آتے تو میں چڑ جاتا تھا کہ اتنی محنت بھی کرو، الٹا باتیں بھی سنو!

4 جون 2009 ء، میرا ڈے آف تھا۔ کام کے عادی شخص کی طرح، گھر میں میرا وقت نہیں گزر رہا تھا۔ شام کو مایا کی کال آئی کہ آپ فوراً آفس پہنچیں۔ ٹیلی فون پر میرے صاف انکار کے جواب میں مایا نے لجاجت سے کہا:

”مجھے آپ کی ضرورت ہے“ ۔
چار نا چار دفتر پہنچا تو مایا نے حکمیہ کہا، ”کل سے آپ ورلڈ کپ کا پروگرام کر رہے ہیں“ ۔ میں نے کہا، وہ تو فلاں پروڈیوسر کر رہا ہے! ؟

”کل شو ہے، اور اس نے ایک ذرا تیاری نہیں کی۔ میں نے اس سے یہ پروگرام لے لیا ہے“ ۔

ان دنوں انفوٹین منٹ کے سبھی شو میرے پاس تھے۔ ’آغاز‘ کے ساتھ ساتھ، ’ری بوٹ‘ ، ’عورت کہانی‘ ، ’عام آدمی‘ ، ’اسپورٹس روم‘ بھی مجھی کو کرنا ہوتے تھے۔ دوسرے پروڈیوسرز دفتر میں محض حاضری لگانے آتے تھے۔ ہفتے میں چھہ کے چھہ دن میرے شو چلتے تھے۔

”آئی ایم سوری مایا، میں یہ شو نہیں کروں گا“ ۔
معلوم نہیں مایا کو میرے انکار پہ اتنی حیرانی کیوں ہوئی۔
”میں کہ رہی ہوں“ !
”تو“ ؟

”آپ کے سب شوز میں دوسروں کو دے رہی ہوں، آپ ورلڈ کپ پر لائیو پروگرام کریں گے، بس“ ۔ مایا نے جیسے میری مشکل آسان کر دی۔
”میں نہیں کروں گا“ ۔ میں بہ ضد رہا۔
”آپ کو جو شو دیا جائے گا، آپ وہی کریں گے“ ۔ مایا نے جکم لگایا۔

”جی نہیں! میں چوبیس گھنٹے سے بھی کم نوٹس پہ کوئی پروگرام نہیں لوں گا۔ آپ نے جس سے کہنا ہے، کہ دیں“ ۔ میں ہٹ پہ قائم رہا۔

سوا سال کی رفاقت میں، مایا اتنا تو جان گئی تھی کہ میں جو بات کہ رہا ہوں، اسے حاجی عبد الروف (چینل کا مالک) بھی نہیں بدل سکتا۔ مالک سے تو وہ ڈرے، جسے چاکری پیاری ہو۔ مایا کے چہرے سے بے بسی عیاں تھی۔ سوا سال میں وہ یہ بھی جان گئی تھی، مجھے کیوں کر منایا جا سکتا ہے۔

”ظفر! میں نے چیلنج لیا ہے۔ یہ شو آپ ہی کر سکتے ہیں اور یہ میری عزت بے عزتی کا سوال ہے“ ۔
نرم لہجے نے رام کر ہی لینا تھا۔ مجھے اپنی اس کم زوری کا پتا ہے۔ میں نے تھوڑا جھنجھلا کے کہا:

”مایا، ہفتوں تو یہاں بجٹ نہیں اپروو ہوتا! حاجی صاحب سو سو روپے پر اعتراض کر کے لوٹا دیتے ہیں۔ بجٹ اپروو ہو جائے تو اکاؤنٹنٹ بل ریلیز کرنے میں سو سو رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ پھر سیٹ ڈیپارٹ منٹ کے اپنے نخرے ہیں“ ۔

میری بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ مایا نے مضبوط لہجے میں کہا:

”یہ شو سیلز ڈیپارٹ منٹ کی طرف سے آیا ہے۔ بکا ہوا ہے۔ بجٹ پہلے سے تیار ہے، ایک نظر دیکھ لیں۔ کچھ ایڈ کرنا ہے تو سائن کر کے مجھے دے دیں۔ ابھی اپروو ہو جائے گا۔ سیٹ ڈپارٹ منٹ کو اوپر سے ہدایات ہیں، آپ چاہیں تو انھیں ساری رات روک لیں۔ اکاؤنٹ سے جو رقم چاہیے، ابھی جا کے لے لیں۔ کل ورلڈ کپ کا پہلا میچ ہے اور میچ سے پہلے، یہ شو آن ائر ہونا چاہیے“ ۔

”میز بان؟ مہمان؟ ان سب کو کیسے لائن اپ کروں گا؟ پروگرام کا فارمیٹ“ ؟

”ہمارا (اے آر وائے کا) نیوز اینکر وسیم بادامی اس پروگرام کو ہوسٹ کرے گا۔ آصف اقبال اور ظہیر عباس مہمان ہوں گے۔ آپ کو سیٹ لگوانا ہے، باقی کام دیکھنے ہیں“ ۔

مایا میم صاحب مجھے قائل کر چکی تھیں۔ اس نے بجٹ اتنی جلدی اپروو کروا دیا، جتنی دیر کا کہا تھا۔
”میں یہیں ہوں، آپ کام شروع کریں۔ جیسے اور جب میری مدد کی ضرورت پڑے، آپ میرے روم میں آ جائیں“ ۔

میں ایک اسسٹنٹ کو ساتھ لے کے اکاؤنٹ ڈیپارٹ منٹ، اسٹوڈیو اور سیٹ ڈپارٹ منٹ کا چکر لگا کے نیچے آیا تو دوسرے اسسٹنٹ نے بتایا، مایا آفس سے گھر جا چکی ہیں اور کہ گئیں ہیں، کوئی کام ہو تو انھیں کال کر لوں۔

کچھ عرصہ پہلے سے میں کرکٹ کو فالو کرنا چھوڑ چکا تھا۔ اس کی ایک وجہ ہے، جس کا بیان یہاں لازم نہیں۔ کس ملک کی نیشنل ٹیم میں کون سے پلیئر ہیں۔ اس ٹورنا منٹ کے لیے کون سی ٹیم فیورٹ ہے، مجھے یہ معلوم نہیں تھا۔ 4 جون کی شام مجھے کہا گیا تھا کہ کل سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی کوریج آپ کریں گے، تو ٹیموں کا احوال جاننے سے زیادہ، مجھے سیٹ لگوانے اور دیگر انتظامات کی فکر تھی۔ رات گئے بہت سا کام نبٹایا۔ اگلے روز جلدی آنے کا سوچ کر گھر چلا گیا۔

اگلے روز دپہر ہو گئی۔ شام ساڑھے چھہ بجے پہلا شو تھا اور بے حساب انتظام باقی تھے۔ بیچ میں کسی نے کہا، آصف اقبال آپ سے (پروڈیوسر سے ) ملنا چاہتے ہیں۔ وہ حاجی روف کے کمرے میں بیٹھے تھے، تو مجھے وہاں جانے میں عار آڑے تھا۔ حاجی روف کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ملازمین سے حقارت سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اے آر وائے میں ہر کوئی ان سے بہت ڈرتا تھا۔ کئی بار کسی اینکر کی معمولی شکایت پر پروڈیوسر کو ڈانٹ پڑنے کے قصے زبان زد عام تھے۔ میں نے سوچ رکھا تھا، جس دن حاجی صاحب کی طرف سے بلاوا آیا، اے آر وائے کے مین گیٹ کی راہ لوں گا۔ میں مزدور اور وہ سیٹھ، ہمارا آپس میں مقابلہ ہی کیا تھا۔ اے آر وائی کی راہ داریوں میں آتے جاتے ان پر نظر ضرور پڑتی تھی۔ ایک دو بار سلام بھی کیا لیکن وہ سلام کا جواب نہیں دیتے تھے، تو میں نے وہ رسمی سلام کرنا بھی چھوڑ دیا۔ آصف اقبال کے بلاوے پر میں نے شو ڈائریکٹر شیخ سعید کو بھیج دیا کہ وہ جا کے مل آئے۔

جب آصف اقبال کرکٹ سے رٹائر ہوئے، تب ہم کم سن تھے۔ ان کا کھیل مجھے یاد نہیں، لیکن بڑوں سے ذکر سن سن کے میں ان کا پرستار تو تھا ہی۔ خاص طور پر یہ کہ وہ وکٹوں کے بیچ میں بہت تیز دوڑا کرتے تھے۔ وکٹوں کے درمیان بھاگتے، میرے ذہن میں آصف اقبال ہی رہے ہیں۔ کرکٹ کھیلتے میرے لیے رن آؤٹ ہونا گالی جیسا تھا۔ شاید زندگی کے کھیل میں بھی ایسا ہی ہے۔ میں ٹی 20 ورلڈ کپ 2009 ء کی کوریج کی شارپ سنگل کے لیے دوڑ رہا تھا کہ حاجی روف کے کمرے کی طرف سے شیخ سعید کے ساتھ آصف اقبال آتے دکھائی دیے۔ ہمارے کام سے جڑے افراد یہ جانتے ہیں، ہم جب کام کر رہے ہوتے ہیں تو بس کام ہی پر توجہ ہوتی ہے۔ اس دوران میں ہم خود اسٹار ہوتے ہیں۔ چاہے سامنے کوئی کتنا بڑا اسٹار ہو۔ پروا نہیں ہوتی میں ایک سابق کرکٹر سے بڑی چاہت سے ملا۔ آصف اقبال نے نہایت دھیمے لہجے میں کہا، ہر روز انھیں پروگرام سے پہلے فلاں فلاں اخبار کے اسپورٹس پیج چاہیے ہوں گے اور اسی طرح کی ایک دو باتیں، شاید یہ بھی پوچھا تھا کہ ظہیر (عباس) سے بات ہوئی؟ وہ کب آ رہا ہے؟ میں نے دیکھا کہ جہاں جہاں سے آصف اقبال گزرتے ہیں، ہر کوئی مودب ہو جاتا ہے۔ مجھے خوشی تھی کہ لوگ آج بھی آصف اقبال کو نا صرف جانتے ہیں، بل کہ ماضی کے کرکٹ اسٹار کا احترام بھی کر رہے ہیں۔

”اسپورٹس روم لائیو ٹی 20 اسپیشل (ورلڈ کپ 2009 ء)“ میں، آصف اقبال کے ساتھ دوسرے مبصر معروف ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس تھے۔ میں نے ظہیر عباس کو ان کے آخری دور میں کھیلتے دیکھا ہے۔ بس دھندلا سا یاد ہے۔ پی ٹی وی سے نشر ہونے والا ان کا وہ انٹرویو بھی کچھ کچھ یاد آتا ہے، جس میں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک تھے۔ شاید اسی یا کسی اور انٹرویو میں انھوں نے عمران خان کا نام لیے بہ غیر کچھ ایسا کہا تھا کہ جب ریس کے گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو اسے گولی مار دی جاتی ہے۔ عمران خان ان دنوں ٹخنے کی انجری کا شکار تھے۔ عمران کی بطور کپتان، ٹیم میں وا پسی کے بعد ظہیر عباس کو رٹائرمنٹ لیتے بنی۔

5 جون کا وہ دن ایسے ہی بھاگ دوڑ میں گزر گیا۔ کبھی سیلز ٹیم کے نمایندے، سیٹ پر رکھی میز کے رنگ کو کاغذ پر بنے سیٹ کی میز کے شیڈ سے ملا کے دیکھتے، تو کبھی کسی چیز پر اعتراض کر دیتے۔ سیٹ ڈیزائنر کا کہنا تھا، لیپ ٹاپ کی اسکرین، رنگ اور طرح دکھاتی ہے، انیمل یا کوئی رنگ کرنے سے ویسا شیڈ نہیں آئے گا۔ شو شروع ہونے میں بہت کم وقت تھا۔ مایا کو بس پریشان ہونے یا پریشان کرنے کی آزادی تھی۔ میں نے بیزار آتے کہا، جب سیلز ٹیم نے پروڈکشن ٹیم سے مشاورت کیے بہ غیر پریزینٹیشن تیار کی ہے، تو انھی سے کہیں سب کچھ ویسا کر دکھائیں، جیسا کاغذ پر ابھارا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پروڈکشن ٹیم پروگرام ڈیزائن کرتی اور سیلز ٹیم اسے بیچ کر آتی، لیکن ہمارے یہاں ہر ٹی وی چینل کی گنگا الٹی بہتی ہے۔

مجھے یاد ہے ایم سی آر (ماسٹر کنٹرول روم) سے کاونٹ ڈاؤن شروع ہو چکا تھا اور ہم پینل پر بیٹھے لائٹ مین کو ہدایات دے رہے تھے کہ لائٹ اس اینگل پہ فکس کرو۔ آخری لمحات میں اسے کیمرے کے سامنے سے ہٹ جانے کو کہا گیا۔ چوبیس سے چھبیس گھنٹوں میں داخلی مسائل سے جھوجتے، ہم نے بہت بڑا کار نامہ سر انجام دے دیا تھا۔ شو آن ائر ہوا تو میں مایا کے روم میں آیا کہ دیکھوں، لائیو شو کی ٹرانسمیشن کے کلر (رنگ کیسے آ رہے ہیں۔ وہاں سیلز ٹیم کا نمایندہ سوفے پر پاؤں پسارے انتہائی اطمینان سے بیٹھا تھا۔ بہ جائے اس کے کہ داد دی جاتی، اس نے لائٹ پر کوئی سوال اٹھا دیا، ”اسکرین برائٹ نہیں“ ۔ میں نے روانی میں کہ دیا، ریموٹ اٹھائیں اور مانیٹر کی برائٹنس بڑھا لیں۔ ظاہر ہے میری یہ بات اسے بری لگی ہو گی۔ مایا نے نہ جانے کیا کہا، جس کے جواب میں میں نے کہا، اب اگر سیلز ٹیم ہمیں بتائے گی کہ لائٹنگ کیا ہوتی ہے، تو پھر انھی سے شو کروانا چاہیے تھا۔ خیر! ٹی وی چینلوں میں یہ معمول کی باتیں ہیں۔

اس سیریز کے دیگر حصےمیری ”بد معاشیوں“ کے اندازکرکٹر آصف اقبال سے میرا سوال اور ان کی حیرانی
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 315 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Leave a Reply