غفور صاحب کے گھر کرونا سیزن میں مہمان آیا


غفور صاحب نے فون رکھا اور صدا لگائی ”اجی سنتی ہو، جلدی سے کچھ تیاری کر لو۔ گھنٹے بھر میں بھائی شکور آ رہے ہیں“ ۔

باورچی خانے سے تھال گرنے کی جھنکار سنائی دی اور پھر بیگم غفور اسی تیزی اور طنطنے کے ساتھ دھواں چھوڑتی آگ اگلتی برآمد ہوئیں جیسے شب برات پر شرلی۔ ”کیا کہا؟ کیا آپ نے انہیں مطلع نہیں کیا کہ کرونا پھیلا ہوا ہے اور ہم مکمل طور پر قرنطینہ میں ہیں؟ میل جول سے ہی وائرس پھیلتا ہے۔ شکور بھائی ٹک کر اپنے گھر کیوں نہیں بیٹھتے؟“ ۔

غفور صاحب کچھ ہڑبڑائے۔ شکور بھائی ایک نہایت بذلہ سنج عزیز تھے اور بیگم غفور نے ہمیشہ ان کی آمد پر خوشی ظاہر کی تھی۔ یہ ردعمل ان کی توقعات کے خلاف تھا۔ ”دیکھو بیگم تم جانتی ہی ہو کہ شکور بھائی کتنے ملنسار ہیں۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ سب کا حال چال پوچھتے ہیں۔ خود چاہے تکلیف میں ہی مبتلا ہوں مگر کسی خوشی غمی کا سنیں تو فوراً پہنچتے ہیں۔ بتا رہے تھے کہ چار گلیاں چھوڑ کر ان کے پھوپھا کے بہنوئی کا گھر ہے، ہفتہ دس دن پہلے ان کے جنازے میں شرکت کی تھی اور آج ان کے دسویں میں آئے ہوئے ہیں اور فارغ ہو کر ہماری خیر خیریت پوچھنے آئیں گے“ ۔

چھن کی آواز آئی۔ بیگم غفور کے ہاتھ سے چمچ گر چکا تھا۔ ”جنازہ؟“ بیگم غفور نے خوفزدہ ہو کر کہا۔ ”کیا آپ کو علم نہیں کہ آج کل کسی بھی قسم کے اجتماعات اور خاص طور پر جنازوں میں جانے سے کرونا لگ رہا ہے۔ بندہ چاہے جتنی بھی احتیاط کرے، کوئی نا کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جو دوسروں کو کرونا لگانے پر تلا ہوا ہوتا ہے۔ اپنی جان کی تو پروا کرتا نہیں، دوسروں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔“

”بھائی شکور تو نہایت نفیس الطبع اور محتاط انسان ہیں۔ ہمیشہ ماسک پہن کر جنازوں میں شرکت کرتے ہیں۔“ غفور صاحب اب کچھ کچھ دفاعی انداز اختیار کر رہے تھے۔

”اگر آپ نے ماسک پہنا ہو لیکن کرونا کے مریض نے نا پہنا ہو تو آپ کو کرونا لگنے کا ستر فیصد امکان ہے اور آپ کی ساری احتیاط دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ نے ماسک نا پہنا ہو اور کرونا کے مریض نے پہنا ہو، تو آپ کو مرض لگنے کا صرف پانچ فیصد امکان ہے۔ اور اگر دونوں نے ماسک پہن رکھا ہو تو بیماری کا شکار ہونے کا امکان صرف ڈیڑھ فیصد ہے۔ اب شکور بھائی چاہے جتنے بھی محتاط ہوں، کوئی کم بخت بغیر ماسک والا کرونا زدہ شخص انہیں بیماری لگا گیا ہو تو پھر کیا ہو گا؟“ بیگم غفور صحت کے معاملے میں بلا کی وہمی تھیں اور جب سے کرونا کی وبا پھوٹی تھی، انہوں نے تمام احتیاطیں رٹ رکھی تھیں۔

”اچھا بھئی اب تو وہ آ رہیں ہیں۔ انہیں بتا چکا ہوں کہ ہم گھر پر ہیں۔ کوئی بہانہ بنانے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔ اب تو ان کی میزبانی کرنا ہی ہو گی“ ۔ غفور صاحب نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔

”آپ ہوش میں رہیں تو بچت ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح انہیں دیکھتے ہی چپک نا جائیں۔ گلے ملنے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔ نا ہی ہاتھ ملانا ہے۔ دور دور سے سلام دعا کر لیں۔ اور سنیں، وہ آتے ہیں تو اندر لاؤنج میں مت آنے دیں۔ خدا جانے کس کس چیز کو ہاتھ لگائیں گے اور بعد میں ہماری احتیاط دھری کی دھری رہ جائے گی“ ۔

”دور دور سے کیسے سلام دعا کریں؟ ہم الحمدللہ نہایت سچے پکے مسلمان ہیں، ہندو تو نہیں ہیں جو دور دور سے نمسکار کریں اور گزارا ہو جائے“ ۔ غفور صاحب محجوب سے ہو کر بولے ”وہ گھر کے فرد ہیں، ہمیشہ لاؤنج میں بیٹھتے ہیں۔ ہم انہیں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ڈرائنگ روم میں جائیں۔ یہ تو ہم سے نا ہو گا“ ۔

بیگم غفور نے انہیں خشمگیں نظروں سے گھورا اور بولیں ”ہم سے ہو جائے گا۔ آپ رہنے دیں۔ نمسکار کرنے میں آپ کو الجھن ہو رہی ہے تو جاپانی بن جائیں۔ دور سے ہی سر خم کر کے آداب کریں۔ اس انداز میں آداب کرنا تو رکھ رکھاؤ والے مہذب گھرانوں میں ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔ یا آپ کو اندیشہ ہے کہ اس طرح آپ جاپانی بدھ ہو جائیں گے تو پھر اپنے محبوب مرد مجاہد جنرل ضیا کی طرح ایک ہاتھ دل پر رکھ لیں اور بڑی سی منافقانہ مسکراہٹ سے دور سے ہی تسلیمات پیش کر دیں۔ انشا اللہ کرونا نہیں لگے گا اور اس معرکے میں آپ غازی ٹھہریں گے“ ۔

کچھ دیر بعد دروازے کی گھنٹی بجی۔ غفور صاحب اپنی نشست سے اٹھے ہی تھے کہ باورچی خانے سے بیگم غفور نمودار ہوئیں اور تیر کی طرح دروازے تک پہنچ بھی گئیں۔ ”آئیے آئیے شکور بھائی۔ آپ کا ہی ذکر ہو رہا تھا۔ تشریف لائیں۔ نہیں ادھر لاؤنج میں نہیں، کرونا کی وجہ سے صوفے جراثیم کش محلول سے دھو رکھے ہیں، گیلے پڑے ہیں، ادھر ڈرائنگ روم میں تشریف لائیں۔ اجی سنتے ہو! شکور بھائی آ گئے ہیں۔ آپ بھی ڈرائنگ روم میں آ جائیں“ ۔

غفور صاحب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو شکور بھائی بانہیں پھیلا کر ان کی طرف بڑھے تاکہ حسب عادت گلے لگائیں۔ غفور بھائی نے سہمی ہوئی نظر بیگم غفور پر ڈالی اور دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔ شکور بھائی پہلے تو ٹھٹھکے اور پھر ہنسنے لگے ”اماں تم تو بالکل ہی بزدل نکلے۔ ہم روز نہاتے دھوتے ہیں۔ ہمیں کرونا نہیں لگا ہوا۔ ادھر دسویں پر بھی سو لوگوں سے گلے ملا اور الحمدللہ جس سے بھی گلے ملتا تو وہ یہی کہتا کہ شکور بھائی سب سے گلے ملتے ڈر لگتا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ کرونا نا چمٹ جائے مگر آپ سے ملتے ہوئے تسلی رہتی ہے۔ تمہیں ہم سے ہرگز بھی کوئی خطرہ نہیں“ ۔

بیگم غفور آگے بڑھیں ”شکور بھائی خطرہ انہیں نہیں ہے آپ کو ہے۔ اس لیے میں نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ آپ سے گلے نا ملیں۔ جب سے لاک ڈاؤن ہوا ہے انہوں نے اپنا خیال رکھنا بالکل ہی چھوڑ دیا ہے۔ پہلے روز نہاتے تھے مگر اس مرتبہ تو عید پر بھی نہیں نہائے، کہتے تھے کہ اگر نماز پڑھنے عیدگاہ گئے تو نماز کے بعد سب گلے ملنا پڑے گا اور کرونا لگ جائے گا۔ بلکہ غسل تو ایک طرف، انہوں نے تو ہاتھ منہ دھونا بھی ترک کیا ہے۔ آپ کی آمد کا سن کر بال بنا لیے ہیں ورنہ تو سر جھاڑ منہ پھاڑ بنے پھرتے تھے۔ ایک ایک جوڑا ہفتے ہفتے چلاتے ہیں۔ کہاں ایسے نفاست پسند ہوتے تھے کہ ایک رومال دوسری مرتبہ استعمال نہیں کرتے تھے اور اب یہ حال ہے کہ جیب میں رومال رکھنا ہی ترک کیا ہے۔ ہاتھ کی پشت سے ناک صاف کرتے ہیں۔ میرے منہ میں خاک، آپ کے دشمنوں کو کچھ ہو گیا تو ہمارے سر سے ایک شفیق ہستی کا سایہ اٹھ جائے گا۔ اب بھلا آپ ہی بتائیں کہ بندی آپ کی فکر نا کرے تو کیا کرے؟“

”ناک؟ ہاتھ؟ شکور بھائی کچھ خوفزدہ سے دکھائی دیے۔

غفور صاحب کا حوصلہ بڑھا، اور ساتھ ہی ہاتھ بھی بڑھا ”بھائی شکور، آدمی اب گھر آئے مہمان سے ہاتھ بھی نا ملائے؟ زکام ہے مگر اتنا زیادہ بھی نہیں ہے جتنا یہ بتا رہی ہیں۔ عورتوں کی تو عادت ہوتی ہے رائی کا پہاڑ بنانے کی۔ ہاتھ ملانے میں تو ہرگز کوئی ہرج نہیں“ ۔

سدا کے نفاست پسند شکور صاحب کا رنگ اڑ گیا۔ دروازے کی طرف کھسکتے ہوئے بولے ”بس میاں تمہارا چہرہ دیکھ لیا تو ہماری عید ہو گئی۔ اب وقت زیادہ ہو رہا ہے، تمہاری بھابھی پریشان ہو رہی ہوں گی کہ صبح کے گئے ابھی تک نہیں پلٹے۔ انشا اللہ لاک ڈاؤن ختم ہوتا ہے اور آپ دوبارہ دفتر جانا اور نہانا دھونا شروع کرتے ہیں تو ملاقات ہوتی ہے“ ۔ یہ کہہ کر شکور بھائی سٹک لیے۔

بیگم غفور مسکرائیں اور کہنے لگیں ”سچ ہی کہا ہے سیانوں نے، عورت سگھڑ اور سلیقہ مند ہو تو سارا گھر صحت مند اور خوش باش رہتا ہے۔ اب دیکھنا، جب تک لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوتا، ہمارے گھر کسی رشتے دار نے نہیں آنا۔ شکور بھائی گھنٹے بھر میں تمام عزیز رشتے داروں کو خبردار کر دیں گے“ ۔

غفور صاحب انہیں بٹر بٹر دیکھتے ہوئے سوچنے لگے کہ ”صحت بڑی نعمت ہے، اور اس نعمت کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اللہ جانے اب لاک ڈاؤن کے بعد بھی لوگ ہم سے ہاتھ ملائیں گے یا وائرس سے کراہت کھاتے رہیں گے“ ۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar