سندھو تیرا مان رہے!
(حیدرآباد میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، عرفانہ ملاح اور ان کے ساتھیوں کے نام)
سندھو بہتا جائے
میٹھے میٹھے، مہکے مہکے گیت سناتا جائے
سندھو بہتا جائے
لمبی راہ میں ہر راہی پر اپنا پیار لٹائے
صدیوں سے پیاسی دھرتی پر ہریالی لہرائے
سندھو بہتا جائے
شاہ لطیف کی آنکھوں میں ٹھنڈک بن کر چمکے
سچل کے بولوں میں میٹھا رس بن کر مہکے
ہاری کے سوکھے ہونٹوں پر آس کا دیپ جلائے
کیکر کے پیڑوں کو چھاؤں کا سندیسا پہنچائے
سندھو بہتا جائے
ہمارا سندھو بہتا جائے
سندھو، تیرا مان رہے، تو سدا رہے چونچال
اونچی تیری شان رہے، شاداب رہے تری چال
تیرے کناروں پر اے سندھو، یہ کیسا کہرام
یہ کیسا انیائے ہے سندھو، یہ کیسا انیائے؟
دھن والوں پر ہن برسے، اور ہاری ہیں کنگال
بلوانوں کی مٹھی میں ہے راج کا کاروبار
آگ میں ”کاروکاری“ کی تری داسی جلتی جائے
یہ کیسا انیائے؟
بے کس ہاری فصل اگائے، مالک سب لے جائے
یہ کیسا انیائے ہے سندھو، یہ کیسا انیائے؟
لمبے ہاتھوں والے کھائیں بالائی دن رات
مزدوروں کی جھولی میں ہے سڑتا گلتا بھات
پڑھنے اور پڑھانے والے حق مانگیں اپنا
پولس کا ڈنڈا گھومے اور حاکم شور مچائے
یہ کیسا انیائے؟
سندھو ایسی لہر اٹھا، ترے بچے ہوں خوش حال
دکھیاروں کی آہوں میں تاثیر کی رت آئے
کوئی ایسی لہر کہ دکھ کے سارے ٹوٹیں جال
سندھو، تیرا مان رہے، تو سدا رہے چونچال
اونچی تیری شان رہے، شاداب رہے تری چال



