حالیہ بجٹ اور ناامیدی
ریاست مدینہ میں مدینہ کی ریاست کا کوئی اصول اب تک نظر نہ آ سکا۔ جہاں انصار اور مہاجر کو ایک دوسرے کا بھائی بنا کر نہ صرف معاشی اسباب سے تقویت دی گئی بلکہ معاشرتی طور سے بھی اس بھائی چارے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ موجودہ حکومت سے عوام بے حد مایوس ہو چکی ہے یہ مایوسی نا امیدی میں تب تبدیل ہوئی جب رواں سال کا بجٹ پیش ہوا۔ اس بجٹ سے جہاں عوام کی امیدیں وابستہ تھیں وہیں موجودہ حکومت کی حکمت عملی کا بھی امتحان تھا۔ مگر صد افسوس کہ اس میں کوئی ایسی حکمت عملی نظر نہ آئی جو موجودہ حالت کے پیش نظر عوام میں حوصلہ افزا ثابت ہو سکے۔
حفیظ شیخ کی پوسٹ بجٹ کانفرنس میں جہاں بجٹ کے مثبت نکات واضح کیے گئے جن میں کاشکاروں کے لیے گندم کی خریداری اور زراعت اور چھوٹے کاروباری افراد کو سہولتیں فراہم کرنا ہے وہیں بتایا گیا کہ ملک کی معیشت کو تین ہزار ارب کے نقصان کا تخمینہ ہے۔ جبکہ بیروزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ حماد اظہر نے کہا اگلے سال بے روزگار افراد کے لیے روزگار کے موقع پیدا کیے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس سال جو لوگ بیروزگار ہیں ان کے گھر میں جب چولہا تک جلنے کی نوبت نہ رہے گی تو ان کے افلاس کا ذمہ دار کون ہو گا؟
کتنے لوگ غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے خودکشی کی نوبت تک پہنچ جاتے ہیں اس کا اندازہ ہے آپ کو ؟ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2016 کے دوران خود کشی کے 97فیصد واقعات غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے خاندانوں پیش آئے۔ اس سال پاکستان میں خود کشی کی شرح 100000 آبادی میں سے 4۔ 1 فیصد رہی۔ جبکہ سندھ میں باقی تمام صوبوں کی نسبت خودکشی کے کیسز زیادہ رہے۔
عوام کورونا کی وجہ سے خوف اور تباہ حالی کا شکار ہے۔ کاروبار، نوکری، تعلیم اور معاشرتی سرگرمیاں ختم ہونے کی وجہ سے ڈپریشن سے متاثر ہے وہاں عوام کی خدا کے بعد اگر کسی سے امید ہے تو وہ حکومت ہے۔ مگر حکومت پٹرول میں چند پیسے کم کر کے عوام پہ جو احسان کر رہی ہے کیا نہیں جانتی کہ اس کمی کا کیا فائدہ جب کہ ملک کو پٹرول کی قلت کا بھی سامنا ہے اور سیاحت اور دیگر کار ہائے زندگی ترک ہونے کی صورت میں پٹرول معمول کے مطابق بہت کم استعمال ہو رہا ہے۔ تو پھر کیسی قلت اور ریٹ کم کرنے کا کیا فائدہ۔ وزیر اعظم صاحب سے یہ بھی متوقع ہے کہ ارطغرل غازی کی فین فالونگ دیکھتے ہوئے گھوڑے کی سواری کا مشورہ دے دیں۔
حکومت کے پاس ان سب مشکلات کی وجہ کورونا کا ہونا ہے تو تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس سے بھی مشکل وقت اور وبائی امراض کا سامنا ادوار کو رہا مگر بہتر حکمت عملی سے نہ صرف مشکل حالات کا مقابلہ کیا بلکہ بہتری کی راہیں مستحکم کیں۔ جیسا کہ طاعون یا بلیک ڈیتھ جو کہ تاریخ کی بد ترین وبا کہلائی جاتی ہے چودھویں صدی میں یورپ کو بے حد متاثر کیا۔ مگر حکومت اور عوام نے مل کر بہتر حکمت عملی اپنائی خاص کر زراعت کے شعبے میں مزدوری کی کمی اورمزدور میں سودے بازی کی طاقت بڑھ گئی۔ نقد پر مبنی معاشی نظام قائم کیا گیا۔ لیبر سیونگ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی گئی جس سے معاشی نظام کو بے حد تقویت ملی۔
حالیہ بجٹ نے نہ صرف سرکاری ملازمین کے دل توڑ دیے جو کہ تنخواہیں بڑھنے کے امیدوار تھے بلکہ سندھ حکومت بھی اس بجٹ سے نالاں ہے مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ منی بجٹ کی صورت میں عوام پہ بم گرایا جا رہا ہے۔ جبکہ ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے بجٹ سے 432 ارب روپے کم کر دیے گئے ہیں جس سے ترقی پہ اثر پڑے گا۔ عوام بھی اس بجٹ سے بے حد مایوس ہیں۔ ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف بے روزگاری اور پھر کورونا کا رونا تو ساتھ ہی ہے۔
شہزاد احسن کے مطابق حکومت اگر صنعتوں کو بلا سود قرض فراہم کرے تو اس سے بے روزگاری پہ قابو پایا جا سکتا ہے۔ برآمدات کے طے شدہ معاہدے مکمل ہونے سے محصولات بھی حاصل ہوں گے۔ عابد سلہری کہتے ہیں کہ پاکستان کی دیہی معیشت میں خاصی جان ہے جسے حکومت سہارا دے کر اپنی غذائی ضروریات کا تحفظ کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 46 فی صد آبادی دیہات میں رہتی ہے جو چاول سے لے کر پھل سبزیاں اور دودھ و گوشت کی طلب کو پورا کر لے تو ملک میں بحرانی صورت حال پیدا نہیں ہو گی۔
وبا کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی دنیا کی معیشت کو دھچکا لگا ہے۔ مگر اس کا بروقت حل ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ خاص کر پاکستان جو کہ پہلے ہی انتشار اور بدحالی کا شکار کا ان حالات میں بھی اگر کوئی مثبت پیش رفت نہ کی گئی تو آئندہ سال مزید پستی میں دھکیل دیں گے۔ خاص کر غریب طبقہ کورونا سے مرے نہ مرے غربت سے بے موت مر جائے گا۔ لٰہذا حکومت اور عوام مل کر اور خاص کر اپوزیشن کا بھی حکومت کے ساتھ ایک پیج پہ ہونا ضروری ہے کیونکہ ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں اتفاق میں برکت ہے تو اس کا عملی مظاہرہ بھی کرنا ضروری ہے۔







