عذاب کیا ہوتا ہے؟


جب سے پوری دنیا میں کرونا وائرس کی وبا عام ہوئی ہے اس وقت سے مختلف حلقوں میں یہ سوال زیربحث ہے کہ کیا یہ وائرس عذاب الہی کی ایک شکل ہے یا نہیں؟ اگر کرونا وائرس عذاب الہی کی ایک شکل ہے تو کیا اس امت پر عذاب آ سکتا ہے؟ اگر آ سکتا ہے تو پھر یہ کس قسم کا عذاب ہے؟ یہ اور اس سے متعلقہ بہت سے دیگر سوالات بالعموم بہت سے حلقوں کی طرف سے اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان تمام سوالات کے جواب کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ عذاب کسے کہتے ہیں؟ جب تک عذاب کی معرفت نہیں ہوگی۔ اس وقت تک ان سوالات کا نہ تو درست جواب دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے عذاب کو سمجھنا ضروری ہے۔ عربی زبان کی مشہور لغات میں عذاب کے معنیٰ سزا، تکلیف، وبال جان یا ہر وہ چیز جو طبعیت پر شاق ہو اور اس سے اذیت محسوس ہو کے بتائے گئے ہیں۔ (المنجد)

یعنی سزا، تکلیف یا کسی بھی ناگوار شے کا نام عذاب ہے، اوریہ بھوک، مرض، زلزلوں، ٹڈی دل، قحط، بارشوں کی قلت یا کثرت یا کسی آفت کی شکل میں یا دیگر کئی شکلوں میں نمودار ہو سکتا ہے۔ بنی اسرائیل پر آنے والے جن عذابات کا ذکر کیا گیا ہے اسے قرآن مقدس میں یوں بیان کیا گیا ہے :

ترجمہ : چنانچہ ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیوں، گھن کے کیڑوں، مینڈکوں اور خون کی بلائیں چھوڑیں، جو سب علیحدہ علیحدہ نشانیاں تھیں۔ پھر بھی انہوں نے تکبر کا مظاہرہ کیا، اور وہ بڑے مجرم لوگ تھے۔ (سورۃ الاعراف: 133 )

حدیث مبارکہ میں سفر کو بھی عذاب کی ایک شکل قراردیا گیا ہے۔ نبی ﷺنے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کے کھانے پینے اور سونے سے روک دیتا ہے اس لیے جب ضرورت پوری ہو جائے تو اپنے گھروں کو جلدی لوٹ جانا چاہیے۔ (صحیح بخاری: 1804 ) قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ رب العزت مختلف اقوام پر اپنی ناراضگی کا اظہار مختلف شکلوں میں کرتا رہا ہے۔ تاہم عذاب اجتماعی طور پر پوری قوم پر یا اکثر لوگوں پر مسلط کیا جاتارہا ہے۔ کسی ایک فرد کی تکلیف یا مرض کو عذاب نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے کہ اس کا یقینی علم اللہ رب العزت کو ہے کہ کسی شخص کو مرض میں مبتلا کر دینا اس شخص کے گناہوں کی معافی کا سبب ہے یا اس شخص کے لئے سزاہے۔ قرآن و حدیث اور تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اجتماعی طور پر جب بھی کسی قوم پر کوئی آفت آئی ہے تو اسے عذاب ہی قرار دیا گیا ہے اوراللہ رب العزت کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کے ذریعے اس سے نجات طلب کی گئی ہے۔

اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا اس امت پر عذاب آ سکتا ہے؟ جواباً عرض ہے کہ حدیث پاک میں اللہ رب العزت نے ایسے عذاب کی تو نفی فرمائی ہے کہ جس کی وجہ سے پوری امت ہلاک ہو جائے، یا ساری امت پر وارد ہو جائے۔ (انظر ترمذی : 2175 ) ورنہ عذاب کے آنے کی کہیں بھی نفی نہیں کی گئی ہے۔ اور علماء نے لکھا ہے کہ اس امت پر عذاب آ سکتا ہے بلکہ آتا رہا ہے۔ ارشاد ربانی ہے :

اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ انہیں عذاب دے جب کہ آپ ان میں موجود ہوں، اور نہ اللہ (اس وقت) انہیں عذاب دینے والا ہے جب کہ یہ استغفار کر رہے ہوں۔ (الانفال: 33 )

اب احادیث مبارکہ کی تصریحات ملاحظہ فرمائیں کہ جن میں بتایا گیا ہے کہ اس امت پر کون کون سے عذاب آسکتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایاکہ عنقریب میری امت میں ایسی قوم پیدا ہوگی جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں کو حلال سمجھے گی اور بعض قومیں ایسی ہوں گی جو پہاڑ کے برابر رہتی ہوں گی اور جب شام کو اپنا ریوڑ لے کر واپس ہوں گی اس وقت ان کے پاس فقیر کسی ضرورت کی بنا پر آئے گا تو کہیں گے کہ کل صبح ہمارے پاس آؤ۔ اللہ تعالیٰ انہیں رات ہی کو ہلاک کردے گا اور پہاڑ کو گرا دے گا اور باقی کو بندر اور سور کی شکل میں مسخ کردے گا اور وہ قیامت تک اسی حال میں رہیں گے۔ (صحیح بخاری: 5590 )

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا قیامت کے قریب صورتیں بگڑیں گی اور زمین دھنسے گی اور پتھروں کی بارش ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ : 4059 ) دوسری روایت میں ہے کہ یہ ان لوگوں کی ہوں گی جو تقدیر کی تکذیب کرتے ہیں یا زندیق ہیں۔ (مسند احمد: 5867 ) بعض دیگر روایات میں زلزلوں اور قحط وغیرہ کو بھی عذاب کی ہی ایک شکل قراردیا گیا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ یہ عذاب کیوں آیا کرتے ہیں؟ تو یہ اللہ رب العزت کی طرف سے انسانیت کی بھلائی کے لیے ایک (Wakeup Call) یا تنبیہ ہوتی ہے ہے کہ خلق خدا واپس اس کے در پہ لوٹ آئے۔

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آسمان پر ابر کا کوئی ٹکڑا دیکھتے تو کبھی آپ ﷺسامنے کو جاتے کبھی پیچھے کو کبھی اندر جاتے اور کبھی باہر اور آپ ﷺکے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا پھر جب بارش شروع ہوجاتی تو آپ ﷺکی یہ حالت ختم ہوجاتی۔ (صحیح بخاری: 3206 )

حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ جب آپ ہوا یا بادل دیکھتے تو آپ کے چہرے سے فکر ظاہر ہوتا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! لوگ جب بادل کو دیکھتے ہیں تو اس امید میں خوش ہوتے ہیں کہ شاید اس میں بارش ہو اور میں آپ کو دیکھتی ہوں تو آپ ﷺکے چہرے سے ناگواری کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس بات کی طرف سے اطمینان نہیں ہوتا کہ اس میں عذاب ہو کون سی بات اس میں عذاب ہونے کی طرف سے مطمئن کرتی ہے ایک قوم کو ہوا ہی کے ذریعہ عذاب دیا گیا ایک جماعت نے عذاب دیکھ لیا اور کہا کہ یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسائے گا۔ (صحیح بخاری: 4829 )

یعنی رسول کریم ﷺنے اپنے اسوہ حسنہ کے ذریعے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ اس طرح کے مواقع پر اللہ رب العزت کی بارگاہ کی طرف رجوع کیا جائے۔ حدیث پاک میں ہے جب آندھی چلتی تو نبی ﷺ ان الفاظ کے ساتھ دعا فرماتے :اے اللہ میں تجھ سے اس ہوا کی بھلائی مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی اور جو کچھ اس میں بھیجا گیا ہے اس کی بھی بہتری مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر اور جو شر اس کے ذریعہ بھیجا گیا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ (صحیح مسلم: 2040 ) جب کفار قریش پر قحط کا عذاب آیا اور ابو سفیان نے دعا کی عرض کی تو آپ کی دعا کی برکت سے ان کفار سے عذاب ٹل گیا۔ (صحیح بخاری: 4774 )

اس طرح کے مواقع پر ہمارا طرز عمل بھی یہی ہونا چاہیے کہ جب اس طرح کی کوئی آزمائش یا مصیبت آئے یا کرونا وائرس کی صورت میں کوئی وبا آئے تو ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جھک جائیں اور بنی اسرائیل کی طرح غرور و تکبر یا غفلت میں مبتلا نہ ہوں۔ یہی ہماری تحریر کا مقصود ہے۔ اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ نبی الامین ﷺ

Facebook Comments HS

One thought on “عذاب کیا ہوتا ہے؟

  • 16/06/2020 at 1:08 شام
    Permalink

    💚💛superb

Comments are closed.