انڈین ہائی کمیشن کے دو اہلکار اسلام آباد میں ’لاپتہ‘
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع انڈین ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کے دو ساتھی پیر کی صبح آٹھ بجے سے لاپتہ ہیں۔
بی بی سی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے اپنے دو ساتھیوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن اس بارے میں مزید کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں۔
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی اور پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں دلی میں پاکستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کو طلب کر کے اپنے اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی ہے۔
انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے اس بارے میں ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ادھر پاکستان میں بھی باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جاسوسی کا الزام: پاکستانی سفارتی عملے کے اراکین کو انڈیا چھوڑنے کا حکم
پاکستان کا بھی انڈین سفارتی اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم
انڈین سفارتخانے کے آٹھ اہلکار و ملازم جاسوسی میں ملوث
https://twitter.com/ANI/status/1272484034002608129
خیال رہے کہ انڈین ذرائع ابلاغ میں پیر کی صبح سے اسلام آباد میں انڈین سفارتخانے کے دو اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی خبریں شائع اور نشر ہوئی تھیں۔
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق اسی تناظر میں نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور کو پیر کو وزارتِ خارجہ طلب بھی کیا گیا۔
ادھر اسلام آباد پولیس کے ذرائع کے مطابق انڈیا کے ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو وفاقی دارالحکومت میں مبینہ طور پر گاڑی سے ایک شخص کو کچلنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ مبینہ حادثے کے بعد انڈین ہائی کمیشن کے دونوں اہلکاروں نے جائے حادثہ سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انھیں موقع پر موجود شہریوں نے پکڑ لیا۔
پاکستان کے مقامی میڈیا پر بھی اس مبینہ حادثے کی خبریں نشر کی جا رہی ہیں۔
ایسے کسی بھی افراد کی گرفتاری کے بارے میں اسلام آباد پولیس کی جناب سے بھی کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
انڈیا نے چند ہفتے قبل ہی پاکستانی سفارتخانے کے دو اہلکاروں پر جاسوسی کا الزام عائد کرنے کے بعد انھیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
اس اقدام پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ سفارتی عملے کے دو اراکین کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر 31 مئی کو حراست میں لیا گیا تھا اور نئی دلی میں پاکستانی سفارتخانے کی مداخلت کے بعد انھیں رہا کیا گیا۔
پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے یہ اقدام میڈیا کے ذریعے چلائی گئی سوچی سمجھے مہم کے بعد کیا گیا ہے جو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا حصہ ہے۔


