کیا ہم اپنے کیے پر شرمندہ ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے رب کو ناراض کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی۔ چھوڑیں مغرب کو، امریکہ کو! آئیں اپنی بات کرتے ہیں۔ ہم میں کون سی خرابی ہے جو موجود نہیں۔ سچ پوچھیں تو ہم جو کرتے ہیں، ہمارے جو اعمال ہیں ان کے لئے خرابی، کوتاہی جیسے الفاظ بھی معمولی پڑجاتے ہیں۔ ہم تو سر عام و ہ وہ گناہ کرتے ہیں اور اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے جس کی بنا پر ایک کے بعد ایک قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور انہیں ایک ایک کر کے تباہ و برباد کر دیا گیا۔

یہاں تو ناپ تول میں کمی کرنے پر ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تھا اور ہم ناپ تول تو کجاجعلی دوائیاں، کیمیکل سے تیار کی ہوئی شے کو دددھ کا نام دے کر بیچتے ہیں، پیسے کے لئے غیر ضروری آپریشن بھی کر ڈالتے ہیں، یہاں تو مرچ جعلی، آٹاملاوٹ شدہ، دالیں ناقص، کھانے کا تیل انتڑیوں کو گلا کر بنایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ گوشت گدھے، گھوڑے کا بیچا جاتا ہے، مردہ مرغیوں تک کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ بجلی، گیس ہم چوری کرتے ہیں، رشوت یہاں عام ہے، سفارش کا یہاں دور دورہ ہے۔

سود ہم کھاتے ہیں بلکہ ہمارا پورا معاشی نظام ہی سودی ہے، شراب یہاں عام ہے، زنا کو ہم رواج دے رہے ہیں۔ فحاشی و عریانیت کو خوب پھیلایا جا رہا ہے، اللہ کے احکامات کی یہاں کھلے عام خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں بلکہ کئی معاملات میں تو ہمارا وہ حال ہے جو سرکشی کے زمرے میں آتا ہے۔ کون سی معاشرتی اور اخلاقی خرابی ہے جو ہم میں موجود نہیں ہے شرم و حیا کو تار تار کیا جا رہا ہے، کون سی ایسی خرابی ہے جو ہم میں موجود نہیں؟

جس ملک میں جب ہماری یہ حالت ہو گی تو ہمارا رب ہم سے ناراض کیوں نہ ہوگا؟ کورونا وائرس کیوں ہم پر حملہ نہ کرے گا؟ مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی ﷺ کا بند ہونا، مسجدوں میں تالے پڑنا، جمعہ کی نماز کے لیے چاہتے ہوئے بھی نہ جا پانا، کیا یہ سب میرے رب کی ناراضی کو ظاہر نہیں کرتا؟ اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹے سے کورانا وائرس سے دنیا کو بدل دیا۔ یہ وائرس میرے رب کی مرضی سے آیا اور اس کی مرضی سے ہی اس سے ہماری جان چھوٹے گی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کیے پر شرمندہ ہیں؟ گناہوں کی معافی کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہم اس سرکشی اور ان گناہوں، خرابیوں سے جان چھڑانے کے لیے تیار ہیں جو رب العالمین کی ناراضی کا باعث بنتی ہیں۔

ہمیں اپنی انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا جس کے لیے یہ بہترین موقع ہے۔ کس نے کتناجینا ہے اور کسے کب موت آ پکڑے گی، کون کورونا وائرس کا شکار ہو کر اس دنیا سے جائے گا اور کسے کسی دوسرے بہانے سے اس فانی دنیا سے رخصت ہونا ہے، یہ سب میرے رب کے علم میں ہے۔ اٹل حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کو مرنا ہے۔ کورونا وائرس کی آزمائش یا عذاب نے اگر ہمیں جگا دیا اور اپنے رب کے قریب کر دیا تو ہم کامیاب ہوگئے۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو بدل دیا تو دعائیں ضرور قبول ہوں گی ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply