سشانت سنگھ، تم کتنے بزدل نکلے
سشانت سنگھ، تم نے تو بزدل ہونے کی انتہا ہی کردی۔ خود کشی ہی کر لی۔ بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے کیا؟ تم نے سرفراز بن کر تو شاید دھوکا نہیں دیا تھا، مگر سشانت بن کر تو بہت ہی دھوکے باز نکلے ہو تم۔ اب دیکھو ناں اپنی آخری فلم ”چھچھورے“ میں، تم نے پوری دنیا کو یہ سمجھایا کہ زندگی میں چاہے جو کچھ بھی ہو جائے، کبھی بھی خود کشی کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ مگر حقیقت میں تم نے خود کشی کر کے خود کو اور سب لوگوں کو کتنا بڑا دھوکا دیا ہے۔
مان لیا، تمھاری زندگی میں ضرور مسائل ہوں گے۔ سب کی ہی زندگی میں ہوتے ہیں۔ مگر ان کا سامنا کرنا ہوتا ناں، ایسے تھوڑی ہوتا کہ بندہ آنکھیں بند کر ڈرپوک بن جائے اور اپنی اتنی خوب صورت زندگی کو ہی اتنی کم عمری میں ختم کر لے۔ دیکھو، تم نے مہندر سنگھ دھونی کی زندگی پر بننے والی فلم میں بھی تو ہم سب کو یہی پیغام دیا کہ زندگی میں آنے والی سب مشکلات اور پریشانیوں کا بہادری سے سامنا کرتے ہوئے کبھی بھی ہار نہیں ماننا چاہیے اور اپنا ایک اونچا مقام بنانا چاہیے۔
اور پھر اپنی فلم ”کیدار ناتھ“ میں بھی جب تم سب کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان سے جاتے ہو تو تمہارے اس بہادرانہ اقدام کی تعریف کرنے کو من کرتا ہے۔ مگر اپنی حقیقی زندگی میں تم اس طرح سے ہار مان لو گے اس کا تو بالکل بھی یقین نہیں تھا۔ اور ایسا دوغلا پن دکھاؤ گے اس کی بھی بالکل امید نہیں تھی۔ اب جو اپنے پچاس خواب تم نے پچھلے سال اپنے ہاتھ سے کاغذ پر لکھے تھے جن کو تم نے پورا کرنا تھا، کیا ہو گا ان سب خوابوں کا؟
تمھاری وہ آخری تصویر جس میں تم پھندا لگا کر اپنی جان لینے کے بعد لیٹے ہوئے ہو، میری آنکھوں میں بس گئی ہے۔ اور دل میں پیوست ہو گئی ہے۔ جس کو دیکھ کر میں سوچ رہا ہوں کہ کاش اس وقت میں تمھارے پاس ہوتا اور تمہیں گلے سے لگا کر تمھیں وہ تمھارے پچاس خوابوں والا کاغذ تھماتا کہ سشانت یہ سب ابھی پورے کرنے ہیں۔ اس لیے پلیز رک جاؤ، کاش اپنی کچھ سانسیں تمھیں دے کر تمہیں میں مرنے سے بچا سکتا، چاہے اس کے لیے میرے ایمان پر فتوے ہی کیوں نہ لگ جاتے، جیسے تمھاری ذات پر فتوے لگے ہیں ناں کہ چونکہ تم تو کافر تھے اس لیے تمھارے لیے دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر تم کافر نہ ہوتے تو شاید تمہیں ہدایت نصیب ہو جاتی اور تم اس گناہ سے بچ جاتے جو اب تم سے سرزد ہوگیا ہے۔ اور آگے بھی تمھارے لیے تباہی ہی ہے۔
اس لیے سشانت تمہیں یہ بالکل بھی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تم بس جیتے، چاہے اپنی فلموں کی طرح تھوڑی ایکٹنگ ہی کرلیتے، خود چاہے تمہیں روز اپنے اس بے حس سماج کے لوگوں کے منافقانہ رویوں کی وجہ سے شدید کرب اور تکلیف سے گزرنا پڑتا اور تھوڑا تھوڑا کر کے مرنا پڑتا، مگر انہی لوگوں کے سامنے جب جاتے تو تم کہتے کہ تم بالکل ٹھیک ہو، بہت خوش ہو۔ تمھارے ساتھ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ چاہے تم اس زندگی سے تنگ بھی تھے، مگر پھر بھی یہ زندگی تو تھی ناں، پر، یار تم نے تو ایک جھٹکے میں قصہ ہی ختم کر ڈالا۔ ایسا کر کے ناں تم نے مجھ سمیت تمام لوگوں کی جھوٹی انا کو ٹھیس پہنچا دی ہے اس لیے اب ہم تمہیں کمزور اور بزدل کہتے رہیں گے۔ ہاں اگر تم ہماری طرح مر مر کے زندگی جیتے تو ہم تمہیں ضرور بہادری کے خطاب سے نوازتے، اور اس پر داد بھی دیتے۔ مگر تم تو یار، قسم سے بہت بزدل نکلے۔


