عمران خان پر مرنے والی لڑکیوں کے قصے اور ظہیر عباس کی جنت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جون 2009 ء ہی میں اے آر وائے ون ورلڈ کا نام، اے آر وائے نیوز کر دیا گیا، جب ہم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2009 ء کی کوریج میں مصروف تھے۔ عبد القادر پی سی بی میں چیف سلیکٹر کے عہدے پر اور یونس خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ یاد نہیں رہا ٹورنامنٹ کا وہ کون سا میچ تھا، جس میں پاکستان کو شکست ہوئی تھی، اور یونس خان کے ٹی 20 کھلائے جانے پر اعتراضات بڑھ گئے تھے۔ نیز عبد القادر کی ٹیم سلیکشن پر تنقید ہوئی تھی۔ اس وقت ہم پری میچ کمنٹری کے لیے اسٹوڈیو میں داخل ہوئے ہی تھے کہ عبد القادر کے استعفے کی خبر آ گئی۔ آصف اقبال نے مجھے ہدایت دی کہ پروگرام میں جاوید کا بیپر لو۔ آن لائن جانے سے پہلے کی افراتفری تھی۔ میاں داد پی سی بی کے ڈائریکٹر یا کچھ ایسے عہدے پر تھے۔ بعد میں اس عہدے کا ذکر میرے سننے میں نہیں آیا۔

میں نے جاوید میاں داد سے بات کی۔ آصف اقبال کا پیغام پہنچایا کہ وہ آپ کو پروگرام میں لائیو لینا چاہ رہے ہیں۔ آصف اقبال کا نام سن کے میاں داد نے اتنی مہر بانی کی کہ جھجکتے ہوئے انکار کر دیا۔ وہ میڈیا سے بات نہیں کر سکتے، کیوں کہ بورڈ کی طرف سے پا بندی ہے۔ جاوید ہولڈ پہ تھے، میں نے پش بٹن دبا کے اسٹوڈیو میں بیٹھے آصف اقبال سے کہا، میاں داد یہ جواز پیش کر رہے ہیں۔ آصف نے کہا، میری بات کرواؤ۔ کال سوئچ اوور کر دی گئی، اب جاوید میاں داد کی آواز اسٹوڈیو میں گونج رہی تھی:

”جاوید“ ! آصف اقبال نے نرم (یا سرد) لہجے میں مخاطب کیا۔

”جی آصف بھائی! جی آصف بھائی“ ! میاں داد کی آواز سے گھبراہٹ مترشح تھی۔ جیسے کسی چھوٹے کو اپنے بزرگ کے سامنے انکار کرنے سے پہلے ہو سکتی ہے۔

”یار تم اتنی بات کر لو، جس پر بورڈ کو اعتراض نہ ہو“ ۔
”نہیں آصف بھائی، ہمیں بالکل بھی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے“ ۔

مزید دو چار جملوں کا تبادلہ ہوا۔ آصف اقبال نے قطعی اصرار نہیں کیا۔ اس سے ان کی اصول پسندی واضح تھی۔ جاوید میاں داد کا آصف اقبال سے ایسے دب کے بات کرنا اور آصف اقبال کا اسی مخصوص نرمی سے کلام کرنا، میرے لیے حیران کن تھا۔ وہ لمحہ مجھے ایسی تمام فلموں کی یاد دلا گیا، جن میں مافیا ڈان آرام دہ حالت میں بیٹھا، دھیمے لہجے میں بات کرتا ہے، حال آں کہ وہ بہت سفاک شخص ہے۔ لیکن یہ کوئی فلمی کردار نہیں، جیتا جاگتا آصف اقبال ہے، جسے میں جان رہا تھا۔ سفاکی کی حد تک شایستہ، دھیما، انتہائی مہر بان۔

شارجہ میں کرکٹ پہنچانے کا اعزاز جہاں عبد الرحمان بخاطر کے سر ہے، وہیں ان کے ساتھ آصف اقبال، عبد الرزاق یعقوب اور داود ابراہیم کا نام لیا جاتا ہے۔ ایک افواہ یہ ہے کہ سٹے کے معاملات بمبئی (حالیہ ممبئی کے داود ابراہیم اور حاجی عبد الرزاق یعقوب کے ہاتھ میں تھے۔ مجھے تجسس تو تھا، ایک دن سوال بھی کر دیا۔ انھوں نے جو بتایا، وہ مجھے یاد نہیں۔ ہر بات یاد رکھنا ضروری بھی نہیں ہوتی۔ میری یہ جرات کبھی نہ ہوئی کہ پوچھتا، شارجہ میں کرکٹ پہ سٹا لگتا تھا تو کیا سب میچ فکس ہوتے تھے؟ یہ ہمیں معلوم تھا کہ آصف اقبال ڈیفینس ہاؤسنگ سوسائٹی کی اس کوٹھی میں ٹھیرے ہیں، جس کے بارے میں شہر بھر کہتا ہے، یہ چھوٹے شکیل کا بنگلا ہے۔ لیکن اس بات کا بھلا اس ساری بات سے کیا تعلق! ؟

کیری پیکر کے ذکر پر آصف اقبال نے فخریہ بتایا کہ ان سب (کیری پیکر میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں ) کو میں لے کر گیا تھا۔ ان کے معاہدے میں نے کروائے تھے۔ ایسی ہی کسی راز کی باتوں میں میں نے آصف اقبال کو اپنا وہ راز بتایا کہ میں نے کرکٹ کو فالو کرنا کیوں چھوڑا۔ میرا اعتراف سن کے وہ سر جھکائے اپنے دھیان میں بیٹھے رہے۔ اتنا گہرا شخص میں نے زندگی بھر نہیں دیکھا۔

کیری پیکر اور شارجہ کا ذکر ساتھ ساتھ اس لیے بھی ہو گیا کہ مجھے یہ بتانا تھا، ’اے آر وائے‘ ٹی چینل کا قیام کیسے عمل میں آیا۔ کیری پیکر نے اپنا اسپورٹس چینل بھی متعارف کروایا تھا۔ آصف اقبال کو وہ تجربہ یاد تھا۔ شارجہ کرکٹ میلہ جب متنازع ہونے لگا تو ان چار نے اپنا اسپورٹس چینل لانے کا منصوبہ بنایا۔ ٹی وی چینل کا لائسینس حاصل کر لیا گیا، جو شارجہ کرکٹ گراونڈ سے براہ راست نشریات پیش کرتا۔ اس دوران میں آئی سی سی کے قوانین سخت سے سخت ہوتے چلے گئے، غیر علانیہ طور پہ شارجہ میں کرکٹ میلہ منعقد کرنے پر پا بندی لگا دی گئی۔ مبینہ طور پہ آئی سی سی نے شارجہ میں میچ فکسنگ کے نا قابل تردید شواہد دیے تھے۔ مبینہ طور پہ فکسنگ کے اس کھیل میں ملکوں کے کرکٹ بورڈ بھی ملوث تھے۔ اس اسپورٹس چینل کا منصوبہ تو کہیں بیچ میں رہ گیا، لیکن ناظرین ’اے آر وائے ڈیجیٹل‘ کے نام سے ایک نئے پاکستانی ٹی وی چینل سے متعارف ہوئے۔ اس کا اولین دفتر ایک بنگلے میں قائم ہوا۔ ’اے آر وائے ون ورلڈ‘ ، جو بعد ازاں ’اے آر وائے نیوز‘ ہوا، ’اے آر وائے ڈجیٹل‘ اس سے اگلا قدم تھا۔ ایسے ایک ٹی وی چینل کی بنیاد رکھی گئی، جس نے آگے چل کے ’کرپٹ سیاست دانوں کو بے نقاب کرنے کا فریضہ‘ سر انجام دینا تھا۔ ہائے رے بھگوان تیرے کھیل نیارے۔

ظہیر عباس اس پروگرام کے لیے اپنی کار میں، اپنے ڈرائیور کے ساتھ آتے تھے۔ حالاں کہ اس شو کے مہمانوں کو لانے لے جانے کے لیے مجھے دو کاریں مہیا کی گئی تھیں۔ شو کرنے کے بعد اکثر وہ ’اے آر وائے‘ کے آفس سے چلے جایا کرتے۔ بہت کم ہوا کہ وہ ٹھیرے ہوں۔

ہمارے لائیو شو کے بیچ میں وقفہ ہوتا تو وقت گزاری کے لیے غیر رسمی طور پر ادھر ادھر کی بات ہوتی۔ دو نام ور ہستیوں کی موجودی کا فائدہ اٹھاتے، میں ان کے دور کے واقعات جاننے کا مشتاق رہتا۔ ایک روز ظہیر عباس گئے دنوں کو یاد کرنے لگے۔ فرمایا:

”عمران خان آٹھ سال میرا روم میٹ رہا ہے“ ۔

میں نا سمجھ یہ سمجھا کہ دونوں ایک ساتھ پڑھتے رہے ہیں، تو ہاسٹل کے کمرے کی بات ہو رہی ہے۔ ظہیر عباس نے واضح کیا کہ جب قومی کرکٹ ٹیم غیر ملکی دورے پر جاتی تو عمران اور مجھے ایک ہی کمرے میں ٹھیرنا ہوتا تھا۔ یوں آٹھ سال تک ہم روم میٹ رہے۔ (شاید پی سی بی نے یہ ترتیب بنائی تھی کہ کون کون کس کس کا روم میٹ ہو گا) ۔

انھوں نے بڑی صاف گوئی سے عمران خان کی کرزمیٹک پرسنالٹی کا اعتراف کیا۔ کہنے لگے لڑکیاں تو باقی کرکٹرز پر بھی فدا تھیں، لیکن جس طرح ملکی، غیر ملکی دورے میں گوریاں، سانولیاں، عمران خان پر قربان ہو ہو جاتی تھیں، وہ باقیوں کا مقدر نہ تھا۔ ایسی ایسی حسین، ایسی ایسی نام ور خواتین کہ عمران خان سے حسد محسوس ہوتا تھا۔ روم میٹ ہونے کی حیثیت سے وہ ایسے کئی لمحوں کے چشم دید گواہ رہے ہیں۔ بقول ظہیر عباس، عمران ان خواتین میں ہر ایک سے نہیں ملنا چاہتا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ آ کے کمرے پر قبضہ جما لیتی تھیں۔ جب کہ عمران ان سے چھپتا پھرتا تھا۔ عمران خان کی ایک ایسے ہی پرستار عمران کی غیر موجودی میں کمرے میں آ کے بیٹھ گئی۔ شاید عمران، ظہیر سے اس لڑکی کو ٹالنے کا کہ گئے تھے۔ لیکن لڑکی کو ہر قیمت پر عمران سے ملنا تھا۔ ۔ ۔ ہر قیمت پر۔

ظہیر عباس کے بقول عمران کمرے میں نہیں تھا، تو وہ اس کا انتظار کرنے لگی۔ تو۔ ۔ ۔ اس سے آگے انھوں نے کیا بتایا تھا، مجھے صحیح سے یاد نہیں رہا۔

ظہیر عباس کے منہ سے عمران خان کی تعریف سن کے لگتا نہیں تھا، ان کے بیچ میں کبھی کوئی اختلاف بھی رہا ہو گا۔ سبھی جانتے ہیں، عمران خان کپتان نہ ہوتے تو ظہیر عباس تھوڑی اور کرکٹ کھیل لیتے۔

پاکستان ابھی سیمی فائنل نہیں جیتا تھا کہ آصف اقبال کو لارڈز میں 21 جون کو ہونے والا فائنل میچ دیکھنے کا دعوت نامہ موصول ہو گیا۔ آصف لارڈز کے اعزازی رکن ہیں۔ یہ رکنیت (شاید) لارڈز میں ٹیسٹ سینچری اسکور کرنے والے کو دی جاتی ہے۔ آصف اقبال نے طے کر لیا تھا کہ پاکستان سیمی فائنل جیت گیا، تو وہ فائنل لارڈز میں بیٹھ کے دیکھیں گے۔ ایسا ہی ہوا۔ فائنل میں ہم نے انھیں لارڈز سے براہ راست لیا تھا۔ انھی دنوں میں سے کوئی ایک دن تھا، فائنل سے پہلے جب آصف انگلینڈ میں تھے، ظہیر عباس نے پروگرام کے بعد پوچھا، کھانے کو کیا منگوا رہے ہو؟ مہمانو‍ں کی پیٹ پوجا کے لیے ہمیں معمول کے پروگراموں سے کچھ زیادہ بجٹ دیا گیا تھا۔ مہمان کی پسند کا منگا لیا کرتے تھے۔ میں نے کہا، جو آپ کہیں۔ کہنے لگے، آج باہر چل کے کھاتے ہیں۔

ٹھیک دس برس پہلے آج ہی کا کوئی دن تھا، وسیم بادامی، اسسٹنٹ رفیع، میں اور ظہیر عباس انھی کی گاڑی میں نکلے۔ حبیب بنک چورنگی پر پہنچے تو نہ جانے ظہیر عباس کے من میں کیا آیا، ملازم کو کال کی اور ہم سے کہا، چلو گھر چل کے کھاتے ہیں۔ ہم وہاں سے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ان کے گھر آ گئے۔ راستے میں میں نے پوچھا کہ آپ کا تعلق سیال کوٹ سے ہے؟ ظہیر عباس نے منہ بسورتے کہا، میرے والد (شاید دادا) سیال کوٹ سے کراچی آئے تھے۔ میں وہاں کبھی نہیں رہا۔ انٹرویو لیتے کوئی ایسا کہتا تھا تو میں نے تردید نہیں کی۔ مجھے محسوس ہوا کہ انھیں سیال کوٹ سے اپنا ناتا جوڑنے پر کوئی فخر نہیں تھا، بل کہ ناظم آباد گراونڈ کا ذکر کیا، بڑی عقیدت سے اپنے کوچ کا بتانے لگے کہ ان کے کوچ نے ان پر کتنی محنت کی۔ وہ شان دار دور جب سکھانے والے بے غرض ہو کے سکھایا کرتے تھے اور اس کوچنگ کی فیس نہیں ہوتی تھی۔

ظہیر عباس کا گھر کیا تھا، کسی فن کار کے ذوق کا پتا دیتا تھا۔ ظہیر عباس کی مسز نہایت معروف انٹریئر ڈیزائنر ہیں۔ کہتے ہیں، موچی لوگوں کے جوتے سیتا ہے، لیکن اس کا اپنا جوتا ٹوٹا ہوتا ہے۔ اس میں کچھ تبدیلی کی اجازت ہو تو کہوں، انٹریئر ڈیزائنر اپنا گھر ایسا ڈیزائن کرتا ہے کہ تعریف کے لیے الفاظ کم پڑتے ہیں۔

ہم جس کمرے میں بیٹھے تھے، میں نے ایسا کمرا نہ کبھی پہلے، نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔ تمام سرٹفکیٹ، انعامات، تمغے، ٹرافیاں، بیٹ، تصاویر اس سلیقے سے رکھی تھیں، جیسے کرکٹ کی چھوٹی سی گیلری ہو۔ میں اسے آرٹ گیلری کہوں گا۔ کیوں کہ اس کمرے کی سجاوٹ میں کسی آرٹسٹ کا ہاتھ نمایاں تھا۔ ظہیر عباس کے تمام کیریئر کی جھلکیاں، آپ اس کمرے میں دیکھ سکتے ہیں۔

صفائی اور نفاست کے لحاظ سے کچن اور واش روم میں میرا ایک ذوق ہے۔ ابھی تو جیسے تیسے چل رہا ہے کہ غریب بھی ہوں اور غریب الوطن بھی۔ جب کبھی اپنا مکان بنایا تو ان دو کمروں پر سب سے زیادہ خرچ کروں گا، جنھیں کچن اور واش روم کہا جاتا ہے۔ میرے سپنوں کے باتھ روم اور کچن کو بیڈ روم سے بھی بڑا ہونا چاہیے۔ صاف، روشن اور خشک۔ ظہیر عباس کی ’کرکٹ گیلری‘ سے ملحق واش روم اتنا نفیس ہے کہ اس کا نقشہ کھینچنے کو لفظ نہیں ملتے۔ مرمری ٹائلوں پر ہرے پتوں کی بہار۔ دروازے کے بائیں ہاتھ دیوار کے ساتھ لکڑی کا بنچ رکھا تھا، جیسے کسی باغ کا منظر ہو۔ میں وہیں بنچ پر بیٹھ گیا اور پوچھا، ”یہ واش روم ہے یا گارڈن؟ یہاں سے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا“ ۔ انھوں نے اپنے ایک غیر ملکی دوست کا نام لیا کہ وہ جب بھی میرے گھر آتا ہے، اباغ اٹھا کے یہیں بیٹھ جاتا ہے، جہاں تم بیٹھے ہو۔ اسے بھی یہ روم ایسا ہی پسند ہے۔ کھانا ہم نے کھلے آسمان تلے کھایا۔ بنگلے کے صحن نما حصے کے در میان سوئنگ پول، بڑے بڑے پنکھے، اہتمام سے پیش کیا گیا پر لطف کھانا۔ وہ بڑے یاد گار لمحے رہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےکرکٹر آصف اقبال سے میرا سوال اور ان کی حیرانیاے آر وائے کا مذاق اڑانے پر وسیم بادامی کو ڈانٹ پڑنا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 310 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Leave a Reply