توہین مذہب کے الزام میں گرفتار پروفیسر ساجد سومرو ضمانت پر آزاد

سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ خیرپور نمبر ایک جناب قابل مہر کی عدالت نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار پروفیسر ساجد سومرو کو مبلغ پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عیوض ضمانت پر رہائی کا حکم دیا ہے۔

رہائی کا حکم موصول ہوتے ہی خیرپور کے شہریوں کی بڑی تعداد سینٹرل جیل خیرپور پہنچی، جہاں پر پروفیسر ساجد سومرو کو پھولوں کے ہار پہنا کر باہر لایا گیا۔

کیس کی پیروی خیرپور کے نوجوان اور معروف وکلا کے پینل نے کی۔ جس میں خاص طور پر امداد علی خمیسانی، فیاض خمیسانی، سجاد سولنگی، لطیف میربحر، راحب ملانو اور تاج رند کے نام شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایڈوکیٹ امداد خمیسانی نے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ ایف آئی آر من گھڑت، جھوٹ اور افسانے پر مبنی ہے اور اس کا اندراج کرتے ہوئے قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے الزامات عائد گئے ہیں۔ جس میں خصوصاً تعزیرات پاکستان کے قلم 295 اے اور 153 اے کا اطلاق ہی نہیں ہوتا ہے اور انہوں نے اس بات کی امید دلائی تھی کہ وہ بہت جلد اپنے ساتھیوں سمیت پروفیسر ساجد سومرو کو ضمانت پر آزاد کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words