کشور آپا، کورونا اور آمریت کی ملازمت
ممتاز شاعرہ و ادیبہ کشور ناہید بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئی ہیں، دنیا بھر میں ان کے چاہنے والے ان کی 80 ویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ ان کے علیل ہونے کی خبر آ گئی، ان کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے اور وہ قرنطینہ میں ہیں، البتہ بہت حوصلے میں ہیں۔
کشور ناہید کا شمار فہمیدہ ریاض، ادا جعفری اور زہرہ نگاہ جیسی ان بہادر شاعر اور ادیب خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جرات سے پاکستان کے ادبی منظر پر چھائے مرد ادیبوں شاعروں کو پیچھے دھکیل کے رکھ دیا تھا، اس مردانہ سماج میں عورت ہوتے ہوئے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا، حتیٰ کہ فوجی و سول ڈکٹیٹروں کے جبر، دھونس دھاندلی اور پابندیوں سے آلودہ بدترین ادوار میں بھی مسلسل اپنے ہونے کا پتہ دیا
اپنی کتاب ’کشور ناہید کی نوٹ بک‘ کے ابتدائیے میں لکھتی ہیں ”یہ جو میں لکھ رہی ہوں تاریخ نہیں ہے، کسی بادشاہ کے دور کی کہانی نہیں ہے۔ میرے جیسی کمزور عورت نے نوکری کے بیشتر سال آمروں کے دور میں گزارے ہیں، میرے اندر جتنے زخم ہیں وہ خلیل جبران کے کہنے کے باوجود ماضی کو بھلا نہیں سکتی ہوں“ اس کتاب میں جنرل نیازی کی شہوتوں کی تسکین کا سامان کرنے والوں کا بھی اشاروں میں ذکر ہے، جنرل ضیاء الحق کی گاڑی کے آگے لیٹ کر نوکری کی بھیک مانگنے والوں کا بھی، اور جنرل پرویز مشرف کی ہر شام کو ارغوانی بنانے کا جتن کرنے والوں کا تذکرہ بھی۔ ان کا ہر مشاہدہ ملکی حالات کا پتہ دیتا ہے
’ کشور ناہید کی نوٹ بک‘ پاکستان میں مارشل ادوار اور لولی لنگڑی جمہوریتوں کے زمانوں کی بلند آہنگ تاریخ ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ نئی نئی ملازمت پانے والی بچیوں کے سامنے کیا منظر ہوتا تھا جب باس عورت کو سامنے بیٹھا دیکھ کر ننگی عورت کا مجسمہ نکال کر اس کے مختلف حصوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گفتگو کرنا شروع کر دیتا تھا، پی ٹی وی کی اس ڈرامہ سیریل (زرد دوپہر) کی بقیہ قسطوں کا کیا انجام ہوا جو مرحوم میاں شریف (’ابا جی‘) کی طبیعت پر گراں گزری تھی۔ ان کا کہنا تھا ”میں اپنی اس تازہ کتاب کے اگلے ایڈیشن کا نام بدل کے ’سرکاری نوکری کی پوٹلی‘ رکھنا چاہوں گی“


