ڈیرہ اسماعیل خان کی ”انڈپنڈنٹ وومن“ اور ”برقعہ جرنلسٹ“

23 سالہ سمیرا لطیف اور 26 سالہ صابحہ شیخ شعبہ میڈیا سٹڈیز اینڈ کمیونیکیشن گومل یونیورسٹی میں ماسٹر میں کلاس فیلو تھیں اور انہوں نے 2018 میں تعلیم مکمل کی۔ دونوں کاتعلق ایک ہی گاؤں سے ہے اور کلاسز کے لئے پاپردہ آتی تھیں۔ کلاسز کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ سوچنا بھی شروع کیا کہ مستقبل میں کیا کرنا ہے کیونکہ برقعہ پوش خواتین کو میڈیا کی فیلڈ میں کام کرنے کی اجازت ہی نہیں اور نہ ایسی کوئی روایت ہے کہ ان کو مواقع ملے۔ خیرانہوں نے سوچنا شروع کر دیا اور آخر کار ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ ایک ایسا کام شروع کیا جائے جوایک منفرد ہو۔ انہوں نے ”برقعہ جرنلسٹ“ کے نام سے ایک فیس بک پیج بنایا جس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ لوگوں میں ایک نئی سوچ اجاگر کی جا سکے، انہیں بتایا جا سکے کہ برقعہ پابندی نہیں بلکہ حفاظت ہے اور یہ بھی کہ کسی لڑکی کو برقعہ کی وجہ سے میڈیا کی فیلڈ میں آنے سے نہ روکا جائے۔

Read more

خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی حکومت: حکمرانی کی روایت کا تسلسل

ایک طرف لفظ انصاف کو اگر دیکھا جائے تو اس کا مطلب نہ صرف واضح ہے بلکہ جس کسی کے ساتھ اگر ظلم ہوا ہوتو اس کے ہونٹوں پر خوشی کے آثار اور آنکھوں میں جاری آنسو خود بخود سوکھ جاتے ہیں ’اسی طرح اگر لفظ تبدیلی بھی اس کے ساتھ جڑا ہوا ہوتو اس…

Read more