نجی سکولوں کے اساتذہ کو بے یار و مددگار مت چھوڑیں


کرونا کی وبا نے جس طرح دنیا کو اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے۔ وہ ایک بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں بیماری کی وجہ سے اموات میں اضافے نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو دوسری طرف بے روزگاری جیسے مسائل نے سر اٹھالیا ہے جنھوں نے مرے کو مارے شاہ مدار کی مصداق زندگی دشوار کردی ہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف مایوسی بلکہ بہت نفسیاتی بیماریوں کو بھی جنم دیا ہے۔ حالات کی سنگینی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ہر روز کرونا کے باعث بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد آنے والے دن میں امید کی بجائے نا امیدی کا شکار کر رہی ہے۔

روز گار نہ ہونے کے سبب سب سے زیادہ متاثر یا تو روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگ ہیں جس پھر نجی اسکول کے اساتذہ جو نہ صرف یہ کہ بعض اسکولوں سے نکالے جانے کے بعد روزگار کے لیے پریشان اور پھر چپس کا ٹھیلا لگائے اپنی تعلیمی صلاحیت کو چپس بیچنے پر صرف کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ محنت میں کوئی عار نہیں لیکن کیا اس شخص نے اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال اور سرمایہ خرچ کر کے تعلیم اس لیے حاصل کی کہ وہ بہ جائے اس کے اپنی ذہانت اور قابلیت سے ان بچوں کی رہنمائی کرے۔ ابھی ایسی صرف ایک مثال سامنے آئی ہے۔ نہ جانے آنے والا وقت ایسے کتنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس طرح سڑکوں پر لے آئے گا۔

اس مشکل وقت میں ایک اور بات جو مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ یہ وہ مشورے ہیں جو والدین اور حکومت کو مختلف ذرائع سے دیے جا رہے ہیں۔ آواز اٹھانے میں انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں سے لے کر گورنمنٹ اسکول کے وہ اساتذہ بھی شامل ہیں جو کہ گھر بیٹھے ہر ماہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں والدین کو یہ مشورہ دیا جا رہا کہ وہ فیس ادا نہ کریں اور یہ بھی کہ کیوں کہ نجی اسکول کے تمام ٹیچر گھر بیٹھے ہیں اس لیے وہ تنخواہ کے حق دار نہیں اگر وہ تنخواہ کے حق دار نہیں تو پھر گورنمنٹ ٹیچرز کی تنخواہ کیا معنی رکھتی ہے!

کل ایک بڑا قیمتی مشورہ کالج کی ایک پروفیسر صاحبہ کا سامنے آیا کہ جس میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کے انھوں نے والدین کو یہ یقین دلوایا ہے کہ سب اپنے بچوں کو ان نجی اسکولوں سے نکال کر گھر پر پڑوس کے کسی استاد سے ٹیوشن دلوائیں پھر بورڈ سے پرائیویٹ امتحان دلوا دیا جائے اس سے ان کی خطیر رقم بچ جائے گی۔

بہت مناسب کہ پرائیویٹ اسکول بند کر دیے جائیں اور ان کی جگہ گورنمنٹ اسکول میں تعلیم دلوائی جائے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے گا کہ ہمارے ملک میں گورنمنٹ اسکول کی تعلیم کا معیار کیا ہے۔ ایک کلاس میں پچاس سے بھی زیادہ طلباء بٹھائے جاتے ہیں اور انھیں پڑھانے کے لیے صرف ایک ٹیچر! اس بات کو بھی سوچیے کہ گورنمنٹ اسکول کی موجودگی میں نجی اسکول کھلنے کی نوبت کیوں آئی؟ اگر نجی اسکول بند کر دیے جائیں تو کیا اس کے ساتھ اس بات کا بھی انتظام حکومت کرچکی ہے کہ جو ایک کثیر تعداد میں اساتذہ بے روز گار ہوں گے تو انھیں ملازمت فراہم کی جائے گی۔ نجی اسکول کے ٹیچرز گھر بیٹھ کر بھی اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ بچوں کا وقت ضائع نہ ہو علاوہ ازیں یہ کہ کوئی بھی پرائیویٹ ادارہ اپنے ملازمین کو بغیر کام کے تنخواہ ادا نہیں کرتا۔ ادارہ اسی چیک اینڈ بیلنس کے ذریعے کام لے رہا ہے۔

ذرا اس طرف بھی نگاہ دوڑائیے کہ گورنمنٹ اسکول کے ٹیچرز اس وقت کیا کر رہے ہیں۔ گھر بیٹھے کم از کم پچاس ہزار تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ سب کی رائے کیا ہے؟ ان کی تنخواہ بند نہیں ہونی چاہیے یا چلیے کم از کم آدھی ہی کردی جائے بلکہ حکومت نجی اسکول کے اساتذہ کو بھی گھر بیٹھے ان کی یہ آدھی تنخواہ فراہم کرے کیوں کہ یہ سب بھی اس ملک کے وہ شہری ہیں جو ٹیکس بھی پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ ان اساتذہ کے بھی اہل و عیال ہیں۔ وہ سب بھی انسان ہیں۔ ان کی بھی ضروریات ہیں جن کا پورا ہونا بہ حیثیت ایک عزت دار شہری لازم ہے۔

برائے کرم اس بات کا خیال رکھیں نجی اسکولوں کے ایک بھاری تعداد روزگار کا ذریعہ ہے۔ حکومت پہلے ہی اداروں کو پرائیویٹائز کر رہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ نجی اسکول کے مسائل کا خیال رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت ان اداروں پر نظر رکھے کہ یہ اپنے ادارے میں کام کرنے والے اساتذہ کے حقوق جن میں عزت نفس جو بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ مجروح نہ ہو۔ اگر ان مسائل کا خیال نہ رکھا گیا تو جو سنگین نتائج نکلیں گے۔ اس کا اندازہ حکومتی سطح پر ہوجانا چاہیے۔

Facebook Comments HS