داستان گوئی خیال یا حقیقت

داستان گوئی ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو اردو ادب میں رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہے یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ناپید ہو چکی ہے وجہ یہ بتائٰ جاتی ہے کہ چوں کہ یہ دور حقیقت پسندی کا دور ہے لہذا اایسی چیزیں بے کا ر تضیح اوقات ہیں یعنی ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایسی باتیں مضحکہ خیز لگتی ہیں آئیے دیکھتے ہیں کہ داستان گوئی ہے کیا۔ داستان گوئی دراصل قدیم ہندوستانی فن

Read more

نجی سکولوں کے اساتذہ کو بے یار و مددگار مت چھوڑیں

کرونا کی وبا نے جس طرح دنیا کو اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے۔ وہ ایک بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں بیماری کی وجہ سے اموات میں اضافے نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو دوسری طرف بے روزگاری جیسے مسائل نے سر اٹھالیا ہے جنھوں نے مرے کو مارے شاہ مدار کی مصداق زندگی دشوار کردی ہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف مایوسی بلکہ بہت نفسیاتی بیماریوں کو بھی جنم دیا ہے۔ حالات کی سنگینی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ہر روز کرونا کے باعث بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد آنے والے دن میں امید کی بجائے نا امیدی کا شکار کر رہی ہے۔

روز گار نہ ہونے کے سبب سب سے زیادہ متاثر یا تو روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگ ہیں جس پھر نجی اسکول کے اساتذہ جو نہ صرف یہ کہ بعض اسکولوں سے نکالے جانے کے بعد روزگار کے لیے پریشان اور پھر چپس کا ٹھیلا لگائے اپنی تعلیمی صلاحیت کو چپس بیچنے پر صرف کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ محنت میں کوئی عار نہیں لیکن کیا اس شخص نے اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال اور سرمایہ خرچ کر کے تعلیم اس لیے حاصل کی کہ وہ بہ جائے اس کے اپنی ذہانت اور قابلیت سے ان بچوں کی رہنمائی کرے۔ ابھی ایسی صرف ایک مثال سامنے آئی ہے۔ نہ جانے آنے والا وقت ایسے کتنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس طرح سڑکوں پر لے آئے گا۔

Read more

جناب چیف جسٹس صاحب کے بیانیہ کے جواب میں

”گزشتہ دنوں جناب چیف جسٹس صاحب کا ایک حکم نامہ تعلیم کے حوالے سے میڈیا کے ذر یعہ مشتہر ہواکہ تمام نجی اسکولوں کو دو مہینے کی فیس نہ لینے کا پابند کیا جائے، نا صرف یہ بلکہ ان کا کہنا تھا میری خواہش تو یہ ہے کہ ان نجی اسکولوں کو نیشنلائزاڈ کر دیا جائے تاکہ سرکاری اسکول کے تمام طلباء کو یکساں تعلیم دی جاسکے۔ ‘‘ واقعی اس لحاظ سے یہ فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے کہ

Read more