کرونا کی وبا نے جس طرح دنیا کو اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے۔ وہ ایک بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں بیماری کی وجہ سے اموات میں اضافے نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو دوسری طرف بے روزگاری جیسے مسائل نے سر اٹھالیا ہے جنھوں نے مرے کو مارے شاہ مدار کی مصداق زندگی دشوار کردی ہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف مایوسی بلکہ بہت نفسیاتی بیماریوں کو بھی جنم دیا ہے۔ حالات کی سنگینی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ہر روز کرونا کے باعث بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد آنے والے دن میں امید کی بجائے نا امیدی کا شکار کر رہی ہے۔
روز گار نہ ہونے کے سبب سب سے زیادہ متاثر یا تو روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگ ہیں جس پھر نجی اسکول کے اساتذہ جو نہ صرف یہ کہ بعض اسکولوں سے نکالے جانے کے بعد روزگار کے لیے پریشان اور پھر چپس کا ٹھیلا لگائے اپنی تعلیمی صلاحیت کو چپس بیچنے پر صرف کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ محنت میں کوئی عار نہیں لیکن کیا اس شخص نے اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال اور سرمایہ خرچ کر کے تعلیم اس لیے حاصل کی کہ وہ بہ جائے اس کے اپنی ذہانت اور قابلیت سے ان بچوں کی رہنمائی کرے۔ ابھی ایسی صرف ایک مثال سامنے آئی ہے۔ نہ جانے آنے والا وقت ایسے کتنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس طرح سڑکوں پر لے آئے گا۔
Read more