کیا ہم جاہل قوم ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب اس بات میں رتی برابر بھی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ ہم ایک جاہل قوم ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ببانگ دہل فرمایا ہے کہ شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہو گی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔ وہ یہ باتیں کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاط کے تناظر میں کہہ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا ہم ایسی قوم ہیں جو بالکل بات نہیں مانتے۔ خاص طور پر لاہوریے ایک علیحدہ مخلوق ہیں اللہ کی۔

واقعی یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے کہ عوام نے ووٹ کی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ اچھا خاصا زندگی کا نظام چل رہا تھا ڈالر کو پر نہیں لگے تھے، سونا ایک لاکھ روپے تولہ نہیں اس سے آدھی قیمت پر ملتا تھا۔ پیٹرول ارزاں نرخوں پر دستیاب تھا۔ نہ گندم کا بحران تھا نہ آتے کی قلت۔ ہر سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہو جاتا تھا۔ جب معاملات پرسکون انداز میں چل رہے تھے تو کیا ضرورت تھی اپنی زندگی کے دریا میں تلاطم برپا کرنے کی۔

ظاہر ہے وجہ جہالت ہے۔ جاہل عوام نے زندگی تبدیل کرنے کی ٹھان لی تھی۔ تو ہو گئی تبدیل۔ ڈاکٹر صاحبہ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ قوم نے اسی جہالت کے ساتھ انہیں اقتدار کی کرسی پر بٹھایا اب یہی جہالت انہیں بری لگنے لگی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک بات اور ہے اور وہ قابل غور ہے کہ قوم کس کی بات پر کان دھرے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی بات مانے یا اپنے محبوب قائد کی۔ کیا ڈاکٹر صاحبہ کو یاد نہیں کہ مارچ میں جب کورونا کی وبا پاکستان میں پھیلنا شروع ہوئی اور سندھ کی صوبائی حکومت نے اس حوالے سے سخت اقدامات کا اعلان کیا تو انہیں وفاق کی طرف سے کس قدر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ قوم کو خواہ مخواہ ڈرا رہے ہیں۔

وزیر اعظم خود فرما چکے ہیں کہ کورونا بھی ایک فلو ہی ہے۔ اگر کسی کو کورونا ہو جائے تو خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے اس لئے گھبرانا نہیں ہے۔ اب اگر قوم بے خوفی سے بغیر گھبرائے بازاروں میں گھوم رہی ہے، ماسک نہیں لگاتی، فاصلہ نہیں رکھتی تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔

قوم کی جہالت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس نے یہ سمجھ لیا کہ کبڈی کے کھلاڑی شطرنج بھی بہت عمدہ کھیلیں گے۔ حالاں کہ ہر کھیل کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ کبڈی کا کھلاڑی خواہ جسمانی طور پر کتنا ہی توانا کیوں نہ ہو شطرنج کی بازی میں ہار جاتا ہے۔ شطرنج کو سمجھنا شطرنج کے کھلاڑی ہی کا کام ہے خواہ وہ اتنا کمزور ہو چکا ہو کہ کسی کے سہارے سے چلتا ہو۔ شطرنج کے کھیل میں جسم سے نہیں دماغ سے کام لینا پڑتا ہے۔ یہ معمولی سی بات جاہل قوم سمجھ نہ سکی۔

عوام کی جہالت کا عکاس ایک اور نکتہ یہ ہے کہ بہت پہلے سے ہی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ تبدیلی کے علم بردار کیسی زبان استعمال کرتے ہیں۔ خواہ ان کا تعلق پہلی صف سے ہو یا آخری سے۔ کئی نمائندے ٹی وی کے شوز میں کف اڑاتے نظر آتے تھے تو کئی جلسوں میں دشنام طرازی کرتے تھے۔ سابق وزیر اطلاعات تو دو تین دفعہ مخالفین کے منہ پر تھپڑ بھی رسید کر چکے ہیں۔ خود ڈاکٹر یاسمین راشد صحافیوں کے خوب لتے لے چکی ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جو پھلجھڑیاں چھوڑتی رہی ہیں ان سے بھی قوم واقف ہے۔ اس کے باوجود قوم نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا کہ ایک دن وہ یہ سنہری الفاظ سن سکیں۔

وزیراعظم بھی لاک ڈاؤن کے مخالف ہیں وہ کہہ چکے ہیں کہ لاک ڈاؤن کرنے سے بے چارے غریب لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ شاید ڈاکڑ صاحبہ اپنی گونا گوں مصروفیات کی وجہ سے وزیر اعظم کی تقریر نہیں سن پائیں اس لئے لوگوں کو گھر میں رہنے کا مشورہ دے رہی ہیں اور باہر نکلنے پر برہمی کا اظہار کر رہی ہیں۔ اصل میں جاہل قوم سمجھ نہیں پا رہی کہ کیا کرے۔ اگر ساری قوم گھروں میں بند ہو جائے تو یہ لاک ڈاؤن والی صورت حال ہوگی۔ اسی نوے فی صد قوم غریب ہے۔ اب کام دھندے کے لئے باہر نکلتی ہے تو ڈاکٹر صاحبہ کو برا لگتا ہے۔ صرف لاہور کی آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ ہے اس میں سے آدھے غریب لوگ بھی کام کی غرض سے باہر نکلیں تو سوا کروڑ لوگوں کا رش نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا۔

قوم کو یہ علم بھی ہے کہ گھر رہنے کی صورت میں وہ واقعی بھوک سے مر جائیں گے کیوں کہ حکومت صاف کہہ چکی ہے کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ مریضوں کو وینٹی لیٹر بھی مہیا کر سکیں اس لئے اگر کوئی بیمار ہو جائے تو خود ہی گھر پر اپنا علاج کر لے۔ جب دوا اور علاج بھی میسر نہیں تو روکھی سوکھی کھانے کے لئے قوم کو خود ہی ہاتھ پیر مارنے ہوں گے۔ چناں چہ قوم باہر نکلتی ہے یہ سننے کے لئے کہ ہم جاہل ہیں۔

قوم بالکل بھول چکی ہے کہ اس نے تبدیلی سرکار کو اپنے ووٹوں سے بھاری اکثریت کیوں دلائی تھی۔ وہ خوشحالی دیکھنے کے لئے جو وطن عزیز میں اس سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ ایک ایسا ملک جو کرپشن سے پاک ہو گا۔ لاکھوں گھروں اور کروڑوں نوکریوں کے لئے۔ ملک کا قرض چکانے کے لئے۔ اب سرکار کے اپنے لوگ ہی کرپشن میں ملوث نکلتے ہیں تو قوم خوش ہو کر تالیاں بجاتی ہے کہ دیکھا کرپشن کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ قرض چکانے کی بجائے مزید لیا جا رہا ہے۔ لوگ گھروں سے فٹ پاتھوں پر آ گئے ہیں۔ نئی نوکریاں ملی نہیں اور پہلی بھی جاتی رہیں۔ اس کے باوجود جب قوم کے کسی فرد سے پوچھا جائے کہ تبدیلی لا کر اب تمہارا کیا حال ہے؟ تو شاعرانہ انداز میں کہتا ہے کہ زندگی میں غم ہے، غم میں درد ہے، درد میں مزہ ہے اور مزے میں ہم ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ہم جاہل قوم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply